(پانی کو محفوظ کیجیے

محمد شفیق اعوان
پانی اللّہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔اس نعمت کی قدر کیجیے۔پانی میں ہر شے کی زندگی ہے۔ زمین پر زندگی کا دارومدار اسی پر ہے۔ اس کو ضاٸع کرنا ناشکری ہے۔ناشکرے انسان کی کہیں بھیقدر و قیمت نہیں ہوتی۔آٸیے ہم اپنے خالق کے شکر گزار بندے بن کر رہیں۔انسانوں کی خیر خواہی اور بھلاٸی کے لیے کام کریں۔
پانی کی کمی نہیں ہے۔دنیا بھر میں بارشیں ہو رہی ہیں۔برف باری ہو رہی ہے۔جھلیں، آبشاریں بن رہی ہیں۔ندی ، نالے اور دریا بہ رہے ہیں۔ ہم اپنی ضرورت ضرور پورا کریں ۔افسوس ہم سب پانی کو ضاٸع کر رہے ہیں۔پانی کو محفوظ کرنے کی براٸے نام کوشش کر رہے ہیں۔
آج دنیا بھر میں پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ کیونکہ پانی کی تقسیم غیر منصفیانہ ہے۔جس کے پاس میٹھے پانی کے منبے ہیں۔وہ سانپ بن کر بیٹھ گیا ہے یا اسے ندی ،نالوں اور دریاٶں کے ذریعے انسانوں کو سیلاب سے دوچار کرتے ہوٸے ،سمندر میں میں ڈال رہا ہے۔
خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں زیرِ زمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم زمین سے جتنا پانی لیتے ہیں،اتنا پانی واپس نہیں لٹاتے،نہ ہی اسے محفوظ کرنے کا انتظام کر رہے ہیں۔زبانی کلامی دعوے کرتے ہیں اور خیالی نقشے اور منصوبے بناتے ہیں۔کثیر سرمایہ خرچ ہو جاتا ہے۔عملاً کوٸی فاٸدہ نہیں ہوتا۔مفلس انسان سیلاب کی نذر ہوجاتے ہیں۔پانی اپنے گھر میں پہنچ جاتا ہے۔پانی سے محروم انسان محروم ہی رہتا ہے۔
بارش کا میٹھا اور قیمتی پانی ضائع ہو کر سمندر میں چلا جاتا ہے۔ اس کے ذمہ دار ہم انسان ہیں ،حیرت ہے کہ انسان کے ساتھ دشمنی کر رہا ہے۔
اس لیے وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ عوام اور حکومت مل کر پانی کو محفوظ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔پانی کو محفوظ کرنے کے جو منصوبے بناۓ جاٸیں۔انہیں مکمل کیا جاۓ۔عوام حکومت کی اور حکومت عوام کی نگرانی کرے تاکہ پانی کو ضاٸع ہونے سے بچایا جاٸے اور سرماٸے کو ضاٸع ہونے سے بچایا جاٸے۔تاکہ انسانوں کے کام آٸے۔
سب سے پہلے ہمیں بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے تالاب، جوہڑ (قدرتی گڑھے) بنائے جائیں تاکہ بارش کا پانی ذخیرہ کیا جا سکے۔ دیہی علاقوں میں پہلے جوہڑ اور تالاب بنانے کی روایت موجود تھی، جس سے نہ صرف پانی محفوظ رہتا تھا بلکہ زیرِ زمین پانی کی سطح بھی برقرار رہتی تھی۔ اس ثقافت کو دوبارہ زندہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہر گاٶں کے چاروں طرف کم از کم چار چار کنال کے تالاب بناٸے جاٸیں۔جن میں سے دو میں بارش کا پانی اور دو میں استعمال شدہ پانی جمع ہو۔ان کے کناروں میں باڑ لگاٸی جاۓ اور پھل دار درخت لگاٸے جاٸیں،نیز  ان میں مجھلیاں بھی پالیاں جا سکتی ہیں۔
اسی طرح ہر بیس کنال رقبے میں ایک کنآل کا تالاب بنایا جاٸے ،جس میں اس بیس کنال کے رقبے پر جوبارش کا پآنی نازل ہو،سیدھا اس تالاب میں جمع ہو جاٸے۔تالاب میں مچھلیوں کی افزاٸش ہو اور کنارے پر پھلدار درخت لگاٸے جاٸیں۔
