حالیہ دنوں میں رکشوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن نے ایک سنجیدہ سماجی اور معاشی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ شہر کی سڑکوں پر روزگار کمانے والے ہزاروں غریب رکشہ ڈرائیور آج خوف، بے یقینی اور پریشانی کا شکار ہیں۔ وہ نہ جانتے کہ کب اور کہاں ان سے جرمانہ لیا جائے گا، اور کب ان کی روزانہ کی کمائی چھین لی جائے گی۔

یہ صورتحال صرف ان افراد کے لیے نہیں بلکہ ان کے پورے خاندان کے لیے تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے، کیونکہ ایک رکشہ ڈرائیور کی روزانہ کی محنت پر پانچ سے چھ افراد کا گزارا ہوتا ہے۔شہر کی مختلف سڑکوں پر کبھی کہا جاتا ہے کہ اس روڈ پر رکشہ نہیں جا سکتا، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہاں سے یوٹرن لو، اور اگر یہ ہدایات نہ مانی جائیں تو کم از کم دو سو بیس روپے کے پرچے کا خطرہ اور بعض اوقات پانچ ہزار روپے تک کے بھاری جرمانے عائد کر دیے جاتے ہیں۔ یہ سب ایک ایسے طبقے کے ساتھ ہو رہا ہے جو محض دو وقت کی روٹی اور بچوں کی تعلیم کے لیے محنت کر رہا ہے۔ اس دوران کوئی متبادل فراہم نہیں کیا جاتا، نہ روزگار کا انتظام، نہ کسی قانونی مشورے کی سہولت، بس ڈر اور جرمانے۔
حال ہی میں یوسف جان اتمانزئی یوٹیوب چینل ”عام اوولس” پر ایک ویڈیو ل سامنے آئی، جس میں یوسف جان نے عام عوام کی آواز بنتے ہوئے مختلف رکشہ ڈرائیوروں سے سوالات کیے۔ اس چینل کے ذریعے عوام کو بتایا گیا کہ لوگ اپنی روزمرہ کی مشکلات کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں اور کیسے ان کی زندگی ان چند رکشوں پر منحصر ہے جو انہیں دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم اور گھریلو اخراجات کے لیے روزانہ چلانے پڑتے ہیں۔کئی رکشے ایسے ہیں جن میں نہ اسپیڈ میٹر ہے، نہ بریک لائٹ، نہ انڈیکیٹر، اور اس کے باوجود وہ سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔ یہ صورتحال یقیناً خطرناک ہے اور کسی بھی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
لیکن اس سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ یہ رکشے اب بھی سڑک پر ہیں کیونکہ یہ ڈرائیور اپنی روزانہ کی کمائی کے بغیر اپنے خاندان کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ ان کی حالت دیکھ کر ہر ناظر پر افسوس ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انہی رکشہ ڈرائیوروں کی معمولی کمائی پر پورے پورے خاندانوں کا گزارا ہوتا ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور کے گھر میں عموماً پانچ سے چھ افراد ہوتے ہیں جو اس ایک فرد کی محنت پر انحصار کرتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم، کھانے پینے کے اخراجات، مکان کا کرایہ اور دیگر روزمرہ کے معاملات سب اسی پر منحصر ہوتے ہیں۔ اگر رکشہ ڈرائیوروں کو اچانک راستوں سے ہٹا دیا جائے تو یہ خاندان فاقوں اور مالی بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اگر اندازہ لگایا جائے کہ پشاور میں تقریباً پانچ ہزار رکشے چل رہے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کم از کم پچیس سے تیس ہزار افراد کا روزگار براہ راست ان رکشوں سے وابستہ ہے۔ یہ صرف ڈرائیور نہیں بلکہ ان کے اہل خانہ، بچے اور بزرگ بھی اس کے زیر اثر ہیں۔ اگر یہ سب رکشے سڑکوں سے ہٹا دیے جائیں تو لاکھوں لوگوں کی زندگیوں پر برا اثر پڑے گا اور شہر میں سماجی و اقتصادی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب لوگ ایک دن میں متبادل روزگار حاصل کر سکتے ہیں؟ کیا ان کے گھروں کے چولہے جلتے رہیں گے؟ یا پھر یہ لوگ فاقوں اور بھوک کے مسائل کا شکار ہو جائیں گے؟ ان ہزاروں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا آسان نہیں، اور یہ فیصلہ صرف پابندی اور جرمانے لگا کر نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری طرف ٹریفک پولیس بھی اپنے نظام اور دباؤ کے تحت کام کر رہی ہے۔ انہیں روزانہ اور ماہانہ بنیادوں پر ٹارگٹس پورے کرنے ہوتے ہیں، کیونکہ اگر ٹارگٹ پورا نہ ہو تو ان کی کمیشن، مراعات اور پیشہ ورانہ حیثیت متاثر ہوتی ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ ایک پیچیدہ مسئلے میں بدل جاتا ہے جہاں غریب رکشہ ڈرائیور اور اہلکار دونوں دباؤ میں ہیں۔یوں ایک طرف غریب رکشہ ڈرائیور ہے جو دو وقت کی روٹی کے لیے سڑک پر نکلا ہے، اور دوسری طرف ایک اہلکار ہے جو اپنے محکمے کے دباؤ میں ہے۔ اس ساری کشمکش میں اصل مسئلہ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے، اور عوام کے مسائل پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ شہریوں کی روزانہ کی ضروریات، آسان سواری اور محفوظ سفر کا مسئلہ پیچیدہ اور اہم ہے، مگر اکثر اس پر نظر نہیں آتی۔
