اپنی مدد اپ کے جذبہ میں ملکی خوشحالی کا راز پوشیدہ


دنیا میں بہت سے رشتے ہیں خون کے رشتے۔دوستی کے رشتے۔محبت کے رشتے لیکن دنیامیں سب اہم اور اہمیت احساس کے رشتے کی ہے دوستی کے رشتے ہوں یا خون کے ان میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں اور دورِ موجود میں تو ایسے ایسے واقعات رونما ہورہے کہ دوستی بھائی چارگی اور خون کے رشتوں سے اعتماد ہی اٹھ گیا ہے۔
لیکن احساس کا رشتہ ازل سے ابتد تک اپنی اہمیت نہیں کھو سکتا۔ہر شخص کے نزدیک کوئی نہ کوئی ایک ایسی چیز ضرور ہوتی ہے جو بے حد اہمیت رکھتی ہے چاہے وہ محبت ہو محبت کی نشانی ہو یا کسی عقیدت وچاہت کے جذبے منسلک ہو یا پھر خدمت انسانی یا رضا ربی اور رضا ربی کا احساس رکھنے والے موجودہ معاشرے میں تعداد کے لحاظ سے بے شک کم ہوں لیکن خداوند تعالیٰ کی رضا کے لیے کام کرنے والا ہر شخص سینکڑوں پر بھاری ہے۔
میری تحریر کا محور بھی ایسی شخصیات ہیں جو مالک کائنات کی خوشنودی کے لیے انسانوں کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا چکے ہیں۔سرزمینِ پوٹھوار رضا خداوندی کے لیے فلاحی کام کرنے والے دریا دل لوگوں کے حوالے سے بہت ہی زرخیز ہے رب کائنات کا اس دھرتی پر کرم خاص ہے کہ یہاں بسنے والے مخیر اور صاحب حیثیت لوگ اپنے رزق حلال سے علاقے کے مستحق لوگوں کی نہ صرف خاموشی سے خدمت کرتے ہیں بلکہ عوام کو درپش مسائل کے حل کی خاطر بھی دل کھول کر سرمایہ لگاتے ہیں۔
ان لوگوں کا تعلق نہ سیاست سے ہے اور نہ ہی یہ اپنے فلاحی کاموں کی تشہیر کرتے ہیں۔جو کام سیاست دانوں اور حکمرانوں کو کرنا چاہیے وہ ہمارے اوورسیز اور مقامی صاحب حیثیت لوگ کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے نام نہاد رہبروں کے نعرے وعدے اور بیانات ایسے ہوتے ہیں جو سننے اور پڑھنے میں بہت حسین دل آویز‘ولولہ انگیز اور تاثر آمیز ہوتے ہیں لیکن ان پر کوئی رہبر و رہنما عمل نہیں کرتا ان کے فرمودات تو بس خوش خطی سے لکھوا کر گھروں‘دفاتر مطالعہ گاہوں اور چوک چوراہوں میں آویزاں کرنے کے لیے ہوتے ہیں یا اختیارات کی خالی جگہوں کو پر کرنے کے لیے کار آمد ہوتے ہیں۔
آج تک کسی منتخب قومی وصوبائی نمائندے نے اپنی جیب سے عوامی مفاد کا کوئی کام نہیں کیا بیول سموٹ روڑ برسوں سے عوام الناس کے لیے ایک تکلیف دہ سچویشن لیے ہوئے تھی۔حکومتیں آتی جاتی رہی مختلف جماعتوں کے لوگ کامیاب ہوکر اسمبلیوں میں بھی پہنچتے رہے لیکن کسی کو بھی اس سڑک پر سفر کرنے والی عوام کی تکلیف کا احساس نہ ہوا بلاآخر اس سٹرک کو اپنی مدد آپ کے تحت بنانے کا بیڑا چوہدری فیاض آف گولین نے اٹھایا اور علاقے کے اوورسیز پوٹھواری اور مقامی صاحب حیثیت افراد سے اس کار خیر میں مدد کی اپیل کی جس پر درجنوں افراد نے لبیک کہا اور ہر کسی نے اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالا آج اس سڑک پر سفر آسان اور سہل ہوچکا گزشتہ ماہ 23جولائی شیخ نیوز ایجنسی
