پاکستانی سیاست عہد حاضر کاایسا قصہ ہے جہاں سازشوں کی ڈوری سے ریشہ دوانیوں کے جال انتہائی اپنانیت سے مفاد پرستی کے پھندے ڈال کر بُنے جاتے ہیں اور رُخ پر نقاب ڈال کر کوچہ سیاست میں وفاداریوں کا مول کیا جاتا ہے۔پاکستانی سیاست میں اصول،نظریہ اور وفاداری جسے الفاظ محض عوام کو لبھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اور یہ رویہ ملکی سطح کی سیاست کرنے والوں سمیت صوبائی اور بلدیات کی سطح تک کے سیاست دانوں کا خاصہ ہے۔

جس کا عملی نمونہ گذشتہ 78 برسوں کی سیاست ہے کہتے ہیں شک ویقین ہی وہ حد فاضل ہے جو روح کوگمراہ اور دل کو افسردہ کرنے اور من کی دنیا کو انسباط سے لبریز کردینے والے یقین اوراعتماد کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرتی ہے۔یہ سحرا نگیز لرزشوں کاآغاز ہوتا ہے جو حقیقتوں کو سمجھنے پرکھنے سے یکسر محروم کرکے انسان کو خوابوں اور ابہام کی دنیا میں لے جاتا ہے۔ حقیقت تک رسائی دراصل خود،شنازی کے راستے سے ہوتی ہے اور یہ راستے پیچیدہ ہی نہیں مشکل ترین ہوتے ہیں۔
رشتوں اور تعلقات کی عمارت اعتماد اور اعتبار پر استوار ہوتی ہے اس کی بنیادیں تبھی مضبوطی اختیار کرتی ہیں جب اعتماد اور خلوص موجود ہو بداعتمادی اور دھوکہ سازی پلَوں میں عمارت مسمار کردیتی ہے مفاد پرستی انسان کے برسوں کے تعلق اور رشتے کو صرف ایک دن ایک لمحہ میں ختم کردیتی ہے کیونکہ اعتماد اور اعتبار کسی مچھلی کی طرح ندی کی۔سطح پر نہیں بہتا بلکہ اسے گہرائیوں میں جا کر تلاش کرنا پڑنا ہے۔ہمارا تصور صدیوں کافاصلہ طے کرلیتا ہے
لیکن جن خوابوں اور تصورات کی دنیا سے نکل کر حقیقی جہاں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو پھر گردش دوراں کے کمزور لمحوں کی کٹھنائیوں میں ایسے الجھ جاتا ہے کہ پھر کچھ سجھائی نہیں دیتا۔گوجرخان کی سیاست میں بھی مفاد پرستی اور ذاتی انا کی ان گنت کہانیاں سننے کو ملتی رہی ہیں خصوصاً مسلم لیگ کے مقامی رہنماؤں کا کردار حلقے کے عوام کے لیے مسلسل تماشہ بنا رہا ہے۔مفاداتی سیاست کے اسیروں نے مفادات کے لیے گوجرخان میں مسلم لیگ کو پہلی پوزیشن سے اٹھا کر تیسری پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔مفادات کے کھیل کی پہلی کہانی 2013 کے الیکشن میں لکھی گئی جب پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر شریف فیملی سے گھریلو تعلقات کے دعوے دار چوہدری ریاض نے اپنی پارٹی کے ٹکٹ ہولڈروں کے مقابلے میں پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کیامیداورں کی کھل کر سپورٹ کی تاہم وہ مسلم لیگی امیدواروں کی شکست کے خواب کی تعبیر نہ پاسکے۔
اور مسلم لیگ قومی وصوبائی دونوں نشتیں جیت گئی۔مفادات اور انا پرستی کی دوسری کہاں 2018 کے الیکشن میں لکھی گئی، جب مسلم لیگی قیادت نے 2013 کے الیکشن میں قیادت کے فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھ کر مخالف سیاسی جماعتوں کو سپورٹ کرنے والے چوہدری ریاض کو ٹکٹ دے دیا۔جو پاکستانی سیاست میں کسی اصول اور نظریہ کی پامالی کا ثبوت تھا۔چوہدری رہاض کو ٹکٹ ملنے پر 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوکر اسمبلی پانچ سال گزارنے والے چوہدری افتخار وارثی نے پارٹی قیادت کے فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے میں ڈالتے ہوئے 2013 میں اپنی مخالفت کا بدلہ لینے کو ترجع دی۔اور پی ٹی آئی و پیپلز پارٹی کو سپورٹ کرتے ہوئے اپنے جماعت کے ٹکٹ ہولڈروں کو شکست سے دوچار کرنے میں کامیاب رہے،
لیکن انہوں نے اپنے جو ووٹر پی ٹی آئی اور پی پی کو مستعار دیے ان میں سے اکثریت نے اپنا ٹھکانہ مستقل انہی جماعتوں بنا لیا جس کا خمیازہ چوہدری افتخار وارثی کو 2024 کے الیکشن میں بھگتنا پڑا۔2024 میں ایک بار پھر مسلم لیگ نے 2018 میں ٹکٹ چوہدری افتخار وارثی کو دیا یہ۔سوچے بغیر کہ 2013 کے کردار چوہدری ریاض کی طرح 2018 میں ان کا کردار بھی پارٹی مخالف رہا تھا۔2024 میں ایک بار پھر چوہدری ریاض ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی سے اس قدر ناراض ہوئے کہ موصوف نے مسلم لیگ چھوڑ کر کرین پارٹی جوائن کرلی اور اس جماعت کے ٹکٹ پر قومی کاالیکشن لڑنے میدان میں اترے۔
تاہم وہ چوتھے نمبر پر رہے۔ان کی اس مفاداتی سیاست نے ان کے بیٹے کی مسلم لیگ میں پنپنے والی سیاست کو ملیامیٹ کردیا۔چوہدری ریاض کی سیاست کو ان کے چھوٹے بھائی چوہدری خورشید زماں نے اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں سے دوبارہ اُٹھان بہت مشکل نظر آتی ہے گوجرخان سے اطلاعات ہیں کہ چوہدری ریاض نے ایک انٹرویو میں مسلم لیگ کے منشور کو اپنا منشور اور نواز شریف اپنا قائد مانا ہے؛
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
ایک اور پیج پر خبر ملی کہ چوہدری ریاض نے کرین پارٹی کو خیر آباد کہہ دیا ہے۔اگر یہ دونوں خبریں درست ہیں تو کہا جاسکتا ہے کہ چوہدری ریاض ایک بار پھر مسلم لیگ میں شمولیت کرسکتے ہیں۔لیکن کیا 2013 اور 2024 میں چوہدری ریاض کے پارٹی مخالف کردار کو پارٹی اور پارٹی ورکر بھول کر انہیں خوش آمدید کہہ سکیں گے؟عجب زمین ہے عبرت سرائے ہستی کی
ہم نے کاٹے ہیں پچھتاوے خواہشیں بو کر
طالب حسین آرائیں