چک بیلی خان‘ایک قصبہ، مگر شہری علاج سے محروم

چک بیلی خان محض ایک گاؤں نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا قصبہ اور پورے علاقے کا مرکزی مرکز ہے جسے بلا مبالغہ منی شہر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، کیونکہ یہاں نہ صرف مقامی آبادی بلکہ گرد و نواح کے درجنوں بڑے چھوٹے دیہات کے لوگ خرید و فروخت، تعلیم، روزگار اور علاج معالجے کے لیے آتے ہیں، یہاں ہر طرح کی دکانیں، بازار، کاروباری مراکز اور نجی تعلیمی ادارے موجود ہیں، مگر انتہائی افسوس اور دکھ کے ساتھ یہ حقیقت بیان کرنی پڑتی ہے کہ اتنے بڑے، گنجان اور اہم علاقے میں آج تک ایک مکمل سرکاری ہسپتال قائم نہیں ہو سکا، حالانکہ صحت ہر شہری کا بنیادی اور آئینی حق ہے،

لیکن چک بیلی خان اور اس کے آس پاس کے ہزاروں باسی اس حق سے برسوں سے محروم چلے آ رہے ہیں، بیمار بزرگ ہوں یا معصوم بچے، حاملہ خواتین ہوں یا محنت مزدوری کرنے والے غریب افراد، سب کو معمولی علاج کے لیے بھی راولپنڈی جیسے دور دراز شہر کا رخ کرنا پڑتا ہے جو تقریباً ساٹھ سے ستر کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، نام کے چند سرکاری ہیلتھ یونٹس تو موجود ہیں مگر وہ سہولت کے اعتبار سے نہ ہونے کے برابر ہیں، وہاں نہ مستقل سرکاری ڈاکٹر دستیاب ہیں، نہ نرسنگ اسٹاف، نہ ایمرجنسی سروسز، نہ لیبارٹری، نہ آپریشن تھیٹر اور نہ ہی کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت، یوں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ عمارت تو موجود ہے

مگر علاج نہیں، بورڈ لگا ہے مگر خدمت ندارد، دوسری طرف نجی کلینکس اور پرائیویٹ ہسپتالوں کی بھرمار ہے مگر وہ بھی صرف فرسٹ ایڈ یا معمولی علاج تک محدود ہیں، کسی بڑے مرض، حادثے، دل کے دورے، زچگی کے پیچیدہ مسائل یا ایمرجنسی کیسز کے لیے وہاں کوئی خاطر خواہ سہولت میسر نہیں، اس تمام صورتحال کا سب سے بڑا نقصان غریب عوام کو اٹھانا پڑتا ہے جو مہنگے پرائیویٹ علاج کے متحمل نہیں ہو سکتے، میں خود اس دردناک حقیقت کا عینی شاہد ہوں اور میرا تعلق قریبی گاؤں رنوترہ سے ہے جو چک بیلی خان سے محض دو تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک بڑا اور معروف گاؤں ہے،

میں نے اپنی آنکھوں سے بے شمار ایسے مریض دیکھے جنہیں ایمبولینس کی عدم دستیابی کے باعث سوزوکی یا پرائیویٹ گاڑی میں چرپائی ڈال کر راولپنڈی لے جایا گیا اور کئی قیمتی جانیں راستے میں ہی دم توڑ گئیں، متعدد بار خواتین کو زچگی کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بعض اوقات بچے راستے میں ہی پیدا ہو گئے کیونکہ بروقت طبی امداد موجود نہیں تھی، میرے اپنے خاندان میں ایک ایسا اندوہناک واقعہ پیش آیا جب رات کے پچھلے پہر میرے بابا جی کو دل کی شدید تکلیف ہوئی، اگر چک بیلی خان میں کوئی بڑا سرکاری ہسپتال یا کم از کم ایمرجنسی کی مکمل سہولت موجود ہوتی تو شاید بروقت علاج ممکن ہو جاتا، زندگی اور موت یقیناً اللہ کے اختیار میں ہے مگر کم از کم یہ اطمینان تو ہوتا کہ مریض کسی مستند ڈاکٹر اور مناسب سہولت تک پہنچ سکا،

چک بیلی خان کے اردگرد رنوترہ، جھنگی دائم، رائیکا، میرا، مہوٹہ، موہڑہ، کولیاں، محمودہ، پندوڈی، بینس، لڈوہ، ڈھولک، گجری، کڑاہی، ٹھلہ، دھندہ اور دیگر کئی بڑے دیہات آباد ہیں جن کے ہزاروں مکین علاج کے لیے اسی قصبے کا رخ کرتے ہیں، ہر الیکشن میں سیاستدان یہاں آتے ہیں، بڑے بڑے وعدے کیے جاتے ہیں، تقاریر ہوتی ہیں، تصویریں بنتی ہیں اور دعوے کیے جاتے ہیں، مگر الیکشن ختم ہوتے ہی یہ علاقہ ایک بار پھر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور عوام بدستور بنیادی سہولیات سے محروم رہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا یہاں بسنے والے لوگ اس ملک کے شہری نہیں، کیا ان کی زندگیاں کم قیمتی ہیں،

کیا انہیں بروقت علاج کا حق حاصل نہیں، ہم حکومتِ وقت، متعلقہ محکموں اور ذمہ دار اداروں سے پُرزور، سنجیدہ اور فوری مطالبہ کرتے ہیں کہ چک بیلی خان میں ایک مکمل اور فعال سرکاری ہسپتال قائم کیا جائے جس میں ایمرجنسی، زچگی، دل کے امراض، لیبارٹری، ایکسرے، ایمبولینس اور مستند سرکاری عملہ دستیاب ہو اور موجودہ ہیلتھ یونٹس کو فوری طور پر فعال بنایا جائے، کیونکہ یہ کوئی احسان نہیں بلکہ عوام کا بنیادی، انسانی اور آئینی حق ہے، اگر آج بھی اس اہم مسئلے کو نظر انداز کیا گیا تو کل اس کے نتائج مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آئیں گے، اب وقت آ چکا ہے کہ چک بیلی خان کو صرف وعدوں نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے صحت کی بنیادی سہولت فراہم کی جائے۔

سرفراز احمد