ہم ڈگریاں بانٹتے ہیں، مہارتیں نہیں

آج کا نوجوان ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف تعلیم کے دروازے پہلے سے کہیں زیادہ کھلے ہیں، یونیورسٹیاں، ڈگریاں، سرٹیفکیٹس اور کورسز کی بھرمار ہے، جبکہ دوسری طرف بے روزگاری کا وہ اندھیرا ہے جو ہر تعلیم یافتہ نوجوان کو کسی نہ کسی مرحلے پر اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ نوجوان پڑھا لکھا ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا نوجوان کے پاس وہ مہارتیں موجود ہیں جو عملی دنیا اس سے مانگتی ہے؟ یہی وہ خلا ہے جسے آج دنیا “اسکل گیپ” یعنی مہارتوں کا فرق کہتی ہے، اور یہی خلا نوجوانوں کی بے روزگاری کی سب سے بڑی وجہ بنتا جا رہا ہے۔

ہمارے معاشرے میں تعلیم کو ہمیشہ کامیابی کی ضمانت سمجھا گیا۔ بچپن سے یہ سکھایا گیا کہ اچھے نمبر، اچھی ڈگری اور معروف ادارے سے تعلیم حاصل کر لی جائے تو مستقبل خود بخود سنور جائے گا۔ لیکن وقت کے ساتھ یہ تصور اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ آج کا دور صرف اس بات پر قناعت نہیں کرتا کہ آپ نے کیا پڑھا ہے، بلکہ یہ پوچھتا ہے کہ آپ کیا کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام نے طلبہ کو یہی سکھایا کہ امتحان کیسے پاس کیا جاتا ہے، مگر یہ نہیں سکھایا کہ زندگی اور روزگار کے امتحانات کیسے جیتے جاتے ہیں۔

اسکل گیپ دراصل تعلیم اور مارکیٹ کی ضرورت کے درمیان پیدا ہونے والا فاصلہ ہے۔ ادارے ایسے نوجوان چاہتے ہیں جو مسئلہ حل کر سکیں، مؤثر انداز میں بات کر سکیں، ٹیم کے ساتھ کام جانتے ہوں، ٹیکنالوجی سے واقف ہوں اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ لیکن تعلیمی ادارے اب بھی وہی پرانے نصاب پڑھا رہے ہیں جو برسوں پہلے تیار کیے گئے تھے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان ہاتھ میں ڈگری لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے اور ادارے یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ قابل افراد دستیاب نہیں۔

ہمارے ہاں بے روزگاری کو اکثر آبادی میں اضافے یا وسائل کی کمی سے جوڑ دیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صرف روزگار کی کمی نہیں بلکہ مہارت کی عدم مطابقت ہے۔ کئی شعبے ایسے ہیں جہاں کام کے مواقع موجود ہیں، مگر ان کے لیے مطلوبہ مہارتیں رکھنے والے افراد نایاب ہیں۔ ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل میڈیا، ڈیٹا اینالیسس، فری لانسنگ، ای کامرس اور جدید مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں مواقع تو ہیں، مگر ہمارا نوجوان اب بھی روایتی نوکری کے تصور سے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔

اس اسکل گیپ کی ایک بڑی وجہ ہمارا امتحان پر مبنی تعلیمی نظام ہے۔ یہاں یادداشت کو ذہانت سمجھا جاتا ہے، جبکہ تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ اور عملی تجربے کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ طلبہ پورا سال اس فکر میں گزار دیتے ہیں کہ کون سا سوال امتحان میں آئے گا، نہ کہ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ یہ علم عملی زندگی میں کہاں اور کیسے استعمال ہوگا۔ نتیجتاً جب یہی طلبہ عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کے پاس معلومات تو ہیں مگر مہارت نہیں۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہنر کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔ ہنر مند ہونا اب بھی بہت سے خاندانوں میں ناکامی کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ والدین چاہتے ہیں کہ بچہ ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بنے، چاہے اس کی صلاحیت کسی اور سمت میں کیوں نہ ہو۔ اس سوچ کے باعث فنی تعلیم، ووکیشنل ٹریننگ اور اسکل بیسڈ لرننگ کو وہ اہمیت نہیں ملتی جس کی وہ مستحق ہے۔ حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہی ہنر معاشی استحکام کی بنیاد بنتے ہیں۔

