لیسکو چیف کی ترقی سے متعلق اجلاسوں کے منٹس شہری کو فراہم کرنے کا حکم برقرار

(پنڈی پوسٹ نیوز)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے لیسکو کی اپیل پر 11صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا، لیسکو نے انفارمیشن کمیشن کی جانب سے لیسکو چیف محمد رمضان بٹ کی ترقی سے متعلق ہیومن ریسورسز اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاسوں کے منٹس شہری کو فراہم کرنے کے فیصلے کو لاہور پاکستان میں چیلنج کیا تھا۔جسٹس راحیل کامران شیخ نے فیصلے میں لکھا کہ رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ دو ہزار سترہ کے تحت اجلاسوں کے منٹس کو حتمی فیصلے تک قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے، تاہم عوامی ادارے کی جانب سے حتمی فیصلہ کیے جانے کے بعد یہ استثنیٰ برقرار نہیں رہتا۔عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل انیس اے کے تحت شہریوں کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا بنیادی حق حاصل ہے، تاہم یہ حق قانون میں مقرر کردہ معقول پابندیوں کے تابع ہے، معلومات تک رسائی کے قانون کا بنیادی مقصد سرکاری اور عوامی اداروں میں شفافیت اور احتساب کو فروغ دینا ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق عطیق احمد خان نے لیسکو سے ستائیس فروری دو ہزار تئیس کو ہونے والے ایک سو چوالیسویں ہیومن ریسورسز اجلاس اور چار مئی دو ہزار پچیس کو ہونے والے دو سو اکسٹھویں بورڈ آف ڈائریکٹرز اجلاس کے مصدقہ منٹس طلب کیے تھے، دونوں اجلاس لیسکو افسر محمد رمضان بٹ کی ترقی سے متعلق تھے۔لیسکو کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اجلاسوں کی کارروائی میں افسر کے سروس ریکارڈ، سالانہ خفیہ رپورٹس، ریمارکس اور دیگر ذاتی نوعیت کی معلومات شامل ہیں، اس لیے یہ ریکارڈ شہری کو فراہم نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے لیسکو کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ صرف اس بنیاد پر کہ معلومات کسی افسر کی ترقی سے متعلق ہیں، پورے ریکارڈ کو ذاتی رازداری کے زمرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا، اگر اجلاس کے منٹس کے کسی مخصوص حصے میں ایسی معلومات موجود ہوں جو قانون کے تحت محفوظ ہوں تو صرف اس حصے کو الگ کیا جا سکتا ہے، لیکن اس بنیاد پر پورا ریکارڈ روکنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔جسٹس راحیل کامران شیخ نے فیصلے میں لکھا کہ معلومات طلب کرنے والے شہری کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ معلومات کس مقصد کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہے، قانون کے تحت درخواست گزار سے معلومات طلب کرنے کی وجہ یا مقصد دریافت نہیں کیا جا سکتا، معلومات روکنے کے جواز کو ثابت کرنے کی ذمہ داری عوامی ادارے پر عائد ہوتی ہے، تاہم لیسکو یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ مطلوبہ اجلاسوں کے منٹس مکمل طور پر کسی قانونی استثنیٰ یا رعایت کے دائرے میں آتے ہیں۔عدالت نے انفارمیشن کمیشن کی جانب سے لیسکو کو دس روز کے اندر مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کے حکم کو بھی قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن کو اپنے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانے اور عوامی ادارے کو معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دینے کا اختیار حاصل ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ انفارمیشن کمیشن کے چار مئی دو ہزار چھبیس کے فیصلے میں کوئی غیر قانونی اقدام یا دائرہ اختیار کی خامی موجود نہیں، لہٰذا لیسکو کی آئینی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