چک بیلی خان ٹھلہ خورد آٹا چکی مالکان کی لوٹ مار عوام بے بس

چک بیلی خان شہر اور گردونواح کے علاقوں میں آٹا چکی مالکان کی جانب سے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے
اڑھائی سو روپیہ فی من پسائ کے ساتھ ساتھ فی من دو کلو آٹے کی کاٹ بھی کر لی جاتی ہے ۔ٹھلہ خورد روڈ پر واقع تین عدد آٹا چکی مالک کی جانب سے عوام کو لوٹنے کا ایک نیا عذر تراشا گیا ہے جو شخص بھی گندم پسائی کے لیے آتا ہے
وہ اڑھایی سو روپیہ من گندم پسائی اور فی من دو کلو آٹے کی کاٹ کے ساتھ ساتھ گندم صاف کرنے کی مد میں مزید دو سو روپیہ فی من بٹورا جا رہا ہےواضح رہے کہ حکومت کی جانب سے اٹا چکی مالکان کو بجلی کا انڈسٹریل کنکنشن مہیا کیا جاتا ہے تا کہ مہنگائ کا بوجھ عوام پر نا ڈالا جائے لیکن آٹا چکی مالکان یہ ریلیف عوام کو مہیا کرنے کی بجائے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں قانونا اور اخلاقا اگر کوئ آٹا چکی مالک گندم پسائی کی مزدوری لے رہا ہے تو اس کی جانب سے فی من دو کلو آٹے کی کاٹ غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے عوامی و سماجی حلقوں کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر صدر راولپنڈی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ٹھلہ کلاں آٹا چکی مالکان سمیت دیگر تمام آٹا چکی مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ عوام کو سرکاری نرخوں پر آٹے کی ترسیل کے ساتھ ساتھ آٹے کی دو کلو کاٹ بھی فوری طور پر ختم کریں
واضح رہے کہ اس وقت مارکیٹ میں فی کلو آٹے کی قیمت سو روپیہ ہے جب کہ کچھ چکی مالکان ایک سو بیس روپیہ فی کلو آٹا بھی فروخت کر رہے ہیں فی من اڑھائی سو روپیہ پسائ کے ساتھ ساتھ اڑھائ سو روپے کا آٹا کاٹ لینا سراسر زیادتی کے زمرے میں آتا ہے غریب جو پہلے ہی مہنگائ کی چکی میں پس رہا ہے