بیول کے اونر نوجوان شیخ شبیر کی جانب سے ان کی آئی ڈی پر بیول سے اسلام پورہ جبر جانے والی سڑک پر واقع برساتی نالے (کانسی)پر بنی پلیا کے دونوں سائڈ پر حفاظتی ریلنگ نہ ہونے اور بارشوں کے باعث پانی کی سطح کا بلند ہوکر پلی کے اوپر گزرنے کے دوران پلی کی حد کا تعین نہ کر پانے سے اکثر حادثات رونما ہونے کے بارے آگاہی دی گئی
جس پر فیاض آف گولین نے اس کام کا بیٹرا بھی اٹھایا اور گزشتہ دنوں اس پلی کے دونوں سائڈ پر حفاظتی گرل لگانے کے لیے پیمائش وغیرہ کی گئی اس موقع پر چوہدری زبیر نامی اوورسیز پاکستانی نوجوان نے فیاض صاحب سے ریکوسٹ کی کہ اس نیک کام کی سعادت انہیں حاصل کرنے دی جائے جس پر فیاض صاحب نے رضامندی کا اظہار کیا اور پھر زبیر نامی اس نوجوان نے نہ صرف پلی پر لوہے کی حفاظتی گرل لگوائی بلکہ اس کو خوبصورت اور جاذب نظر بنانے کے لیے گرل کے دونوں طرف شروع اور آخر میں ستون نصب کروائے جن پر چودہ اگست یوم آزادی کی مناسبت سے پاکستان جھنڈے پینٹ کروائے۔چوہدری فیاض صاحب اور چوہدری زبیر صاحب کی کوشش سے جہاں پلی سے گزرنے والے لوگ محفوظ ہوئے وہیں یہ پلی اور اس پر پاکستانی جھنڈے کے رنگوں سے رنگے چار ستون منظر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے نظر آتے ہیں۔پلی پر حفاظتی گرل لگوانا یقیناَ ایک بہت اچھا اور قابل ستائش اقدام ہے لیکن مجھے اس سے زیادہ خوشی اس نوجوان کی پاکستان سے محبت اور انسیت دیکھ کر ہوئی۔ یہی نوجوان پاکستان کامستقبل ہیں میری پیدائش سندھ میں ہوئی اور فیملی کی بیول میں آبادی کاری کے باوجود میں سندھ میں ہی رہائش پذیر ہوں کبھی بارہ پندرہ روز کے لئے بیول اپنے گھر جانا ہوتا ہے تو دن کے وقت ٹھکانہ شیخ شبیر صاحب کی نیوز ایجنسی ہی ہوتی ہے جہاں میرے بہت ہی محترم اور خلوص کے پیکر چوہدری طاہر صاحب اور شیخ صاحب سے ملکر اپنے دکھ سکھ شیئر کرتا ہوں میں فیاض صاحب اور زبیر صاحب سے کبھی ملا نہیں ان سے کبھی فون پر بھی بات نہیں ہوئی لیکن ان کی علاقے کے لیے خدمت نے مجھے ان کو خراج عقیدت پیش کرنے پر مجبور کیا اللہ رب کائنات فیاض صاحب اور زبیر صاحب کے عوام کو اس ریلیف فراہمی کا اجرء عظیم عطا فرمائیں
شیخ شبیر صاحب اور دیگر نوجوانوں کی جانب سے علاقے کے ایسے مسائل پر اکثر آگاہی کی پوسٹیں کی جاتی ہیں جس پر ہمارے خطہ پوٹھوار کے اوورسیز پاکستانی لبیک کہتے ہیں اور اوورسیز پوٹھواریوں شہزادوں کی علاقے کی عوام کے لیے تڑپ اور درد اس مسلے کے حل کا ذریعہ بن جاتا ہے شیخ شبیر صاحب نے حالیہ دنوں میں بیول ٹو سموٹ روڑ پر ایک ایسی ہی پلی کی نشاندھی بھی کی ہے جو بارشوں کے دوران بہت خطرناک ہوجاتی ہے اس پلی سے کچھ عرصہ قبل ایک نوبیاہتا جوڑے کے بہہ جانے کا افسوسناک اور خون رولانے والا واقعہ بھی رونما ہوچکا ہے۔مجھے کامل یقین ہے کہ ہمارے اوورسیز مہربان دوست اس مسلے پر بھی اسی طرح آگے بڑھیں گے جس طرح چوہدری فیض صاحب اور چوہدری زبیر صاحب نے بیول ٹو جبر روڑ کے مسلے پر آگے بڑھ کر اپنے لوگوں کو محفوظ بنایاطالب حسین آرائیں