چک بیلی روڈ: ہیوی ٹریفک، بڑھتے حادثات اور فوری اقدامات کی ضرورت

چک بیلی روڈ راولپنڈی سے چکوال کو جوڑنے والی ایک اہم اور مصروف شاہراہ ہے جو روزانہ ہزاروں شہریوں، طلبہ، مزدوروں اور مسافروں کے لیے آمدورفت کا ذریعہ بنتی ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصے سے اس سڑک پر ہیوی ٹریفک خصوصاً ڈمپرز، ٹرالرز اور بڑی مال بردار گاڑیوں کی بے ہنگم آمدورفت کے باعث آئے روز ٹریفک حادثات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ان حادثات کی بھینٹ اکثر وہ معصوم شہری چڑھ رہے ہیں جن کا قصور صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ روزگار، تعلیم یا علاج کے لیے اس سڑک سے گزرتے ہیں۔

چک بیلی روڈ بنیادی طور پر اس قدر بھاری ٹریفک کے لیے موزوں نہیں۔ سڑک کی چوڑائی محدود ہے، کئی مقامات پر موڑ تنگ ہیں اور آبادی سڑک کے بالکل قریب واقع ہے۔ اس کے باوجود ہیوی ٹریفک کا بے قابو داخلہ نہ صرف ٹریفک کی روانی کو متاثر کرتا ہے بلکہ موٹر سائیکل سواروں، رکشوں، پیدل چلنے والوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ تیز رفتاری، اوورلوڈنگ، ناقص بریک سسٹم اور ڈرائیوروں کی لاپرواہی ان حادثات کی بڑی وجوہات ہیں۔

یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ اکثر حادثات کے بعد وقتی شور تو مچتا ہے مگر مستقل اور مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹریفک پولیس اور متعلقہ محکمے محض کاغذی کارروائیوں کے بجائے عملی اور ٹھوس فیصلے کریں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

سب سے پہلا اور اہم اقدام یہ ہونا چاہیے کہ ہیوی ٹریفک کے لیے مخصوص روٹس اور اوقات کا تعین کیا جائے۔ ڈمپرز اور ٹرالرز کو دن کے مصروف اوقات میں چک بیلی روڈ پر داخلے کی اجازت نہ دی جائے، خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں جب سڑک عام شہریوں سے بھری ہوتی ہے۔ اگر ممکن ہو تو ہیوی ٹریفک کے لیے متبادل راستے فراہم کیے جائیں تاکہ شہری آبادی کو محفوظ رکھا جا سکے۔

دوسرا اہم قدم ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمدہے۔ ٹریفک پولیس کو چاہیے کہ تیز رفتاری، اوورلوڈنگ، بغیر فٹنس گاڑیوں اور غیر تربیت یافتہ ڈرائیوروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائے۔ مستقل چیک پوسٹیں قائم کی جائیں اور جرمانوں کے ساتھ ساتھ قانون توڑنے والی گاڑیوں کو بند بھی کیا جائے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت بن سکے۔

تیسرا، سڑک کے انفراسٹرکچر میں بہتری ناگزیر ہے۔ خطرناک مقامات پر واضح سائن بورڈز، رفتار کم کرنے کے لیے اسپیڈ بریکرز، مناسب روشنی، ڈیوائیڈرز اور پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ کراسنگز بنائی جائیں۔ اس کے علاوہ سڑک کی باقاعدہ مرمت اور نشانات کی تجدید بھی وقتاً فوقتاً کی جائے۔

چوتھا اہم پہلو عوامی آگاہی ہے۔ ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو مل کر آگاہی مہمات چلانی چاہئیں تاکہ ڈرائیورز کو ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کی اہمیت کا احساس دلایا جا سکے۔ خاص طور پر ہیوی ٹریفک کے ڈرائیوروں کے لیے تربیتی پروگرام اور ورکشاپس منعقد کی جائیں تاکہ وہ انسانی جان کی قدر کو سمجھ سکیں۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ چک بیلی روڈ پر بڑھتے حادثات کسی ایک فرد یا ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ مجموعی نظام کی کمزوری کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر ٹریفک پولیس، محکمہ ہائی ویز اور ضلعی انتظامیہ سنجیدگی سے بروقت اور عملی اقدامات کریں تو نہ صرف حادثات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ معصوم شہریوں کی جانیں بھی بچائی جا سکتی ہیں۔ انسانی جانوں کا تحفظ کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی اولین ترجیح ہونا چاہیے، اور اب وقت آ چکا ہے کہ چک بیلی روڈ کو مزید لاشوں کا راستہ بننے سے بچایا جائے۔