اگر کے پی کے حکومت کا یہ منصوبہ ہے کہ کسی بھی صورت رکشوں کو ختم کرنا ہے، تو یہ فیصلہ محض طاقت، پابندی اور جرمانوں سے نافذ نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے منصوبہ بندی، متبادل، ہمدردی اور معاشرتی ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر یہ فیصلہ معاشرتی اور اقتصادی بحران پیدا کر سکتا ہے۔دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے میں جب کسی شعبے کو ختم کیا جاتا ہے تو اس سے وابستہ افراد کے لیے متبادل روزگار کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ صرف پابندیاں لگانا، جرمانے عائد کرنا اور لوگوں کے روزگار چھین لینا مسائل کا حل نہیں ہوتا، بلکہ یہ مزید مشکلات پیدا کرتا ہے۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ پشاور میں بی آر ٹی ایک شاندار منصوبہ ہے۔ ماشائاللہ، اس نے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے معیار کو کافی حد تک بہتر بنایا ہے
اور شہریوں کو محفوظ، باعزت اور معیاری سفر کی سہولت فراہم کی ہے۔ بی آر ٹی منصوبے کی بدولت لوگ اب زیادہ جلدی اور آسانی سے اپنے کام اور تعلیم کی جگہ پہنچ سکتے ہیں۔بی آر ٹی سے پہلے مقامی بسوں کی حالت ایسی تھی کہ اللہ ہی معاف کرے۔ ٹوٹی ہوئی سیٹیں، دھواں اڑاتے انجن، بے ہنگم ڈرائیونگ، اوور لوڈ اور مسافروں کی تذلیل روز کا معمول تھا۔ لوگ سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے خطرات اور بدسلوکی کا سامنا کرتے تھے، اور بہت سی خواتین اور بچے خوفزدہ ہو جاتے تھے۔آج بی آر ٹی کی وجہ سے شہریوں کو ایک بہتر، محفوظ اور باعزت سفر کی سہولت میسر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بی آر ٹی تمام علاقوں اور تمام لوگوں کی ضروریات پوری کر رہی ہے؟ کیا ہر گلی، ہر محلہ اور ہر کونے تک اس کی رسائی ممکن ہے؟ بہت سے علاقے ابھی بھی رکشوں کے بغیر خالی اور بے سہارا ہیں۔رکشے آج بھی ان علاقوں میں عوام کی واحد سواری ہیں جہاں بسیں اور بی آر ٹی نہیں پہنچ سکتیں۔ بیمار، بزرگ، خواتین اور بچے انہی رکشوں پر انحصار کرتے ہیں، کیونکہ وہ روزانہ کے سفر کے لیے اور تعلیمی و کاروباری مقاصد کے لیے کسی اور متبادل کے بغیر ہیں۔اگر حکومت واقعی ٹریفک کو بہتر بنانا چاہتی ہے تو رکشہ ڈرائیوروں کو ختم کرنے کے بجائے انہیں بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
ان کی رجسٹریشن، فٹنس، تربیت اور قوانین پر عمل درآمد ایک عملی اور مفید حل ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف سڑکیں محفوظ ہوں گی بلکہ غریبوں کا روزگار بھی برقرار رہے گا۔اس کے ساتھ ساتھ اگر کچھ رکشے واقعی سڑک کے لیے موزوں نہیں تو ان کے مالکان کو آسان اقساط پر متبادل گاڑیاں یا کسی اور روزگار کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس طرح وہ بھی اپنے خاندان کا پیٹ بھر سکیں گے اور شہر کی ٹریفک بھی بہتر ہو گی۔صرف جرمانے اور پابندیاں غریب کے مسائل میں اضافہ کرتی ہیں، انہیں کم نہیں کرتیں۔ ریاست کا کام سزا دینا نہیں بلکہ شہریوں کی فلاح کو یقینی بنانا ہے۔ اگر کوئی منصوبہ صرف زبردستی نافذ کیا جائے تو یہ معاشرتی اور انسانی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
دعا ہے کہ اگر واقعی رکشوں کو مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے تو ان غریب لوگوں کے لیے باعزت روزگار کا بندوبست بھی کیا جائے۔ تاکہ شہر بھی بہتر ہو، ٹریفک بھی محفوظ ہو، اور کسی کا چولہا بجھنے نہ پائے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے اس بات کو مدنظر رکھیں کہ ہر فیصلہ انسانی زندگیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
تحریر:انجینئربخت سیدیوسفزئی
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.