ااسلام آباد (پنڈی پوسٹ نیوز)سلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام منہاس کا بڑا فیصلہ: گریڈ 22 پروموشن کیس میں اہم پیشرفت
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی بیوروکریسی میں گریڈ 22 کی پروموشنز سے متعلق اہم کیس کا فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے کئی سینئر افسران کی درخواستوں پر سماعت کے بعد بعض حکومتی ترامیم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اہم آبزرویشنز دی ہیں۔
عدالت میں یہ کیس ان افسران کی جانب سے دائر کیا گیا تھا جو گریڈ 21 میں خدمات انجام دے رہے تھے اور انہیں گریڈ 22 میں ترقی نہ ملنے پر اعتراض تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ ان کے جونیئر افسران کو ترقی دی گئی جبکہ انہیں نظر انداز کیا گیا۔
متاثرہ افسران کے نام اور عہدے
اس کیس میں درخواست گزار اور متاثرہ افسران درج ذیل ہیں:
1.محمد اسد اسلام مدنی — سینئر سرکاری افسر (BS-21)
2.مرتضیٰ خان — سینئر سرکاری افسر (BS-21)
3.سہیل علی خان — سینئر سرکاری افسر (BS-21)
4.آصف سیف اللہ پراچہ — سینئر سرکاری افسر (BS-21)
5.ایم۔ عامر ذوالفقار خان — پولیس سروس آف پاکستان کے افسر (BS-21)
6.اوائس نعمان کنڈی — سینئر سرکاری افسر (BS-21)
7.امناء عمران — سینئر سرکاری افسر (BS-21)
عدالت کے اہم نکات
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ:
•پروموشن کے قواعد میں کی گئی ایک اہم ترمیم، جس کے تحت دو مرتبہ ترقی نہ ملنے پر افسر کو ہمیشہ کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا، قانون سے متصادم ہے۔
•گریڈ 21 سے گریڈ 22 میں ترقی کا عمل مکمل طور پر میرٹ اور شفافیت پر مبنی ہونا چاہیے۔
•عدالت نے بیوروکریسی میں شفاف اور منصفانہ پروموشن سسٹم کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پس منظر
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ (HPSB) کے اجلاس میں کئی افسران کو ترقی نہیں دی گئی اور بعض جونیئر افسران کو گریڈ 22 میں ترقی دے دی گئی، جس پر متاثرہ افسران عدالت پہنچ گئے
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.