ایان قتل کیس نے نیا رخ اختیار کرلیا،لواحقین کا سی سی ڈی تفتیش پر تحفظات کا اظہار

گوجرخان(پنڈی پوسٹ نیوز)ایان قتل کیس میں لواحقین نے کیس کی تفتیش کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی سی ڈی کے تفتیشی افسر سے رابطے کی متعدد کوششوں کے باوجود فون کالز کا جواب نہیں دیا جا رہا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کی جانے والی کالز کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔

لواحقین کے مطابق کیس کی تحقیقات کے دوران شعیب بٹ کے موبائل فون سے مبینہ طور پر کم عمر بچوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد ہونے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، تاہم ان کے بقول ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ مبینہ طور پر بلیک میلنگ کا نشانہ بننے والے بچے کون تھے۔

ذرائع کے مطابق تفتیش میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ ایان کم عمر اور ناسمجھ تھا اور مبینہ طور پر شعیب بٹ نے اسے کامران خان کو اپنے ڈیرے پر لانے کا پیغام دیا۔ ذرائع کے مطابق ایان نے یہ پیغام کامران کو پہنچایا، جس کے بعد مبینہ طور پر وہ مشتعل ہوگیا اور ایان کو قتل کردیا۔ لواحقین کا الزام ہے کہ اس واقعے میں شعیب بٹ کا بھی کردار ہے اور اس پہلو کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔

لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ شعیب بٹ کے موبائل سے برآمد ہونے والی مبینہ ویڈیوز اور دیگر شواہد کو قانون کے مطابق محفوظ رکھتے ہوئے تفتیش میں شامل کیا جائے تاکہ کیس کے تمام پہلو سامنے آسکیں اور کسی بھی مبینہ شریکِ جرم کو قانون کے مطابق سزا مل سکے۔

لواحقین نے ایس ایچ او گوجرخان کی جانب سے کیس کی تفتیش اور ملزم تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس افسر نے دن رات محنت اور لگن سے کیس کا سراغ لگانے میں کردار ادا کیا۔

لواحقین کے مطابق وہ کل صبح11 بجے سی سی ڈی مورگاہ آفس جائیں گے اور تفتیشی افسر سے ملاقات کرکے اپنے تحفظات اور مطالبات پیش کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ تفتیشی افسر کا لواحقین سے تعاون نہ کرنا اور فون کالز کا جواب نہ دینا باعثِ تشویش ہے۔

لواحقین نے مطالبہ کیا کہ ایان قتل کیس کی تفتیش شفاف انداز میں مکمل کی جائے اور تمام دستیاب شواہد کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