پانچ لاکھ افراد کی انکھوں کی سرجری کرنے کا اعزاز حاصل کیا
پاکستان کی خاطر ہندوستان سے اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان آنے والی ڈاکٹر پرمیلا لعل انتقال کر گئیں، ڈاکٹر پرمیلا لعل کرسچین ہسپتال ٹیکسلا کے سابقہ ڈائریکٹر ڈاکٹر لعل کی زوجہ تھیں، ڈاکٹر پرمیلا لعل نے آنکھوں کے پانچ لاکھ سے زائد کامیاب آپریشن کئے، کرسچین ہسپتال کے چرچ میں ان کی آخری رسومات کی ادائیگی، ڈاکٹر پرمیلا لعل اور ڈاکٹر لعل کو ٹی یو جے نے شہر کے سب سے بڑے ایوارڈ”ٹیکشاشلا ایوارڈ“سے نوازا تھا،

تفصیلات کے مطابق قیام پاکستان کے بعد ہندوستان سے پاکستان کی خاطر ہجرت کر کے آنے والی ڈاکٹر پرمیلا لعل انتقال کر گئیں ڈاکٹر پرمیلا لعل اور ان کے شوہر ڈاکٹر لعل نے پاکستان سے محبت کی خاطر بہت قربانیاں دیں ہجرت کے بعد انہوں نے کرسچئین ہسپتال ٹیکسلا میں سکونت اختیار کی ڈاکٹر پرمیلا لعل نے آنکھوں کے پانچ لاکھ سے زائد کامیاب آپریشن کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا تحصیل یونین آف جرنلٹس ٹیکسلا واہ کینٹ نے ان کو شہر کے سب سے بڑے ایوارڈ ”ٹیکشاشلا ایوارڈ“ سے نوازا۔جو ٹی یو جے کے زیراہتمام منعقدہ ایک پروقار تقریب میں انہیں اور ان کے شوہر ڈاکٹر لعل کو دیا ڈاکٹر پرمیلا لال کی آخری رسومات کنونش ہال چرچ کرسچن ہسپتال میں ادا کر دی گئیں۔
پرمیلالعل 1932میں بھارتی ریاست کیرلہ میں پیدا ہوئیں،سترہ سال کی عمرمیں کرسچن میڈیکل کالج مدراس میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کی،1956میں اسی میڈیکل کالج میں آپ کی ملاقات ارنسٹ لعل سے ہوئی پرمیلا لعل کی شادی ارنسٹ لعل سے 1957 کو ہوئی اور وہ پاکستان آ گئیں پرمیلا لعل پاکستان کی پہلی خاتون آنکھوں کی سرجن بنی۔
پانچ لاکھ افراد کی انکھوں کی سرجری کرنے کا اعزاز حاصل کیا برطانیہ سے تھرمالوجی کا ڈپلومہ 1964 میں حاصل کیا۔چھ دہائیوں پر مشتمل خدمات پرمیلا لعل کی پاکستانی عوام ہمیشہ یاد رکھیں گے انیسوستاسی میں انٹرنیشنل ممبر آف امریکن تھرمالوجسٹ کا اعزاز بھی ملا۔ میڈیکل کے شعبے میں متعدد ایوارڈ بھی حاصل کیئے
حکومت پاکستان کی جانب سے 2002 میں انکی خدمات کے صلے میں تمغہ امتیاز بھی دیا گیا جو کہ ٹیکسلا اور ٹیکسلا کے شہریوں کے لئے فخر کی بات ہے ارنسٹ لعل یعنی اپنے شوہر کے اس دنیا سے چلنے کے بعد بھی انہوں نے ٹیکسلا کرسچن ہسپتال میں لوگوں کی طبی خدمات پیش کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی اور ارنسٹ لعل کی جدائی کو آڑے نہ آنے دیا۔
اشد کیانی