ایک سفر جو نیکی بن گیا

ساون کی بارشوں سے موسم کی شدت میں پہلے ہی تبدیلی محسوس ہو رہی تھی، لیکن بھادوں کے آغاز سے ہی گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارشوں کا سلسلہ کئی دنوں سے جاری ہے۔ ایک جانب موسم نے بھی انگڑائی لی ہے تو دوسری جانب ندی نالوں میں طغیانی اور تالابوں میں پانی جل تھل نظر آنے لگا ہے۔ موسمِ برسات نے درختوں پر بھی بہار سی برپا کر دی ہے۔ پہاڑی ٹیلوں پر کھڑے درخت ایک الگ ہی سماں پیدا کیے ہوئے ہیں۔ سورج کی روشنی میں نیلے آسمان پر سفید بادلوں کا دلفریب نظارہ بھی قابلِ دید ہوتا ہے۔

ان دنوں اتفاق سے بارشوں کا یہ سلسلہ رات گئے شروع ہوتا ہے اور سورج طلوع ہوتے ہی بادل چھٹ کر کناروں کا رخ کرنے لگتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے نمازِ فجر کے بعد صبح کی سیر میری زندگی کا معمول بنی ہوئی تھی، لیکن بھادوں کی بارشوں نے میرا شیڈول بھی متاثر کر دیا۔ اب صبح کے بجائے نمازِ عصر کے بعد واک کے لیے نکلنے لگا ہوں۔

شام کے اوقات میں پرندے غول کی صورت میں، لمبی قطاریں بنائے اپنے گھونسلوں کی جانب رختِ سفر باندھتے نظر آتے ہیں۔ سورج ڈھلنے کے وقت تناور درختوں پر پرندوں کی چہچہاہٹ اور ان کی اٹھکیلیوں کا منظر بھی قابلِ دید ہوتا ہے۔

گزشتہ شام بھی حسبِ معمول واک کے دوران موسم سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اچانک موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ کال ریسیو کی تو دوسری جانب سے آنے والی ’’ہیلو‘‘ کی آواز کچھ جانی پہچانی سی لگی۔ میرے استفسار سے پہلے ہی گویا ہوئے:

’’میں آپ کا دوست محمد علی ہوں۔۔۔‘‘

کہنے لگے، ’’کل صبح میں پاکستان پہنچ رہا ہوں۔ اس دفعہ گھر والوں کو سرپرائز دینا چاہتا ہوں۔ آج شام برطانیہ سے میری پرواز ہے اور صبح سوا سات بجے آپ نے مجھے ایئرپورٹ سے ریسیو کرنا ہے۔‘‘

ساتھ ہی دوست نے کنفرم ٹکٹ بھی واٹس ایپ کر دیا۔

میں معمول سے کچھ پہلے ہی رات کو سو گیا تاکہ صبح بروقت بیدار ہو کر اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچ سکوں اور دوست کا استقبال کر سکوں۔

رات گئے حسبِ معمول ایک بار پھر طوفانی بارش ہوئی۔ سوتے ہوئے بھی بادلوں کے گرجنے کی آوازیں کانوں میں آتی رہیں۔ فجر کے وقت بارش میں کچھ ٹھہراؤ آ چکا تھا، تاہم آسمان پر کالے بادل ابھی بھی چھائے ہوئے تھے۔ گاڑی صحن سے نکالی تو بارش کی رم جھم جاری تھی۔ گلیاں اور نالے پانی سے بھرے ہوئے تھے جبکہ گھروں کے برنالوں اور نالوں سے گرتے پانی کی آوازیں ایک عجیب سی ہیبت پیدا کر رہی تھیں۔

لیکن سفر کرنا بھی شاید ضروری تھا۔

ابھی کلرسیداں روڈ پر پہنچا ہی تھا کہ طوفان سے گرا ہوا ایک بڑا درخت سڑک پر پڑا نظر آیا۔ میں گھبرا سا گیا کہ اب تو ہر صورت ایئرپورٹ پہنچنے میں تاخیر ہو جائے گی۔ اتوار کی چھٹی اور صبح سویرے کا وقت ہونے کی وجہ سے سڑک پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔ درخت کے ایک کنارے سے گاڑی گزارنے کی کچھ جگہ نظر آئی اور بڑی مشکل سے وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔

ابھی دو کلومیٹر ہی کا سفر طے کیا تھا کہ مانکیالہ پل کی ایک جانب لوگوں کی بھیڑ نظر آئی۔ جلدی میں ہونے کی وجہ سے میں اس ہجوم کی وجہ سمجھ نہ سکا۔ پل کے وسط میں پہنچا تو مانکیالہ ریلوے اسٹیشن پر کئی ریل گاڑیاں رکی ہوئی نظر آئیں، لیکن دوست کو بروقت ریسیو کرنے اور اس کے استقبال کے شوق میں نہ تو گاڑی کی رفتار کم کی اور نہ ہی ٹرینوں کے رکے ہونے کی وجہ جاننے کی طرف توجہ دی۔

