کم ظرف اور بد نسل لوگوں کو پہچاننے کی کسوٹی

تاریخ گواہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ جس تیزی سے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو کر اور جس بے دردی کے ساتھ اعلیٰ انسانی و اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال رہا ہے، اس نے عالی ظرف اور بد نسل انسان کے درمیان موجود لکیر کو مزید واضح کر دیا ہے۔ حکماء کا یہ قول سچ ثابت ہو رہا ہے کہ انسان کی پہچان اس کے لباس سے نہیں بلکہ اس کے ظرف سے ہوتی ہے۔ بد نسل یا کم ظرف لوگوں کی سب سے پہلی پہچان ان کی احسان فراموشی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ضرورت کے وقت آپ کے قدموں میں بیٹھنے سے بھی گریز نہیں کرتے لیکن جیسے ہی ان کا مطلب پورا ہوتا ہے .

تو سب سے پہلے اسی ہاتھ کو کاٹتے ہیں جس نے انہیں سہارا دیا ہوتا ہے۔ کم ظرف یا بد نسل شخص جب تھوڑی بہت کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو اسے اپنے وہ محسن بھی بوجھ لگنے لگتے ہیں جنہوں نے اسے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہوتا ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ عزت دار لوگوں کا وقت بدلتا ہے مگر معیار نہیں بدلتا جبکہ بد نسل لوگوں کا نصیب بدل جاتا ہے مگر اوقات نہیں بدلتی۔ بد نسل اور کم ظرف شخص جیسے ہی بلندی پر پہنچتا ہے تو وہ اپنی اصلیت اور اوقات کو بھول جاتا ہے حالانکہ شرافت اور کمینگی انسان کے خون اور فطرت کا حصہ ہوتی ہیں۔

جو کبھی نہیں بدل سکتیں۔ یاد رہے کہ لقمان حکیم کی ایک حکایت بڑی مشہور ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا: آپ نے اتنی دانائی کہاں سے سیکھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ بدتمیزوں اور کم ظرفوں سے، میں نے ان کی وہ عادتیں دیکھیں جو لوگوں کو بری لگتی تھیں اور میں نے ان سے بچنا شروع کر دیا۔ بد نسل لوگوں کی مثال بالکل اس طرح ہے کہ اگر کوئلے کا منہ صابن سے بھی دھویا جائے تو اس کی سیاہی نہیں جاتی اور نہ ہی نیم کے درخت پر چینی چھڑکنے سے اس کا پھل میٹھا ہو سکتا ہے۔

کیونکہ فطرت کبھی نہیں بدلتی۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کی شخصیت اس کی پہلی درسگاہ یعنی “ماں کی گود” کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ بزرگوں کی یہ بات سنہری حروف میں لکھی جانی چاہیے کہ اگر کہیں رشتہ داری یا تعلق قائم کرنا ہو تو سب سے پہلے اس کی ماں کو دیکھنا اور پرکھنا چاہیے کیونکہ اگر بنیاد ہی ٹیڑھی ہو تو اس پر کھڑی ہونے والی عمارت کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ کسی کے ظرف کا پتا لگانا ہو تو اسے عزت دو، اگر وہ عالی ظرف ہوا تو آپ کی مزید عزت کرے گا اور اگر کم ظرف ہوا تو آپ کو اپنے سے کم تر سمجھے گا۔ ایسے بد نسلوں اور کم ظرفوں سے بحث کرنا گویا وقت اور اپنی عزت دونوں کا ضیاع ہے۔ دانا لوگ کہتے ہیں کہ کم ظرف سے بحث کرنا کیچڑ میں پتھر مارنے کے مترادف ہے۔

جس کی گندگی کے چھینٹے آپ کے اپنے ہی دامن کو داغدار کر دیتے ہیں۔ یاد رکھیے بدنسل انسان اس بچھو کی طرح ہوتا ہے جسے اگر آپ اپنی ہتھیلی پر رکھ کر دریا پار بھی کروا دیں تو وہ دوسرے کنارے پہنچتے ہی سب سے پہلے آپ ہی کو ڈنک مارے گا کیونکہ ڈنک مارنا اس کی فطرت ہے اور احسان مندی اس کے خون میں شامل ہی نہیں۔ ایسے موقع پر ایک با اصول انسان کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مثال کے طور پر جس طرح اگر کوئی کتا آپ کو کاٹ لے تو آپ جوابی طور پر اسے نہیں کاٹ سکتے کیونکہ آپ کتے نہیں بلکہ انسان ہیں۔ شرافت کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے کم ظرف یا بد نسل لوگوں سے جس حد تک ممکن ہو دامن بچا کر رکھا جائے۔

جس طرح گندگی پر بیٹھنے والی مکھی کا کام غلاظت پھیلانا ہے اسی طرح بد نسل اور کم ظرف لوگوں کا شیوہ منفی رویوں کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ یاد رکھیے بد نسل کی پہچان کے لیے کسی خوردبین کی ضرورت نہیں ہوتی، اس کا لہجہ، اس کا تکبر اور اس کی احسان فراموشی کے ساتھ ساتھ اس کے اندر کی غلاظت بذریعہ زبان خود اس کی اصلیت کی گواہی دیتی ہے۔ ایسے لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہی عافیت ہے۔ اللہ پاک ہمیں کم ظرفوں اور بد نسلوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