تین جنوری 2026 کو امریکی افواج نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں دیواریں پھلانگ کر چادر چار دیواری کے قوانین کو روند کر ایک غیر معمولی اور بھرپور فوجی کارروائی کے دوران صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لے لیا۔ چند ہی گھنٹوں میں انہیں نیویارک منتقل کر دیا گیا۔ بین الاقوامی سرحدوں، ریاستی خودمختاری اور عالمی قوانین کی صریح پامالی کا یہ واقعہ تاریخ کے سیاہ ابواب میں درج ہو چکا ہے۔

یہ محض ایک گرفتاری نہ تھی، بلکہ عالمی نظامِ انصاف کے چہرے سے نقاب نوچ لینے جیسا عمل تھا، جس نے دنیا بھر میں اضطراب، تشویش اور شدید تنقید کو جنم دیا۔اس اقدام کو“قانون”اور“انصاف”کے خوشنما بیانیے میں لپیٹنے کے لیے صدر مادورو پر منشیات اسمگلنگ، نارکو ٹیررازم اور دہشت گردی جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ تاہم مادورو نے امریکی عدالت میں دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اغوا کیا گیا ہے
اور وہ بدستور وینزویلا کے آئینی صدر ہیں۔ عالمی تاریخ میں کسی خودمختار ریاست کے داخلی معاملات میں مداخلت کی یہ بدترین مثال ہے، جس نے کمزور اور ترقی پذیر ممالک میں قبضے اور جبر کے خوف کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ یہ اقدام تحفظ اور آزادی کے عالمی نعروں کو روندتا ہوا طاقت کے ننگے مظاہرہ کے طور پر سامنے آیا۔وینزویلا سمیت متعدد ممالک نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی، رجیم چینج کی کھلی کوشش اور غیر قانونی جارحیت قرار دیا۔
اس کے برعکس امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ مادورو کو“Cartel of the Suns”اور عالمی منشیات نیٹ ورک سے وابستگی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا، جن میں کوکین کی بھاری مقدار کی اسمگلنگ شامل ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ایک“ناگزیر قدم”قرار دیا، جس کا مقصد منشیات کی ترسیل روکنا، وینزویلا میں استحکام لانا اور غیر علانیہ مگر نمایاں طور پر– تیل کے وسیع ذخائر کو امریکی مفادات کے دائرے میں لانا تھا۔اقوام متحدہ، روس، چین، کیوبا اور متعدد لاطینی امریکی ریاستوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قانون کی روح کے منافی قرار دیا۔ وینزویلا میں قومی سوگ کا اعلان ہوا، جبکہ دنیا کے مختلف خطوں میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکہ نے انسانی حقوق، جمہوریت یا عالمی سلامتی کے نام پر کسی ملک میں قدم رکھا ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور ریاستیں ہمیشہ کمزور قوموں کو اپنے فولادی بوٹوں تلے روندتی آئی ہیں۔ سرد جنگ سے لے کر عراق، افغانستان، ویتنام اور دیگر خطوں تک، واشنگٹن نے بارہا انہی نعروں کی آڑ میں حکومتیں گرائیں، نظام بدلے اور ریاستی ڈھانچے مسمار کیے خصوصاً وہاں، جہاں قدرتی وسائل یا جغرافیائی برتری نے طاقتوروں کی بھوک کو مہمیز دی۔ اپنی جارحیت کو“امن مشنز”کا نام دے کر کسی بھی ملک میں داخل ہونا، پھر الزام تراشی کے ذریعے مداخلت کو جائز ثابت کرنا، عالمی سیاست کا پرانا وطیرہ ہے۔یہی تو وہ کہانی ہے جو ہمیں بھیڑیے اور بھیڑ کے بچے کی حکایت میں ملتی ہے۔ ندی کے کنارے پانی پیتے ایک معصوم بچے سے بھیڑیا سوال کرتا ہے“تم میرا پانی کیوں گندا کر رہے ہو؟”جب معصوم دلیل دیتا ہے کہ پانی تو آپ کی جانب سے بہہ کر میری طرف آ رہا ہے، تو بھیڑیے کا غصہ اور بھڑک اٹھتا ہے۔
