ہمارے معاشرے میں تشدد کا عنصر تیزی سے سرایت کررہا ہے۔تحمل برداشت اور روادری کے جوہر ناپید ہورہے ہیں۔معاشرات کے لگے بندھے اصول آج شکستگی سے دوچار ہیں۔ برادشت کا عنصر دھیرے دھیرے نہیں بلکہ تیزی سے مفقود ہورہا ہے۔ گلی محلوں سے ریاست وسیاست تک افراد جماعتیں اور گروہ اشتعال کا شکار نظر آتے ہیں۔

عدم برداشت کے باعث بات قتل وخون تک پہنچ جانا اب کوئی اچنبھے کی بات نہیں رہی۔ انصاف سے مایوسی معاشرے کو از خود فیصلے کرنے پر مجبور کررہی ہے۔ہرشخص خود مدعی اور خود ہی منصف ہے۔ہر دور کے انسان کے لیے ایک میدان عمل ہوتا ہے جہاں انسان ہر طرح کے کردار میں آتا ہے۔کوئی محبت کرتا ہے توکوئی نفرت کو،پروان چڑھاتا ہے۔
کوئی برداشت کے تحت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتا ہے تو کوئی نتیجہ سوچے بنا وہ فیصلہ کرگزرتا ہے جو نہ صرف اس کے لیے بلکہ اس کے خاندان کے لیے بھی نقصان کاباعث بنتا ہے؛ مشرق ہو یا مغرب شمال سے لے کر جنوب تک انسانوں کی بستیاں پھیلی ہوئی ہیں ہر جگہ اولاد آدم اور بنت حواء کے آپس کے رشتے نہ جانے کیوں زیادہ تر زخمی نظر آتے ہیں۔ہمارے یہاں محبتیں بانٹے کے بجائے نفرتوں کے پودوں کی آبیاری کی گئی ہے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ آج سماج میں پیارہیں محبت اور در گزر جیسے مثبت جذبات کے بجائے منفی رویوں نے جگہ بنا لی ہے زندگی میں اچانک کوئی ایسا واقعہ رونما ہوجاتا ہے کہ انسان اخلاقیات کی چھاؤں سے نکل کر جرم کی کڑی دھوپ میں کھڑا ہونا پسند کرلیتا ہے۔ایسا ہی ایک واقعہ گوجرخان کے وارڈ نمبر 5 تکیہ بابا رحیم شاہ میں وقع پذیر ہوا جس میں باپ نے بیٹی کو رحمان اللہ نامی نوجوان کے ساتھ دیکھ کر دونوں کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
جبکہ بیوی کے روکنے پر ملزم نے بیوی پر بھی فائرنگ کرتے ہوئے اسے بھی گھائل کردیا واقعہ علی الصبح لگ بھگ چار بجے پیش آیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی غیر شخص کا چار بجے کسی لڑکی کے ساتھ گھر میں موجود ہوناایک معیوب عمل ہے جو قانونی،شرعی اور اخلاقی لحاظ سے قابل گرفت ہے لیکن جذبات کی رو میں بہہ کر قانون کا اپنے ہاتھوں میں لینا اور دوزندگیوں کا خاتمہ بھی کسی طور قابل قبول نہیں ہوسکتا۔غیرت کے نام پر قتل ہمارے معاشرے میں ایک روایت کے طور موجود ہے اور اسے بہادری تصور کیا جاتا ہے
لیکن یہ قطعی بہادری نہیں یہ قانوناً،شرعاً ناجائز عمل ہے۔بہن بیٹی کو کسی کے ساتھ دیکھ کر جذبات کو قابو میں رکھنا اور ٹھنڈے دماغ سے اس کا حل نکالنا بہادری ہے۔جس نے ناجائز تعلقات پر گناہ گاروں کو مارنے کے بجائے نفس کو مار لیا وہ بہادر ہے جو یقیناً بہت زیادہ مشکل کام ہے۔کیونکہ جس سماج میں ہم لوگ زندہ ہیں اس میں ایسے والد سے معاشرے کے گھناونے کردار جینے کا حق چھین لیتے ہیں۔طنعہ زنی اور سرگوشیاں ایسے فرد کوپل،پل مارتی ہیں لیکن یہ نہیں کہ قتل کرنے کے بعد قاتل کی تعریف کی جاتی ہے۔
معاشرہ اس فعل پر بھی طعنہ زنی کرتا ہے۔اگر برداشت کرتے ہوئے معاملے کا بہتر حل نکالا جائے تو گھرانے تباہی سے بچ جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے مذہبی حلقے عوام کو اس حوالے سے اگاہی دیں کہ ایسے نازک موقع پر جب ایک باپ اپنی پیٹی یا بھائی اپنے بہن کو کہیں قابل اعتراض حالت دیکھے تو اس وقت اسے شرعی لحاظ سے کیا قدم اٹھانا چاہیے۔دینی حلقے اور ہمارے پیشوا لوگوں کو اس معاملے میں اسلامی تعلیمات بارے اگاہی دے کرغیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے واقعات میں کمی لاسکتے ہیں۔
طالب حسین
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.