مہنگائی‘بیروزگاری اور خودکشی کا بڑھتا رجحان

پاکستان آج محض ایک معاشی بحران سے نہیں گزر رہا بلکہ ایک گہرے سماجی اور نفسیاتی سانحے کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور ذہنی دباؤ نے عوامی زندگی کو جس کرب، بے یقینی اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے، اس کے اثرات اب خاموشی سے انسانی جانیں نگل رہے ہیں۔ خودکشی وہ تلخ حقیقت ہے جو اس بحران کا سب سے اندوہناک اظہار بن چکی ہے۔

اگرچہ 2025 کے اختتام تک مہنگائی کی مجموعی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی اور یہ تقریباً 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہی، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی آج بھی بدترین دباؤ کا شکار ہے۔ خوراک، بجلی، گیس، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی اخراجات اب ایک عام مزدور اور متوسط طبقے کی دسترس سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ بجلی کے بھاری بل، اشیائے خوردونوش کی بلند قیمتیں اور آمدن و اخراجات کا بڑھتا ہوا فرق شہریوں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر چکا ہے۔اس صورتحال کو مزید سنگین بنانے والا عنصر بے روزگاری ہے۔

2025 تک پاکستان میں بے روزگاری کی شرح سات فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ لاکھوں نوجوان، جن کے ہاتھوں میں ڈگریاں اور آنکھوں میں خواب ہیں، در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں مایوسی، احساسِ محرومی اور ناکامی کا احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو اکثر شدید ذہنی دباؤ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔یہی ذہنی دباؤ خودکشی جیسے المناک فیصلوں کی بنیاد بنتا ہے۔ پاکستان میں ذہنی صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ماہرین کے مطابق آبادی کا ایک بڑا حصہ کسی نہ کسی نفسیاتی مسئلے کا شکار ہے، مگر علاج تک رسائی انتہائی محدود ہے۔

ایک لاکھ افراد پر ماہرِ نفسیات کی تعداد دنیا میں کم ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔ نتیجتاً ذہنی بیماری کو نہ بیماری سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی اس کے علاج کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔اعداد و شمار خود اپنی زبان میں چیخ رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں خودکشی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ ہونے والے کیسز کے مطابق سینکڑوں افراد ہر سال اپنی جان لے رہے ہیں، جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ صرف وہ واقعات ہیں جو منظرِ عام پر آ سکے، اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے

کیونکہ ہمارے معاشرے میں خودکشی کو نہ صرف گناہ بلکہ جرم سمجھ کر چھپا دیا جاتا ہے۔خودکشی کے پیچھے صرف ایک وجہ نہیں، بلکہ یہ مہنگائی، بے روزگاری، خاندانی دباؤ، سماجی بے حسی اور ذہنی صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی کا مجموعی نتیجہ ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں نوجوان کو روزگار میسر نہ ہو، والدین بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوں اور ذہنی بیماری کو کمزوری سمجھا جائے، وہاں مایوسی کا انجام اکثر انتہائی قدم کی صورت میں نکلتا ہے۔حکومت نے احساس پروگرام اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اقدامات ضرور کیے ہیں، مگر یہ وقتی سہارا تو بن سکتے ہیں، مستقل حل نہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشی بحالی کو ذہنی صحت اور انسانی وقار کے ساتھ جوڑا جائے۔

روزگار کے حقیقی مواقع، نوجوانوں کے لیے ہنرمندی کے پروگرام، چھوٹے کاروبار کے لیے سہولتیں اور ہر ضلع میں ذہنی صحت کے مراکز ناگزیر ہو چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ سماجی سطح پر خاموشی توڑنے کی اشد ضرورت ہے۔ خودکشی کو صرف مذہبی یا اخلاقی زاویے سے نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی اور نفسیاتی مسئلے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں کاؤنسلنگ، میڈیا کے ذریعے آگاہی، اور مذہبی و سماجی رہنماؤں کا مثبت کردار اس سلسلے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ خودکشی کوئی انفرادی ناکامی نہیں بلکہ معاشرتی نظام کی اجتماعی شکست ہوتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم محض اعداد و شمار پر افسوس کرنے کے بجائے انسان کی زندگی کو مرکزِ توجہ بنائیں۔ اگر ہم نے بروقت سنجیدہ اور مربوط اقدامات نہ کیے تو یہ خاموش بحران آنے والے برسوں میں ایک بڑی انسانی تباہی کی صورت اختیار کر سکتا ہے

بابراورنگزیب چوہدری