پل کی دوسری جانب پہنچا تو وہاں بھی لوگوں کا ایک بڑا رش لگا ہوا تھا۔

خیال آیا کہ کہیں ٹرینوں کو خدانخواستہ کوئی حادثہ یا فنی خرابی تو پیش نہیں آ گئی؟

قریب جا کر دیکھا تو مسافر ٹرینوں سے اتر کر بارش میں سڑک کے کنارے کھڑے تھے اور اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے بس یا ویگن کا انتظار کر رہے تھے۔ لوکل روٹ ہونے کی وجہ سے صبح سویرے پبلک ٹرانسپورٹ ملنا بھی تقریباً ناممکن تھا۔

مسافروں کو بارش میں بھیگتے دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا۔ گاڑی روکی تو ایک ہجوم سا میری جانب بڑھا، لیکن میری نظر سب سے پہلے ایک خاتون پر پڑی جن کے چہرے سے بیماری کے آثار نمایاں تھے۔ ان کے ساتھ ایک شخص بھی تھا جو لفٹ لینے کے لیے بار بار ہاتھ ہلا رہا تھا۔

میں نے گاڑی روک کر انہیں سوار ہونے کی دعوت دی۔ وہ اطمینان سے بیٹھ گئیں۔ گاڑی سیون سیٹر تھی، اس لیے مزید گنجائش موجود تھی۔ چنانچہ میں نے تین مزید مسافروں کو بھی گاڑی میں بٹھا لیا۔

میں نے رش کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ رات ہونے والی شدید بارش کے باعث مانکیالہ کے قریب ریلوے ٹریک سیلابی پانی میں ڈوب چکا ہے اور مزید آگے جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ راول ایکسپریس رات بارہ بجے لاہور سے روانہ ہوئی تھی اور صبح تقریباً چار بجے مانکیالہ پہنچ کر رک گئی۔ ابھی تک ٹرین کا راستہ بحال ہونے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی جا رہی تھی، اس لیے مسافر ٹرین چھوڑ کر سڑک پر آنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

پچھلی نشست پر بیٹھے تین مسافروں کو اسلام آباد کی جانب جانا تھا، اس لیے وہ روات ٹی چوک کے قریب اتر گئے۔ خاتون اور ان کے ساتھ موجود شخص بدستور گاڑی میں سوار رہے۔

میں نے ان سے پوچھا، ’’آپ نے کہاں تک جانا ہے؟‘‘

انہوں نے جواب دیا، ’’ہمیں پنڈی صدر تک جانا ہے۔‘‘

میں ایئرپورٹ بروقت پہنچنے کے لیے قدرے تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا تھا۔ گاڑی جب پشاور روڈ پر صدر ایم ایچ ہسپتال کے سامنے پہنچی تو خاتون اور ان کے ساتھی نے کہا:

’’بھائی صاحب، ہمیں یہیں اتار دیں۔‘‘

وہ شکریہ اور دعائیں دیتے ہوئے گاڑی سے اترے اور ہسپتال کے گیٹ کی جانب چلے گئے۔

میں بھی آگے بڑھنے سے پہلے چند لمحوں کے لیے رک گیا۔ معمول کے مطابق موبائل فون نکالا اور واٹس ایپ کھولا تو دوست کا ایک پیغام سامنے تھا، جو رات ہی کو موصول ہو چکا تھا:

’’دوست! ہماری فلائٹ کینسل ہو گئی ہے۔ نئی فلائٹ کے بارے میں آپ کو مطلع کر دوں گا۔‘‘

یہ پیغام نہ میں رات کو پڑھ سکا تھا اور نہ ہی صبح گھر سے نکلنے سے پہلے اسے دیکھ پایا تھا۔

ایک لمحے کے لیے دل میں خیال آیا کہ اتنی جلدی اور اتنی مشکل سے ایئرپورٹ جانے کی کیا ضرورت تھی؟ لیکن فوراً ہی دل نے کہا کہ شاید اس سفر کا مقصد کچھ اور تھا۔

میں نے پریشان ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا، گاڑی یو ٹرن سے واپس موڑی اور دل میں ایک خیال ابھرا:

شاید اللہ تعالیٰ نے مجھے اسی بیمار مسافر کے لیے مسیحا بنا کر بھیجا تھا۔

شاید صبح سویرے مجھے کسی نیکی کا وسیلہ بنانا مقصود تھا۔ دوست کو ایئرپورٹ سے ریسیو کرنے کے لیے میں گھر سے نکلا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے راستے میں ایک بیمار انسان کو ہسپتال پہنچانے کا ذریعہ بنا دیا۔

انسان اپنے لیے منصوبے بناتا ہے، لیکن فیصلے اللہ تعالیٰ کے ہوتے ہیں۔ بسا اوقات ہم ایک مقصد کے لیے سفر شروع کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں کسی دوسرے، زیادہ بہتر مقصد تک پہنچا دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ہر کام اور ہر فیصلے میں خیر و بہتری ہوتی ہے۔ وہ بہتر جاننے والا اور بہتر اسباب پیدا کرنے والا ہے۔

میں دوست کو ایئرپورٹ سے ریسیو تو نہ کر سکا، لیکن ایک مریض کو ہسپتال پہنچانے کا وسیلہ ضرور بن گیا۔

الحمدللہ!

شاید میری منزل ایئرپورٹ نہیں، کسی ضرورت مند انسان تک پہنچنا تھی۔