کلر سیداں ( نمائندہ پنڈی پوسٹ) کلر سیداں میں سستا آٹا اسکیم کے تحت چار پوائنٹس قائم، قلت کی اطلاعات بے بنیاد قرار۔حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے جاری سستا آٹا اسکیم کے تحت کلرسیداں شہر میں اس وقت چار مختلف پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، جہاں شہریوں کو سرکاری نرخوں پر دس کلو وزنی آٹے کے تھیلے باقاعدگی سے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق سستے آٹے کی قلت سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں، جبکہ آٹے کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سستا آٹا اسکیم کا بنیادی مقصد مہنگائی کے اس دور میں کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے، جس کے لیے آٹے کی دستیابی اور نرخوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کی ناجائز منافع خوری کو روکا جا سکے۔انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آٹا صرف سرکاری نرخوں پر ہی خریدیں اور کسی بھی قسم کی شکایت کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔دوسری جانب سستا آٹا اسکیم کے تحت آٹا فروخت کرنے والے تاجروں نے انتظامی مشکلات کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہیں آٹے کے تھیلے حاصل کرنے کے لیے چکلالہ ڈپو جانا پڑتا ہے، جس کے باعث وقت اور وسائل ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ بعض اوقات سپلائی میں تاخیر کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر کلرسیداں میں ہی آٹے کی براہِ راست سپلائی کا بندوبست کر دیا جائے تو نہ صرف عوام کو مزید سہولت میسر آئے گی بلکہ آٹے کی بروقت دستیابی بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔ تاجروں نے اسسٹنٹ کمشنر کلرسیداں سے مطالبہ کیا ہے کہ مل مالکان یا چکلالہ ڈپو کے ذمہ داران کو کلرسیداں کے لیے مستقل اور بروقت سپلائی کا پابند بنایا جائے۔ادھر شہریوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ سستا آٹا اسکیم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پوائنٹس کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور سپلائی کے نظام کو بہتر بنایا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد حکومتی ریلیف سے فائدہ اٹھا سکیں۔