
کسی قوم کی ترقی کا راز اس کے اجتماعی شعور میں مضمر ہے ۔ قوم کا ہر فرد اپنی حدود میں رہ کر قومی ترقی کے لیے سر توڑ کوششیں کرتا ہے ۔ یہ انفرادی کوششیں دراصل ایک ہی مقصد کے لیے اور ایک ہی نظریے کے تحت سر انجام پاتی ہیں اور قوم کو باہم عروج تک لے جاتی ہیں ۔ یوں ہر فرد میں عظیم قوم کی جھلک دکھائی دیتی ہے ۔ سب ایک ہی نظریے کے تحت متحد نظر آتے ہیں اور دنیا میں اپنے ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہیں ۔ اس قومی و ملکی ترقی میں ہر فرد کا اپنا ایک خاص کردار ہوتا ہے ۔
کسی بھی ملک کی ترقی میں خواتین کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا خواب خواتین کے بغیر ادھورا رہ جاتا ہے ۔ مرد اور عورت زندگی کی گاڑی کے دو پہیوں ہوتے ہیں ۔ جیسے گاڑی ایک پہیے کے بغیر نہیں چل سکتی اسی طرح کسی قوم کی ترقی بھی عورت کے بغیر ممکن نہیں ۔ عورت دراصل قوم کے لیے ایک خاموش معمار کا کام سر انجام دیتی ہے ۔ عورت کسی بھی فرد کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے ۔ ایک ماں اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرتی ہے اور قوم کو اچھے ‘ مخلص اور باکردار افراد مہیا کرتی ہے ۔
ماں ہی وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد میں رشتوں کی پہچان متعارف کرواتی ہے ۔ ایک ماں ہی اپنی اولاد کو خلوص ، محبت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا منبع بناتی ہے ۔ عورت ماں کی حثیت سے اولاد کی کردار سازی کرتی ہے ۔ عورت بہن کی حثیت سے خاندان میں مسکراہٹیں بکھیرتی ہے اور آنگن کو مہکاتی ہے ۔ بھائیوں میں پیار بانٹتی ہے ۔ یہی عورت بیوی کے روپ میں سرتاج کو اعتماد فراہم کرتی ہے ۔ مختصر یہ کہ عورت ہر روپ میں معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے ۔وطنِ عزیز پاکستان کی ترقی کے سفر میں خواتین کا کردار نہایت اہم رہا ہے ۔
وطن عزیز کا ہر شعبہ خواتین کی شمولیت کے بغیر ادھورا تصور ہوتا ہے ۔ ہر شعبے میں خواتین نے اپنا لوہا منوایا ہے اور اپنا ایک مقام بنایا ہے ۔ تحریک پاکستان میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آئیں اور وطن کے حصول کے لیے قربانیاں دی ۔ تحریک کو مضبوط بنایا ۔ جلسے جلوسوں کا اہتمام کیا اور سیاسی جدو جہد میں بھرپور حصہ لیا ۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی قائد اعظم محمد علی جناح کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑی ہوئی اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا ۔ آپ نے تحریک پاکستان کی روح کو توانائی بخشی ۔
کارکنان میں جوش و جذبہ پیدا کرنے کے لیے مختلف سیاسی جلسوں میں تشریف لاتیں اور تحریک کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی تھیں ۔ مادر ملت کے ساتھ ساتھ کئی خواتین رہنماؤں نے تحریک پاکستان میں بھرپور کردار ادا کیا ۔ قیام کے بعد وطن عزیز کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان مسائل کے حل کے لیے خواتین نے آگے بڑھ کر اہم خدمات سر انجام دیں اور نئی معرضِ وجود میں آنے والی ریاست کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کیا ۔
پاکستانی خواتین نے دنیا کے ہر شعبے میں اپنا آپ منوایا ہے ۔ اور اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے ۔ سائنس ، طب ، تعلیم ، سیاست ، دفاع ، ادب غرض کوئی ایسا شعبہ نہیں جس نے خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی کی ہو ۔ اسلام خواتین کو زندگی کے مختلف شعبوں میں فعال کردار ادا کرنے کی اجازت اور ترغیب دیتا ہے ۔ اسلام نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کا حق دیا ہے اور علم کی فضیلت و اہمیت اجاگر کی ہے ۔
ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی مثال سب کے سامنے ہے ۔ آپ تجارت کرتی تھیں اور عرب کے تجارتی میدان میں ایک اہم مقام رکھتی تھیں ۔ آپ نے نبوت کے وقت خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا بھرپور ساتھ دیا اور دین اسلام کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے میں کردار ادا کیا ۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی صاحبزادی فاطمتہ الزہرا علیہ السلام نے ہر معاملے میں خواتین کی رہنمائی فرمائی۔
زندگی کے مختلف شعبوں میں خواتین کی شرکت ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے ۔ موجودہ دور میں خواتین کی سیاسی ، سماجی ، اقتصادی و دیگر شعبوں میں شمولیت قوموں کی ترقی میں کلیدی حثیت رکھتی ہے ۔ ملکی ترقی محض وسائل کا اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ یہ قوم کے اجتماعی شعور کی عکاس ہوتی ہے ۔ ایک زندہ قوم کا اجتماعی شعور اس قوم کی ترقی کہلاتا ہے ۔ خواتین اس ترقی کا بنیادی ستون ہے ۔ تاریخ کے اوراق کا مطالعہ کریں اور پھر موجودہ دور سے موازنہ کریں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ خواتین کا ہر دور میں معاشرے کی فلاح و بہبود اور قومی ترقی میں فعال کردار رہا ہے ۔
کسی بھی قوم کی تعلیم یافتہ باصلاحیت اور بااختیار خواتین نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پوری قوم کی تقدیر بدل سکتی ہیں ۔ کسی بھی قوم کی حقیقی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ قوم خواتین کو عزت و احترام کے ساتھ ساتھ علم و ہنر کی دنیا تک رسائی نہ دے ۔ خواتین کے ساتھ برابری کا سلوک ہو اور علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں کام کرنے کے مواقع میسر ہوں اور کام والی جگہ پر خواتین کی عزت و احترام کا خیال رکھا جائے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ قوم ترقی نہ کر سکے ۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر گامزن ہو کر کوئی ملک ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے ۔