
پاکستان اس وقت سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر کئی مشکل چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں ہماری سب سے بڑی ضرورت باہمی اختلافات کو مزید بڑھانا نہیں بلکہ قومی اتفاقِ رائے، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور پُرامن سیاسی مکالمے کو فروغ دینا ہے۔
میری حکومتِ پاکستان، تمام سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں اور ملک کے تمام ذمہ دار سیاسی رہنماؤں سے مؤدبانہ اور درد مندانہ گزارش ہے کہ موجودہ کشیدہ ماحول کو ختم کرنے اور ملک کو مزید تقسیم سے بچانے کے لیے فوری طور پر ایک وسیع البنیاد آل پارٹیز گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا جائے، جس میں تمام اہم سیاسی جماعتوں کے قائدین اور متعلقہ قومی اداروں کے ذمہ دار نمائندگان کو ایک میز پر بٹھایا جائے۔
میری درخواست ہے کہ اس گول میز کانفرنس میں تمام فریق ذاتی مفادات، سیاسی مفادات، مالی مفادات اور باہمی سیاسی دشمنیوں کو بالائے طاق رکھ کر ایک عہد کے ساتھ بیٹھیں کہ ہم پاکستان کے قومی و ملکی مفادات اور عوامی فلاح کو ہر ذاتی یا جماعتی مفاد پر ترجیح دیں گے۔ہم خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ عہد کریں کہ پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی، عوام کی خوشحالی، آئین و قانون کی بالادستی اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کو اپنے تمام فیصلوں میں مقدم رکھیں گے۔
ہم ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے پاکستان کے مسائل کو شکست دینے کا راستہ اختیار کریں۔ سیاسی اختلاف کو دشمنی نہ بننے دیں، مکالمے کے دروازے کھلے رکھیں اور ملک کے موجودہ مسائل کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے بھی ایک متفقہ اور قابلِ عمل قومی لائحۂ عمل مرتب کریں۔
اہم قومی فیصلے وسیع تر قومی مشاورت، آئینی اصولوں اور عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیے جائیں، تاکہ ملک میں اعتماد بحال ہو، سیاسی استحکام پیدا ہو، معیشت مضبوط ہو اور پاکستان امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر آگے بڑھ سکے۔آج پاکستان کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہونے والوں کی نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے، ایک دوسرے کو سننے اور ملک کے لیے مل کر بیٹھنے والوں کی ضرورت ہے۔
آئیے اختلافات کو مکالمے میں، تنازعات کو مذاکرات میں اور تقسیم کو قومی اتفاقِ رائے میں تبدیل کریں۔پاکستان ہم سب کا ہے؛ اس کا حال بھی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس کا مستقبل بھی۔اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام، اتحاد، خوشحالی اور ترقی عطا فرمائے۔ آمین۔پاکستان پائندہ باد 🇵🇰