الزام کا دائرہ وسیع کر دیا جاتا ہے“اگر تم نہیں، تو تمہارے باپ دادا نے ضرور کچھ کیا ہو گا!”فیصلہ پہلے ہو چکا تھا، سوال محض بہانہ تھا، اور انجام صرف ایک نگل جانا۔عالمی سیاست کی تاریخ اسی بھیڑیے کی ذہنیت سے عبارت ہے۔ انسانی حقوق، جمہوریت، دہشت گردی اور عالمی سلامتی جیسے مقدس الفاظ کو بارہاالزامات کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ پہلے بیانیہ گھڑا گیا، پھر اسی بیانیے کی بنیاد پر بم برسائے گئے، حکومتیں اکھاڑی گئیں، اور قوموں کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا گیا۔ عراق میں مہلک ہتھیاروں کا شور مچایا گیا، افغانستان میں نجات دہندہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا، ویتنام میں نظریاتی خطرات تراشے گئے مگر جنگ کے بعد سامنے آنے والے حقائق نے ثابت کیا کہ یہ الزامات یا تو سراسر جھوٹ تھے یا جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے تھے۔ سچ تب سامنے آیا، جب شہر کھنڈرات بن چکے تھے، لاکھوں جانیں مٹی تلے سو چکی تھیں، اور معاشرے نفسیاتی و سماجی ملبے میں دفن ہو چکے تھے۔
آج ان خطوں میں عدم استحکام مستقل حقیقت ہے۔ مہاجرین کی نسلیں کیمپوں میں جوان ہو رہی ہیں، خانہ جنگی معمول بن چکی ہے، اور سب سے المناک منظر وہ بچے ہیں جو تعلیم، شناخت اور مستقبل سے محروم ہو کر نفرت اور خوف کی گود میں پل رہے ہیں۔ ان کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ ندی کے اُس کنارے پیدا ہوئے، جہاں طاقتور بھیڑیے کی پیاس بجھانی تھی۔ اور المیہ یہ ہے کہ الزام تراشنے والے، فیصلے سنانے والے اور حملے کرنے والے کبھی جواب دہ نہیں ہوئے۔ نہ تباہ شدہ ملکوں کی تعمیر نو ان کی ترجیح بنی، نہ یتیم بچوں کا مستقبل، نہ بکھرے معاشروں کی مرمت۔ بھیڑیا شکار کر کے آگے بڑھ گیا اور دنیا نے اسے عالمی نظام کا محافظ قرار دے دیا۔
یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ عہدِ حاضر کی سیاسی حقیقت ہے۔ یہاں انصاف طاقت کا غلام ہے، سچ جنگ کے ملبے تلے دفن ہو جاتا ہے، اور عدالتیں، میڈیا اور حتیٰ کہ ندیاں بھی اسی سمت بہتی ہیں جدھر طاقت کھڑی ہو۔ طاقتوروں کی خوشنما باتوں کے پیچھے نوکیلے، خونخوار دانت چھپے ہوتے ہیں۔ کمزور اقوام قانون، اخلاق اور اصولوں کے الفاظ دہراتی رہتی ہیں، مگر ہر دلیل کے پیچھے ایک ہی فیصلہ لکھا ہوتا ہے طاقتور ہی درست ہے۔
اگر واقعی امریکہ یہ سب کچھ انسانیت، انصاف اور اخلاق کی خاطر کرتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ فلسطین میں بچوں کی لاشیں گرتی رہیں، نسل کشی ہوتی رہی، تب یہ“ضروری قدم”کیوں نہ اٹھایا جاتا؟تب کیوں قانون خاموش تھا، انصاف اندھا تھا، اور بھیڑیا بے خوف؟ اصل حقیقت تو یہی ہے کہ ”ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور ہوتے ہیں، اور کھانے کے اور۔”
تحریر: امجد علی