“نور نی نگری” پنجابی نعتیہ شاعری کا نیا سنگِ میل

پنجابی زبان، ثقافت اور ادب کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ادبی تنظیم دل دریا پاکستان (رجسٹرڈ) کے زیرِ اہتمام صدارتی ایوارڈ یافتہ معروف ادیب و پنجابی شاعر ابرار شاکر کے پنجابی (گھیبی لہجے) میں تحریر کردہ نعتیہ مجموعے “نور نی نگری” کی شاندار تقریبِ رونمائی گزشتہ شام ایمبلم ہائیر سیکنڈری سکول، نزد حیدری چوک، سیٹلائیٹ ٹاؤن، راولپنڈی میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی۔

معروف ادیب و شاعر راجہ مختار احمد سگھروی اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں
پروفیسر ڈاکٹر عامر ظہیر بھٹی کتاب پر اظہار خیال کر رہے ہیں
حاضرین محفل
حاضرین محفل
مہمان خصوصی معروف پنجابی شاعر علی احمد گجراتی نُور نی نگری کے حوالے سے اظہار خیال کر رہے ہیں
شہزاد حسین بھٹی اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں
کتاب نور نی نگری کے مصنف معروف ادیب و شاعر ابرار شاکر اپنا کلام پیش کر رہے ہیں

اس روح پرور محفل کی صدارت پنجابی زبان و ادب کے رکھوالے معروف پنجابی ادیب و شاعر علی احمد گجراتی نے کی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں علمی و ادبی دنیا کی نمایاں شخصیات پروفیسر ڈاکٹر عامر ظہیر بھٹی، پروفیسر سید نصرت بخاری، کرنل (ر) مرتضیٰ علی شاہ اور راجہ مختار احمد سگھروی اپنی فکری و محبت بھری شرکت سے تقریب کی رونق بنے۔

تقریب کا آغاز قاری حفیظ الرحمن کی پرکیف تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد محمد نعمان مشتاق نے حمدِ باری تعالیٰ اور محمد جمیل و حاجی مشتاق احمد نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ نہایت عقیدت سے پیش کیں۔

نظامت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر محمد حماد المصطفی نے اپنے خوبصورت اور دلنشین اسلوب میں انجام دیے، جہاں ہر مقرر اور شاعر کو محبت و عزت کے ساتھ اسٹیج پر مدعو کیا گیا۔

تقریب کے مقررین محمد رحم الامین، ڈاکٹر محمد احمد ابرار، شہزاد حسین بھٹی، پروفیسر ابرار احمد خان، راجہ مختار احمد سگھروی، پروفیسر ڈاکٹر عامر ظہیر بھٹی، پروفیسر سید نصرت بخاری اور کرنل (ر) مرتضیٰ علی شاہ نے نہ صرف “نور نی نگری” کے فکری و ادبی پہلوؤں پر گفتگو کی بلکہ پنجابی نعتیہ شاعری کی اہمیت، گھیبی لہجے کی خوبصورتی اور مادری زبان کے فروغ پر بھی دل کو چھو لینے والے خیالات پیش کیے۔

کلامِ شاعر بزبانِ شاعر کے حصے میں ابرار شاکر نے اپنی کتاب سے منتخب اشعار سنائے تو سامعین محوِ عقیدت و تحسین ہوگئے۔ یہ لمحے ادب، عقیدت اور جمالیاتی سرشاری کا حسین امتزاج ثابت ہوئے۔

اختتام پر صدرِ محفل علی احمد گجراتی نے صدارتی خطبہ پیش کیا، جس میں پنجابی ادب کی موجودہ صورتحال، “نور نی نگری” کی ادبی حیثیت اور دل دریا پاکستان کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

تقریب کی کامیابی میں دل دریا پاکستان کی تنظیمی ٹیم سینئر نائب صدر پنجاب شہزاد حسین بھٹی، اقبال زرقاش اور دیگر متحرک رفقا کا کردار نمایاں رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن شمالی پنجاب، انگلشرز انٹرنیشنل اور ثبات پاکستان کا خصوصی تعاون بھی حاصل رہا۔

یہ شام اپنے اندر علم، ادب، عشقِ رسول ﷺ اور پنجابی زبان کی خوشبو سمیٹے ایک یادگار روحانی و فکری محفل کی صورت میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