
پاکستانی معاشرے میں ڈگری کو ایک خاص تقدس حاصل ہے۔ “میرا بیٹا بی اے/ بی ایس کر رہا ہے”، “میری بیٹی ایم اے / ایم ایس کر چکی ہے” – یہ فخریہ جملے ہمارے معاشرے کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں لیکن کبھی ہم نے سوچا کہ یہ بی اے، ایم اے کرنے والے نوجوان آخر کر کیا سکتے ہیں؟ کیا ان کے پاس کوئی ہنر ہے؟ کیا وہ معاشرے کے لیے کوئی مفید کام کر سکتے ہیں؟ پاکستان جیسے ملک میں جہاں بیروزگاری ہے کیا صرف ڈگری کافی ہے؟
ذرا سوچئے! کیا ڈگری حاصل کر لینے سے آپ روزگار کے قابل ہو جاتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر پاکستان میں لاکھوں ڈگری یافتہ نوجوان بے روزگار کیوں گھوم رہے ہیں؟
تاریخ بتاتی ہے کہ برصغیر میں انگریز نے جو تعلیمی نظام متعارف کرایا، اس کا مقصد ذہین انسان بنانا نہیں بلکہ کلرک تیار کرنا تھا اور ایسے کلرک جو حکم مانیں سوال نہ کریں۔ افسوس کہ 1947ء میں آزادی مل گئی لیکن یہ ذہنیت نہیں بدلی۔ آج 2026ء میں بھی ہمارے بچے وہی پرانا نظام پڑھ رہے ہیں۔ میٹرک کے امتحان میں آج بھی ‘نیوٹن کے قوانین’ کی تعریف پوچھی جاتی ہے لیکن کبھی یہ نہیں سکھایا جاتا کہ ان قوانین کو استعمال کر کے ایک سادہ مشین یا Drone کیسے بنایا جاسکتا ہے۔اِدھر ہم آج بھی اپنے بچوں سے ماؤس کے حصوں کے نام پوچھ رہے ہیں جبکہ اُدھر دنیا coding کے ذریعہ اپنی شناخت بنانے میں مصروف ہے۔
پاکستان میں تعلیم کے تین درجے ہیں: پرائمری، سیکنڈری اور ہائیر ایجوکیشن۔ تینوں درجوں پر ایک ہی المیہ ہے – رٹے کی تعلیم اور امتحانی نمبروں کی دوڑ۔
پرائمری سطح پر بچوں کو پڑھایا جاتا ہے کہ “الف سے انار، ب سے بکری”۔ سوال یہ ہے کہ انار اور بکری سے کیا حاصل؟ بچے کو تو یہ سمجھنا چاہئے کہ حروف تہجی کیسے مل کر الفاظ بناتے ہیں اور الفاظ کیسے مل کر خیالات بناتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ بچہ پڑھنا تو سیکھ جاتا ہے مگر سوچنا نہیں سیکھ پاتا۔
سیکنڈری سطح پر آ کر یہ نظام ایک مذاق بن جاتا ہے جہاں دس سال سکول میں گزارنے کے بعد بھی ایک طالب علم کو یہ نہیں معلوم کہ بینک اکاؤنٹ کیسے کھلتا ہے یا ایک سادہ CV کیسے تیار کی جاتی ہے۔
حد توہائیر ایجوکیشن پر ہو جاتی ہے جہاں طالبعلم کو مارکیٹ سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ وہ صرف نظریئے پڑھتا ہے، پیپر حل کرتا ہے اور جب وہ کاغذ کا وہ ٹکڑا لے کر باہر نکلتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ 21 ویں صدی کے چیلنجز کا مقابلہ 19 ویں صدی کے زنگ آلود ہتھیاروں سے کرنے نکلا ہے۔
