فراز خان/سیاسی پارٹیوں کے اندرگروپنگ معمول کی بات ہوتی ہے اور ملک کے ہر ضلع ،تحصیل حتی کہ یونین کونسل لیول تک بھی پارٹی رہنماﺅں اور ورکرز میں اختلافات کی وجہ سے گروپنگ ہوتی ہے یہ صورت حال ہر سیاسی پارٹی کی ہے فرق صرف اتنا ہی ہے کہ کبھی کبھار کسی ایک پارٹی کو زیادہ ٹارگٹ کرنا شروع کردیا جاتا ہے جیسا ابھی تحصیل گوجرخان میں ن لیگ کوٹارگٹ کیا جارہاہے سیاست کے میدان میں لیڈر وہی ہوتا ہے جو عین وقت پر تمام گروپوں کی حمایت حاصل کر لیتا ہے گوجرخان کی موجودہ صورتحال میں سابق ایم این اے راجہ جاوید اخلاص مضبوط پینل کے ساتھ سامنے آچکے ہیںان کے مضبوط پینل کی سب سے بڑی مثال سابق ایم پی اے چوہدری افتخاراحمدوارثی ہیں جو سیاسی بصیرت میں اپنی مثال آپ ہیں سیاست کے میدان میں بہترین کھلاڑی ہیں الیکشن 2018میں خود آرام سے گھر بیٹھ گئے اور کسی بھی جلسہ ،جلوس میں ن لیگ کی مخالفت نہیں کی اس کے علاوہ پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا میں بھی ن لیگ کے اُمیدواروں کے خلاف کوئی بیان بازی نہیں کی لیکن پھر بھی نتائج من پسند حاصل ہوئے اور ان کے مخالفین کو عبرت ناک شکست کا سامنا ہوا افتخاراحمدوارثی کی سب سے بڑی خوبی عین وقت پر سب کی حمایت حاصل کر لیتے ہیں کون کس وقت پر اور کیسے راضی ہوگا ان کو بخوبی علم ہوتا ہے اس کے علاوہ راجہ جاوید اخلاص اپنی عاجزانہ طبیعت کی وجہ سے عوام اور پارٹی ورکرز میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں جبکہ تحصیل گوجرخان میں تعمیر و ترقی کی سیاست کو متعارف کروانے میں ان کا اہم رول ہے انہوںنے بے شمار ترقیاتی کام کروائے گوجرخان شہر میں راجہ جاوید اخلاص کو شاہد صراف کی بھرپو رسپورٹ حاصل ہے جو سیاست کے میدان میں نئے کھلاڑی ضرور ہیں لیکن اپنا اثرو رسوخ رکھتے ہیں حال ہی میں راجہ جاوید اخلاص نے تحصیل گوجرخان کے لیگی رہنماﺅں طیب قریشی اور قاضی وقار کاظمی کو مسلم لیگ ن ضلعی راولپنڈی کے اہم عہدے سونپے جن کی پارٹی کے لیے بے شمار خدمات ہیں دونوں رہنماﺅں نے 2013 اور 2018کے الیکشن میں ن لیگ کو بھرپور سپورٹ کیا ہر موقع پر متحرک ہوکرپارٹی کی ہر کال پر فرنٹ پر کھڑے ہوتے ہیں راجہ جاوید اخلاص کی دھیمی پالیسیاں مخالفین کی سمجھ سے بالاتر ہیں لیکن پارٹی کے لیے انتہائی فائدے مند ثابت ہوں گئی لیکن سوال یہی ہے کہ گوجرخان میں گروپنگ کے حوالے سے ن لیگ کو ہی ٹارگٹ کیوں کیا جارہا ہے جبکہ پی ٹی آئی کو بھی گروپنگ کے حوالے سے مشکلات ہیں اور الیکشن کے قریب ان مشکلات میں کئی گناہ اضافہ ہوجائے گا لیکن پھر بھی گوجرخان شہر میں گروپنگ کے حوالے سے ن لیگ کو ہی ٹارگٹ کیا جارہا ہے حالانکہ حالات اب تیزی سے بدل رہے ہیں اور سابق ایم این اے راجہ جاوید اخلاص اپنی اور پارٹی کی پوزیشن مستحکم کرچکے ہیں ۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.