اسی طرح ندیوں، نالوں اور دریاؤں کی صفائی اور کھدائی بھی ضروری ہے۔ جب ان کی گہرائی بڑھائی جائے گی تو پانی زیادہ مقدار میں محفوظ ہوگا اور سیلاب کے خطرات بھی کم ہوں گے۔  دریاؤں کی کھداٸی اتنی گہری ہو کہ اس میں چھوٹے بحری جہاز چل سکیں، تاکہ عوام کی سفری سہولت کے لیے یہ لانچیں رواں دواں رہیں۔دریاٶں کے کناروں کو مضبوط اور اونچا کیا جائے، دونوں طرف سڑکیں بنائی جائیں اور پھل دار درخت لگائے جائیں تو یہ نہ صرف ماحول کو خوبصورت بنائے گا بلکہ معیشت میں بھی بہتری لائے گا۔ مزید یہ کہ دریاؤں میں چھوٹی ٹربائنیں لگا کر بجلی بھی پیدا کی جا سکتی ہے، جو توانائی کے بحران کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
پانی کے ذخائر جیسے تالاب اور دریاؤں میں مچھلیاں پالنا بھی ایک بہترین عمل ہے۔ اس سے خوراک اور روزگار دونوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ مچھروں کی افزائش کو روکنے کے لیے مناسب انتظام بھی ضروری ہے تاکہ بیماریوں سے بچا جا سکے۔
ہم نے کتنا بڑا ظلم کیا ہے کہ مچھروں کی افزاٸش کو روکنے کے لیے پانی کے ذخاٸر کو بند کر دیا ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ ہم مچھروں کو مارنے کا انتظام کرتے، بیماریوں کو روکنے کے لیے ادویات بناتے۔حفاظتی انتظام کرتے۔
اشتیاروں پر رقم ضاٸع کرنے کے بجاٸے، اس سرماٸے سے پانی کو محفوظ کرتے اور بیماریوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے حفظانِ صحت کے اصولوں کو اپناتے۔اچھی خوراک و ادویات کا انتظام کرتے۔
ایک اہم اصول یہ ہے کہ ہم زمین سے جتنا پانی حاصل کرتے ہیں، اتنا ہی پانی واپس زمین میں شامل کریں۔ اس کے لیے بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے کے طریقے اپنانے چاہیے، جیسے کہ ری چارج کنویں اور کھلے میدانوں میں پانی کو جمع کرنا۔
ہر گھر میں کم از کم ایک پھل دار درخت لگانا بھی پانی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ درخت نہ صرف ماحول کو ٹھنڈا رکھتے ہیں بلکہ بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ درخت آگسیجن خارج کرتے ہیں اور کاربن ڈاٸی اکساٸیڈ جذب کرتے ہیں ۔جو جانداروں کے لیے نہایت اہم ہے۔
گھروں میں پھلدار درخت لگاتے وقت اسے مناسب گہرائی (تقریباً چار فٹ) میں لگایا جائے تاکہ فرش اور گھر کی دیواروں کو، درخت کی جڑیں نقصان نہ پہنچا سکیں۔ درخت لگاتے وقت کم از کم چار فٹ مکعب کا گڑھا بنایا جاٸے،جس کے چاروں طرف دیوار بناٸی جاٸے یعنی اس کے ارد گرد مضبوط ساخت بنائی جائے تاکہ درخت کی جڑیں زمین کے اندر جاٸیں، پانی ضائع نہ ہو اور درخت بھی اچھی طرح نشوونما پا سکے۔درخت ہمیشہ پھلدار لگاٸے جاٸیں۔ہر گھر میں متفرق ایک پھلدار درخت ہو،تو دس گھروں میں دس قسم کے پھل پیدا ہوں گے،اخوت و بھاٸی چارے کی فضا قاٸم رکھی جاٸے تو دس گھروں والے دس قسم کے پھل مفت میں کھا سکتے ہیں۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی قلت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ایک اندازے کے مطابق آنے والے سالوں میں پاکستان کو شدید آبی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔زمین کے اندر موجود پانی کا بڑا حصہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے،پانی زیر زمین نیچے ہی نیچے ہوتا جا رہا ہے جس سے زمین خشک اور بنجر بنتی جا رہی ہے۔کیونکہ ہم پانی کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔
