
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف زیادہ تر بیرونی دوروں پر ہی دوڑتے نظر آتے ہیں، وفاقی وزرائ، وزرائے مملکت بھی قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کی زحمت کم ہی کرتے ہیں جبکہ بیرونی دوروں کو ہی ترجیح دینے لگے ہیں۔ ایم این ایز حضرات کو تھانہ کچہری اور گلی نالی کی افتتاحی تختیوں یعنی کمپنی کی مشہوری سے ہی فرصت نہیں ملتی، الغرض قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں حکومتی عدم دلچسپی کی انتہا ہوگئی۔ جب وزیراعظم نے ہی پارلیمنٹ ہاو¿س آنا چھوڑ دیا ہے تو پھر اور کس نے آنا ہے۔
اس ساری صورتحال میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بالکل بے بس نظر آتے ہیں۔ فافن کی جانب سے قومی اسمبلی کے 24 ویں سیشن کی حاضری رپورٹ جاری کی گئی جس میں اراکین پارلیمنٹ کی کم حاضری اور اہم عہدوں پر فائز شخصیات کی غیر حاضری پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔یہ سیشن دو فروری سے 12 فروری 2026ءتک چلا جس میں کل سات اجلاس ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق” 332 اراکین میں سے صرف 52 اراکین تمام نشستوں میں شریک رہے جبکہ 54 اراکین کسی بھی نشست میں موجود نہ تھے، تیسرے روز تو صرف 110 اراکین شریک ہوئے۔کابینہ اراکین میں سے صرف دو وزراء تمام نشستوں میں موجود رہے جبکہ نو وزراءکسی بھی نشست میں شریک نہ ہوئے جبکہ وزیراعظم نے سیشن کے دوران کسی بھی نشست میں شرکت نہیں کی”۔
فافن نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتلایا کہ چھبیسویں ہو یا ستائسویں یہ لوگ اپنی من پسند ترامیم کے لئے کس محبت و عقیدت اور خلوص و لگن سے ایوان میں جمع ہو جاتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی تعریفوں کے جو پ±ل باندھے ہیں، وزیر بیانات عطا تارڑ نے فرمایا کہ” جب قیادت ایماندار ہو تو نتیجہ ھمیشہ مثبت ہوتا ہے، کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت بیرونی دنیا میں بڑی پذیرائی ملی، پہلے پاکستان تنہائی کا شکار تھا اب ہر عالمی معاملے میں اہم پلیئر ہے”۔
بخدمت وزیر بیانات بصد ادب التماس ہے کہ اس کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت کیا کوئی بیرونی سرمایہ کار بھی متوجہ ہوئے ہیں اور کوئی مثالی سرمایہ کاری بھی ہوئی ہے؟ آج بھی ایشیا میں پاکستان بدستور سب سے کم سرمایہ کاری والا ملک ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کوئی مثبت و باضابطہ سرمایہ کاری معاہدے نہیں کر رہا، آج بھی عالمی سرمایہ کاروں کو روایتی منصوبوں کی پیشکش کر رہا ہے اور زیادہ تر مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) تک محدود ہے۔
پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی(PRIME) کی ریسرچ اکانومسٹ مریم ایوب کے مطابق” پاکستان کی سرمایہ کاری کی شرح خطے سے ساختی طور پر منقطع ہے، دیگر معیشتیں جھٹکوں کے باوجود بھی کہیں زیادہ سرمایہ کاری برقرار رکھتی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی سرمایہ کاری جی ڈی پی تناسب مالی سال 2022ءمیں15.6 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2024ء میں13.1 فیصد تک آگیا ہے جبکہ اس دوران بھارت نے 32 سے 35 فیصد، ویتنام نے 30 سے 33 فیصد اور بنگلہ دیش نے تاریخی طور پر قریباً 30 فیصد کی سطح برقرار رکھی”۔
ماہرین معاشیات کے مطابق 15 فیصد سے کم سرمایہ کاری کی سطح پاکستان کی ترقی کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے خود اعتراف کیا کہ”معاشی عدم استحکام سے ملک میں غربت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ غربت کی شرح 28.9 فیصد ہو گئی اور عدم مساوات میں بھی اضافہ ہوا ہے”
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی رمضان آتے ہی مہنگائی کا بھوت بے قابو ہو گیا۔ ادارہ شماریات کے مطابق “ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 1.16 فیصد اضافہ ہوا۔ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 5.19 فیصد پر پہنچ گئی”۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی توانائی میں انکشاف ہوا ہے۔ سوئی گیس حکام نے کہا کہ سالانہ 60 ارب روپے کی گیس چوری ہوتی ہے اور ان نقصانات کا بوجھ صارفین پر ڈالا جاتا ہے۔ غربت و مہنگائی میں اضافے سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی۔
غریب دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے لیکن ان حالات میں بھی سی ایم پنجاب مہنگے طیارے خرید رہی ہیں۔ بیوروکریسی کے لیے لگژری گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں اور سیکڑوں لیٹر پیٹرول مفت مہیا کیا جا رہا ہے۔ سوچنا یہ ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہوگا جنہوں ایک عوامی جمہوری لیڈر کو پھانسی دے دی اور آج مدتوں بعد ہم پر یہ ع±قدہ وا ہوا کہ وہ ایک عدالتی قتل تھا اور ایک فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کو ہم اس کی زندگی میں آرٹیکل سکس کی خلاف ورزی، آئین کے قتل کی کوئی سزا نہ دے سکے، جیسے جنوبی کوریا کی عدالت نے سابق صدر یون سک یول کو بغاوت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر یون سک یول نے دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کر کے پارلیمان کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا، عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ صدر یون سک یول نے آئینی نظام کو مفلوج کرتے ہوئے فوج کو پارلیمنٹ بھیجا تاکہ قومی اسمبلی کو کام کرنے سے روکا جا سکے۔ عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی حالانکہ استغاثہ نے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ کاش ہمارے کرتا دھرتا اور عدالتیں جنوبی کوریا کے اس عدالتی فیصلے سے کچھ سبق سیکھ سکیں کاش۔