ذرا غور کیجئے! آج کی دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) نے وہ کام کر دکھائے ہیں جو کبھی خواب لگتے تھے۔ دنیا بھر میں کمپنیاں اب ڈگری نہیں دیکھتیں و ہ دیکھتی ہیں کہ آپ کیا کر سکتے ہیں۔ دنیا Chat GPT سے کائنات تسخیر کر رہی ہے اور ہمارا طالب علم آج بھی اس فکر میں ہے کہ اسائنمنٹ کے گرد رنگین بارڈر کیسے بنانا ہے تاکہ استاد خوش ہو کر دو نمبر زیادہ دے دے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی رپورٹ کے مطابق ملک کے 31 فیصد پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار ہیں۔ ہر سال 25 لاکھ نوجوان ڈگری لے کر نکلتے ہیں مگر ان میں سے صرف 10 سے 15 فیصد ہی روزگار پا سکتے ہیں۔ جس دن ایک بوڑھا باپ اپنی زمین بیچ کر بیٹے کو یونیورسٹی بھیجتا ہے وہ دراصل اسے تعلیم دلانے نہیں بلکہ اپنی غربت کا کفن تیار کرنے بھیج رہا ہوتا ہے۔ لیکن چار سال بعد جب وہ بیٹا میڈل پہن کر گھر لوٹتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی چار سالہ محنت کی قیمت ایک فوٹو سٹیٹ کے کاغذ سے زیادہ نہیں۔ وہ معاشرہ جس میں ‘بی ایس’ کی ڈگری پکوڑے بیچنے کے کام بھی نہ آئے، وہاں نوجوانوں کی روحیں نہیں مریں گی تو کیا ہوگا؟ آخر کب تک ہم کلرک پیدا کرنے والی فیکٹریوں کو درسگاہیں کہہ کر خود کو دھوکا دیتے رہیں گے؟
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کا مقصد طالب علم کو کام کرنے کے قابل بنانا ہوتا ہے، صرف پاس کرانا نہیں۔ فن لینڈ میں بچوں کو پڑھایا جاتا ہے کہ کیسے سیکھنا ہے، کیا سیکھنا ہے نہیں۔ جرمنی میں تعلیم کا براہ راست تعلق انڈسٹری سے ہے۔ جنوبی کوریا میں ہر سال نصاب کو اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے تاکہ وہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ پاکستان میں اب بھی 1990 کی دہائی کی کتابیں پڑھائی جا رہی ہیں۔ کمپیوٹر سائنس کے طالبعلم آج بھی وہی پرانا نصاب پڑھ رہا ہے، جبکہ دنیا AI اور مشین لرننگ پر کام کر رہی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ‘نسل بچاؤ’ کی مہم شروع کریں۔ ریاست کو سمجھنا ہوگا کہ بے روزگار ڈگری یافتہ نوجوان ایک بارود کا ڈھیر ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ ہمیں کلرک نہیں، خالق (Creators) پیدا کرنے ہیں۔ ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی جب وہ کاغذ کے ان ٹکڑوں کو سینے سے لگائے بھوک سے لڑ رہی ہوں گی۔ یاد رکھیں، پیٹ بھرنے کے لیے کاغذ کی نہیں، ہنر کی روٹی درکار ہوتی ہے۔ مجھے تو یہ نظام بدلتا نظر نہیں آرہا اس لیےآج کہ نوجوان کو ریاست کے بدلنے کے انتظار میں بیٹھے رہنے کے بجائے فری لانسنگ، کوڈنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ خود سیکھنی ہو گی کیونکہ کاغز کے ٹکڑے سے مقابلہ کرنے کا دور گزر چکا ہے۔
آگر آج بھی اس AI کے دور میں ملکِ پاکستان میں یہ رٹا سسٹم چلتا رہا تو پھر نتیجہ وہی رہے گا بالآخر کاغذی ڈگری اور خالی ہاتھ؟ اگر کل آپ کے بچے کی ڈگری اسے رزق نہ دے سکی، تو کیا آپ اسے اس نظام کا حصہ بننے دیں گے؟
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.