ڈاکٹر عبدالغنی کی تصنیف مکافات عمل

کتاب”مکافاتِ عمل“ محترم ڈاکٹر عبد الغنی فاروق صاحب”ایم اے‘پی ایچ ڈی اردو‘ڈی ایچ ایم ایس“ کی تصنیف ہے جو دو جلدوں میں شائع کی گئی ہے۔ محترم ڈاکٹر صاحب میرے قلمی دوست اور مہربان ہیں۔ انہوں نے کرم فرمایا اور مجھے اپنی کتاب ”مکافاتِ عمل جلد دوم“ عنایت کی۔جس کا میں اُن کا ممنون ہوں۔کتاب ایک عمدہ اور خوب صورت تحفہ ہے۔

جو میرے لیے علم اور معلومات میں اضافے کا سبب بنے گا۔ڈاکٹر صاحب زید مجدہ سے محبت و چاہت کا قلمی سفر بحسن و خوبی جاری و ساری ہے اس رشتہ،پیار محبت میں کوئی دنیا کی لالچ ہے نہ ہی خواہشِ مال و زر ہے۔ہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا جوئی اور علمی و ادبی تعاون اس رشتہ محبت میں ضرور کار فرما ہے۔ڈاکٹر صاحب سے میرا تعلق کافی پرانا ہے۔آپ کتاب دوست ہیں،ادیب،ماہرِتعلیم اور محقق ہیں۔آپ نے بے شمار مضامین اور مقالات لکھے۔جن میں سے مطبوعہ اور غیر مطبوعہ ہیں۔

ڈاکٹر عبد الغنی فاروق کی تصانیف درج ذیل ہیں۔ ہم کیوں مسلمان ہوئے‘ہمیں خدا کیسے ملا؟‘our journey to islam‘کاروانِ عزیمت‘تحریک اسلامی کے نو9مثالی قائدین‘اوصافِ حمیدہ”محترمہ حمیدہ بیگم“‘ ماہر القادری حیات و خدمات‘چودھری علی احمد”تذکرہ“‘کلیاتِ ماہر القادری ”مجموعہ کلام“‘مغرب پر اقبالؒ کی تنقید‘یہ ہے مغربی تہذیب‘ مولانا مودودیؒ اور مریم جمیلہؒ کی مراسلت‘مکافاتِ عمل۔ دیدو شنید‘کائنات کے پانچ راز‘امریکہ اور یورپ میں عورتوں کی حا لتِ زار‘مکافاتِ عمل جلد دوم۔ابھی بہت سی تحریریں غیر مطبوعہ ہیں۔جن پر کام جاری ہے۔

مکافاتِ عمل جلد دوم میں 56 مضامین ہیں اور 183 صفحات ہیں۔ اس کے ناشر۔بیت الحکمت لاہور،کتاب سرائے فرسٹ فلور الحمد مارکیٹ غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور ہے۔یہ سفید کاغذ اور مجلد شائع کی گئی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر عبد الغنی فاروق معروف ادیب،مصنف، مترجم اور محقق ہیں۔آپ نے مولانا ماہر القادریؒ کی حیات و خدمات پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ صفحہ ء قرطاس پر منتقل کیا اور آپ کو پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے 1990 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی۔اس مقالے میں مولانا ماہر القادریؒ کی شخصیت کا مختلف حوالوں سے ان کی صلاحیتوں، علمی و تحقیقی و تنقیدوں اور ادبی خدمات کا جائزہ لیا ہے۔

پروفیسر صاحب کی علمی و تحقیقی اور ادبی حوالے سے گراں قدر خدمات ہیں جس کا ایک الگ مضمون میں احاطہ کیا جائے گا۔میں پروفیسر صاحب کے خلوص و محبت کا سپاس گزار ہوں، جنہوں نے یہ کتب عنایت کیں۔میں دل کی گہرائیوں سے ان کا شکر گزار ہوں،اللہ انہیں اس کا اجر کثیر عطا فرمائے آمین۔ان کی کتاب سے ایک صفحہ مطالعہ کے لیے حاضر ہے۔ پروفیسر صاحب مکافاتِ عمل جلد دوم صفحہ 41 پر لکھتے ہیں۔”لیہ کے ڈاکٹر شیر محمد خان صاحب نے بتایا۔میری ملکیتی زمین صرف ایک ایکڑ ہے اس میں کھجور کا ایک درخت تھا۔میرے ایک رشتے دار نے مجھ سے پوچھے بغیر وہ درخت کاٹ لیاشاید اسے تعمیر کے لیے شہتیر کی ضرورت تھی۔

میرے رشتے دار کے گھرکے صحن میں کھجور کا ایک غیر معمولی درخت تھا۔خوب گھنا، خوب پھیلا ہوا۔اس پر اعلیٰ ترین قسم کی کجھور لگتی تھی۔کم و بیش تیس خوشے لگتے تھے۔ہمارا درخت کاٹنے کے بعد پُراسرار طورپر اس شخص کو وہم ہو گیا کہ آندھی آئے گی جس سے اس کا یہ درخت گر جائے گا اور یہ وہم اس کے ذہن پر اس قدر حاوی ہوا کہ ایک روز اس نے وہ نایاب قیمتی درخت خود ہی کاٹ کر پھینک دیا۔“میرے مشاہدات میں بھی بہت سے واقعات آئے ہیں اُن میں سے ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔

