پاکستان میں مون سون کی بارشیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں، لیکن جب یہی بارشیں شدت اختیار کرتی ہیں تو خصوصاً پہاڑی علاقوں کے لیے ایک بڑے امتحان میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ مری، کوٹلی ستیاں، کہوٹہ، گلیات اور آزاد کشمیر میں ہر سال موسلا دھار بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ، سڑکوں کی بندش، مکانات کی تباہی، زرعی زمینوں کو نقصان اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع جیسے المناک واقعات رونما ہوتے ہیں کوٹلی ستیاں ان علاقوں میں شامل ہے جہاں ہر سال متعدد دیہات لینڈ سلائیڈنگ سے متاثر ہوتے ہیں۔ پہاڑوں سے مٹی کے تودے اور بڑے پتھر گرنے کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہو جاتی ہیں، کئی خاندان بے گھر ہو جاتے ہیں اور لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی چند لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ قدرتی آفت کے بعد متاثرین کو فوری ریلیف سے زیادہ طویل انتظار اور سرکاری دفاتر کے چکر نصیب ہوتے ہیں2017ء کے بعد سے کوٹلی ستیاں کے لینڈ سلائیڈنگ متاثرین خود کو مسلسل نظر انداز محسوس کر رہے ہیں۔ ہر سال بارشوں کے بعد درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں خاندان اپنے نقصانات کی رپورٹیں اور امدادی درخواستیں اسسٹنٹ کمشنر آفس میں جمع کرواتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان درخواستوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے اور وہ آج بھی سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہیں متاثرین کے مطابق انہیں اکثر یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ پٹواری موقع کا معائنہ کریں گے، اربن یونٹ کی ٹیم آئے گی، سروے ہوگا اور پھر امداد دی جائے گی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ وعدے عملی اقدامات کی شکل اختیار نہیں کر پاتے اور ہر سال نئی درخواستیں جمع ہونے کے باوجود پرانی درخواستیں بھی زیر التوا رہتی ہیں۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک بلکہ فوری توجہ کی متقاضی ہےکوٹلی ستیاں کے متعدد متاثرین ایسے بھی ہیں جن کے مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ جزوی نقصان اٹھانے والوں کی بھی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ کئی خاندان آج بھی کرائے کے گھروں یا رشتہ داروں کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور اپنی چھت دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ قومی آفات سے نمٹنے والا ادارہ (NDMA) اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے کوٹلی ستیاں کے متاثرین کے لیے مالی امداد اور بحالی کے اقدامات کس حد تک کیے گئے۔ مقامی سطح پر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اس علاقے کو مطلوبہ توجہ نہیں مل سکی، جس کے باعث متاثرین میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ اس تاثر کو دور کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے واضح معلومات اور عملی اقدامات سامنے آنا ضروری ہیں۔
یہ وقت سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔ اس حلقے سے منتخب عوامی نمائندوں، ضلعی انتظامیہ، پنجاب حکومت، پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے کو چاہیے کہ کوٹلی ستیاں کے تمام زیر التوا کیسز کا ازسرنو جائزہ لیں، شفاف سروے کرائیں اور مستحق متاثرین کو بروقت مالی امداد فراہم کریں تاکہ وہ اپنی زندگی دوبارہ آباد کر سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ مستقل بنیادوں پر حفاظتی دیواروں کی تعمیر، پہاڑی ڈھلوانوں کی مضبوطی، نکاسی آب کے مؤثر نظام، جنگلات کے تحفظ، حساس مقامات کی نشاندہی اور بھاری مشینری کی پیشگی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہر سال ایک ہی المیہ دوبارہ جنم نہ لے۔
مون سون کی بارشیں ہر سال آئیں گی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر سال انہی نقصانات، انہی وعدوں اور انہی نامکمل سرویز کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے، یا پھر اس بار کوٹلی ستیاں کے متاثرین کو واقعی وہ انصاف اور امداد ملے گی جس کے وہ گزشتہ کئی برسوں سے منتظر ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب اب حکومت، متعلقہ اداروں اور منتخب نمائندوں کو اپنے عملی اقدامات سے دینا ہوگا۔