پانی کو محفوظ کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا جاٸیں۔ان میں چھوٹی چھوٹی ٹرباٸنیں لگاٸی جاٸیں۔تاکہ بجلی کے بحران سے بھی نجات ملے۔ان ڈیموں سے نہریں نکالی جاٸیں تاکہ بنجر اور ویران زمین کو ذرعی کاشت کے لیے کار آمد بنایا جا سکے اور ہم خوراک میں خود کفیل ہو سکیں۔
دنیا بھر میں تقریباً 70 فیصد پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے۔پانی کو جدید طریقوں سے محفوظ کرنے اور استعمال کرنے اصولوں پر عمل کرنا لازم ہے۔تاکہ جنگلات اوت ذرعی رقبہ بڑھے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پانی کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے آج سے اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں پانی کی ایک ایک بوند کو ترسیں گی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم پانی کو ضائع ہونے سے بچائیں، اسے محفوظ کرنے کا ابھی سے انتظام شروع کر دیں اور ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھیں۔
درخت اور پودے جہاں جہاں ہوں گے ،وہاں وہاں بارشیں بھی ہوں گی۔پاکستان کے ویران بنجر اور صحراٶں میں سب سے پہلے تھور اور کیکر کے بھیج اور قلمیں لگاٸیں جاٸیں نیز ان کو پانی دینے کا انتظام کرنے کا بندوبست کریں۔جب یہ جڑیں پکڑ لیں گے تو یہ خودبخود بڑھنا اور پھیلنا شروع ہو جاٸیں گے۔آپ دیکھیں چند سال بعد وہاں بارشیں بھی برسنا شروع ہو جاٸیں گی۔دنیا میں کٸی ملکوں یہ تجربہ کیا گیا ہے اور کامیاب بھی رہا۔
ہم پھل کھاتے ہیں اور بیج ضاٸع کر دیتے ہیں۔اگر ہم ان پھلوں کے بیجوں کو خشک کر کے محفوظ  کرتے جاٸیں۔این جی اوز اور حکومت مل کر ان بیجوں کو جمع کریں اور  دریاٶں، ندی نالوں، سڑکوں،شاہراہوں کے کناروں میں اور ویرانوں میں بونے شروع کریں تو چند سالوں میں پھلوں کے حوالے سے ہمارا ملک خود کفیل ہوٸے گا اور بیرونِ ملک بھیج کر منافع کما سکتے ہیں۔جس سے بے روز گاری میں کمی آٸے گی۔ہمارے ملک میں جو آلودگی ہے وہ ختم ہو گی۔آگسیجن بھی وافر مقدار میں ملے کی۔ہماری صحت پہلے سے بہتر ہو گی۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پودوں اور درختوں کے جو دشمن ہیں ان سے ہوشیار رہیں۔بھیڑ بکریاں پودوں اور درختوں کی دشمن ہیں،ان سے چھٹکارا حاصل کر کے گاٸے اور بھینس پالیں۔اس طرح درخت اور پودے محفوظ ہو جاٸیں گے بلکہ ہم دودھ، گوشت اور کھاد میں خود کفیل ہو جاٸیں گے
وہ کاشکار جو چاول کی فصل بوتے ہیں۔جنہیں پانی پورا ملتا ہے۔انہیں چاہیے کہ اپنے کھیتوں میں چھوٹی مچھلیوں کی بھی افزاٸش کریں اور دوھرا فاٸدہ اٹھاٸیں۔
کاشتکاروں سے گزارش ہے فصلوں کی باقیات کو آگ نہ لگایا کریں،انہیں زمین میں دفنا دیا کریں،یہ کیمیاٸی کھادوں کے مقابلے بہترین کھاد ہے جو آپ کی فصلوں دُگنا کر دے گی۔
آخر میں پھر گزارش ہے پانی کو ضائع نہ کریں۔اسے زمین کو واپس دے کر اپنے لیے اور اپنی نسلوں کے یے محفوظ کیجیے۔
*محمد شفیق اعوان  محلہ منشیاں گاٶں و ڈاک خانہ شمس آباد تحصيل حضرو ضلع أٹک پوسٹ کوڈ 43490 موبائل نمبر 03085040024