ڈیجیٹل دور نے اس اسکل گیپ کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، مشینیں اور مصنوعی ذہانت کئی روایتی نوکریاں ختم کر رہی ہیں، جبکہ نئی نوکریاں جنم لے رہی ہیں۔ لیکن ہمارے نوجوان کو اس تبدیلی کے لیے تیار نہیں کیا جا رہا۔ اسکول اور یونیورسٹیاں اب بھی اس رفتار سے نہیں بدل رہیں جس رفتار سے دنیا بدل رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان تعلیم مکمل کرتے ہی خود کو غیر متعلق محسوس کرنے لگتا ہے۔

اس اسکل گیپ کا سب سے خطرناک پہلو اس کے سماجی اثرات ہیں۔ بے روزگاری صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور سماجی بحران بھی ہے۔ مسلسل ناکامی نوجوان کو مایوسی، احساسِ کمتری اور غصے کی طرف لے جاتی ہے۔ یہی مایوسی سماج میں بے چینی، جرائم اور منفی رویوں کو جنم دیتی ہے۔ جب نوجوان خود کو غیر ضروری محسوس کرنے لگے تو وہ معاشرے کے لیے بوجھ بن جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ اس معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس صورتحال کی ذمہ داری صرف نوجوان پر عائد ہوتی ہے؟ جواب یقیناً نہیں۔ یہ ایک اجتماعی ناکامی ہے۔ تعلیمی ادارے، پالیسی ساز، والدین اور خود نوجوان سب اس میں برابر کے شریک ہیں۔ ادارے اگر صرف ڈگریاں بانٹیں گے اور مہارتیں پیدا نہیں کریں گے تو اسکل گیپ بڑھتا جائے گا۔ والدین اگر بچوں کی صلاحیتوں کو سمجھنے کے بجائے سماجی دباؤ کے تحت فیصلے کریں گے تو مسئلہ مزید سنگین ہوگا۔ اور اگر نوجوان خود سیکھنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا تو وہ اس دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔

اس مسئلے کا حل کسی ایک قدم میں ممکن نہیں، مگر ابتدا سوچ کی تبدیلی سے ہو سکتی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ڈگری کافی نہیں، مہارت ضروری ہے۔ تعلیمی نظام کو اس سمت میں لے جانا ہوگا جہاں تھیوری اور پریکٹس کا فرق کم ہو۔ انٹرن شپ، پروجیکٹ بیسڈ لرننگ اور اسکل ڈیولپمنٹ کو تعلیم کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوان کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سیکھنے کا عمل ڈگری کے ساتھ ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہیں سے شروع ہوتا ہے۔

فری لانسنگ اور ڈیجیٹل اسکلز اس خلا کو پُر کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہیں، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں روایتی نوکریاں محدود ہیں۔ آج ایک نوجوان گھر بیٹھے دنیا بھر کے لیے کام کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے پاس متعلقہ مہارت ہو۔ لیکن اس کے لیے صرف انٹرنیٹ نہیں بلکہ درست رہنمائی، تربیت اور مسلسل محنت درکار ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسکل گیپ محض ایک تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی چیلنج ہے۔ اگر ہم نے بروقت اس خلا کو پُر نہ کیا تو ہمارے نوجوانوں کی توانائی ضائع ہوتی رہے گی اور قوم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلیم کو محض سند نہیں بلکہ صلاحیت بنانے کا ذریعہ سمجھیں۔ جب نوجوان کے ہاتھ میں ڈگری کے ساتھ مہارت بھی ہوگی، تب ہی بے روزگاری کا یہ اندھیرا چھٹ سکے گا اور مستقبل کی روشنی نظر آنا شروع ہوگی۔