شمشاد گاوں کے ایک محلے کی مسجد میں حافظ محبوب اور دوسرے محلے کی مسجد میں حافظ محمود امامت کرتے تھے مسلک کی بنا پر تھوڑی بہت رنجش و نفرت بھی رکھتے تھے۔حافظ محمود بیمار ہوا تو اس کا گلا خراب ہو گیا جس کی وجہ سے اس کی آواز کبھی کبھی مدہم ہو جاتی،کبھی بہت باریک ہو جاتی۔سننے والے پوری طرح سن نہ پاتے۔حافظ محبوب اس کا مذاق اڑاتا،اور وہ پریشان ہو جاتا۔

یہ سلسلہ چند سال چلتا رہا پھر کیا دیکھتے ہیں کہ حافظ محبوب بھی بیمار ہو گیاتو اس کا گلا خراب ہو گیا اور جب بات کرتا تو آواز گُم ہو جاتی،تاحال یہی کیفیت برقرار ہے۔دوسروں کو حقیر جاننا،دوسروں کا تمسخر اڑانا بہت بُرا کام ہے،اللہ تعالی ایسے انسانوں کو ناپسند کرتا ہے جو دوسروں کا مذاق اُڑائیں۔ اللہ کی ناراضی سے بچنے کے لیے ہر چھوٹے بڑے بُرے کام سے اجتناب کرنا چاہیے ورنہ عبرت کا نشان بننا مقدر ہے۔“اللہ تعالی نے اپنے کلام ”قرآن حکیم” میں اور اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کلام ”حدیث ”میں امثال اور واقعات بیان کر کے جن و انس کو یہ بات سمجھائی ہے۔

اللہ نے انسان کی تخلیق میں یہ بات رکھی ہے کہ یہ امثال اور واقعات سے جلدی سیکھتا ہے، کیونکہ ان جیسے انسانوں کا ہی اس میں تذکرہ ہوتا ہے۔ہمارے سامنے واقعات و حادثات ہوتے رہتے ہیں لیکن ہم میں کم ہی لوگ ہوتے ہیں جو ان مشاہدات سے کچھ سیکھتے ہیں۔حالانکہ ان واقعات میں ہمارے لیے عبرت اور نصیحت ہوتی ہے۔انسان کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم عبرت اور سبق حاصل کریں لیکن ہم سے اکثر اپنی فطرت کو دبا دیتے ہیں۔دنیا میں علم حاصل کرنے کے ذرائع کتاب اور معلّم ہیں اس کے ساتھ ساتھ مشاہدات و تجربات بنیادی عنصر ہیں۔جو قومیں ساپنے گزرے ہوئے لوگوں کے تجربات سے نہیں سیکھتی وہ اپنا نقصان آپ کرتی ہیں۔اللہ کے فضل و کرم سے پروفیسر صاحب نے عبرت اور نصیحت سے بھر پور مثالیں اور واقعات جمع کر کے انہیں صفحہ ء قرطاس پر منتقل کیا ہے۔

جنہیں دو جلدوں میں مرتب کر کے شائع کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ سچے واقعات ہیں۔ان کے مطالعہ کرنے اور سننے سے، سوچنے، سمجھنے اور نصیحت و عبرت حاصل کرنے کا شوق اور جذبہ پیدا ہوتا ہے۔آپ نے سچ فرمایا میں نے مطالعہ کے دوران یہی کچھ سیکھا اور یہی تاثر میرا ہے کیونکہ اس کتاب میں بہت ہی اچھا اور سبق آموز لوازمہ موجود ہے۔ بلکہ جو انسان بھی ایسی کتب کا مطالعہ کرے گا وہ کچھ نہ کچھ ضرور سیکھے گا۔واقعات اور مثالیں بیان کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ان میں بد اخلاقی، بد تہذیبی کی باتیں نہ ہوں۔ایسے واقعات لکھنے اور بیان کرنے سے بچنا چاہیے،جن واقعات کے پڑھنے اور سننے سے گمراہی اور کج فہمی کا اندیشہ ہو۔نیز دین اسلام کے اصولوں سے نہ ٹکراتے ہوں، ان سے اپنا دامن بچا کر رکھنا چاہیے۔

پروفیسر ڈاکٹر عبد الغنی فاروق کی یہ علمی و تحقیقی اور ادبی کاوش و کوشش خوب اور عمدہ ہے اور تحسین کے قابل ہے۔ میں انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔قارئین سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس کتاب کا ضرور مطالعہ کریں اور کتب خانوں میں بھی رکھوانے کی کوشش کریں۔مجلد رنگین سرورق کے ساتھ سفید کاغذ پر شائع کی گئی ہے اور قیمت بھی مناسب ہے۔
نوٹ:پروفیسر ڈاکٹر عبدالغنی فاروقؒ کی وفات 22اپریل 2024 ء ہوئی۔

محمد شفیق اعوان