سیلاب کی تباہ کاریاں

پانی زندگی کی علامت ہے پانی زندگی میں جہاں بنیادی ضرورت ہے۔وہاں دنیا کی خوبصورتی بھی اس کے دم سے ہے۔لیکن اس کی خوبصورتی وہی ہے کہ یہ جھرنوں کی صورت میں قدرت کا حسین نظارہ پیش کرے،دریاؤں‘ندی،نالوں میں بہتا ہوا سمندر کی طرف رواں دواں رہے،جب بھی کوئی چیز اپنی حد سے باہر چلی جاتی ہے تو اس کی خوبصورتی تباہی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔پانی کی بے باکی جو وہ اپنی حد کے اندر رکھتا ہے جوالامکھی لگتی ہے لیکن جب یہ اپنے جوبن پر آکر حد پھلانگتا ہے اور ہر چیز کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے تو یہ خو فناک منظر پیش کرتا ہے۔ انسان جواپنی عقل ودانش سے کام لیتے ہوئے بڑے بڑے بند باندھ کر پانی کو جولانیاں دکھانے سے روکتا ہے،کبھی ڈیم بنا کر اسے محفوظ کر لیتا ہے اور پھر اس کی توانائی سے بھر پور فائدہ اٹھاتا ہے۔اسے پینے کے قابل بناتا ہے تو کبھی خشک علاقوں تک نہروں و دریاؤں کے ذریعے بنجر زمینوں کو سر سبز شاداب کرتا ہے۔لیکن جب وہی انسان اس طرف سے غافل ہو جائے تو پھر اس کا پانی کی روانی کے سامنے ٹکنا محال ہو جاتا ہے، پھر انسان ہو یا حیوان سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے اللّہ کبھی سیلاب نہ دکھائے بھی نہ،کسی غریب کی کل متاع اپنی ساری جمع پونجی اچانک سب کُچھ سیلاب میں بہہ جائے پھرغریب آدمی کُنبے کو بچاتے بچاتے اپنا سارا مال مویشی اپنی آنکھوں کے سامنے بہتا ہوا دیکھے اور کُھلے آسمان تلے اپنے کُنبے سمیت کھانے پینے سے بھی محروم ہو کر وقت کے حکمران کی طرف دیکھے کہ شاید کسی خدا ترس کو رحم آئے اور وہ کھانے پینے کے لیے کچھ بھیجے جس سے وہ اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکے۔ہماری بے بسی کا عالم دیکھئے کبھی قحط سالی کی وجہ سے بے زبان جانوروں کی اموات،کبھی زیادہ بارشوں کی وجہ سے سیلاب کی تباہ کاریاں اور کبھی زلزلوں کی وجہ سے دربدر کی ٹھوکریں۔پتہ نہیں ہمارے ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے کہ ایک مسئلہ ابھی پوری طرح حل نہیں ہوتا، ایک نیا بکھیڑا سر اٹھا لیتا ہے پاکستان میں مون سون کی بارشوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال نے سب کو بے چین کر کے رکھ دیا ہے۔ حالیہ سیلاب اور بارشوں نے ملک میں تباہی مچا دی ہے، ملکی معیشت و سالمیت جہاں دیگر مسائل سے دو چار ہے وہاں سیلاب کی سالانہ تباہ کاریاں بھی جاری ہیں۔ گزشتہ برسوں کی طرح اِمسال بھی سیلاب ملک میں تباہی کا پیغام لے کر آیا اس سال بھی سیلاب کی تباہ کار یوں سے زرعی فصلیں اور ملکی معیشت کو شدید دھچکا لگاہے۔محکمہ موسمیات اور نیشنل ڈیزاسٹر سیل نے متاثرہ اضلاع میں قبل از وقت آگاہی کی بگل بجا دی تھی لیکن افسوس ناک عمل یہ ہے کہ سالانہ بنیاد پر آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کیلئے تاحال کوئی مؤثر حکمت عملی مرتب نہیں کی گئی، ہمیشہ کی طرح قصے کہانیاں اور زبانی دعوے سننے کو ملتے ہیں کہ پڑوسی ملک بھارت پاکستان سے دشمنی کی بنا پر واٹر وار کے تحت ڈیموں سے اضافی پانی پاکستان کے دریاؤں میں چھوڑ دیتا جس سے دریاؤں میں پانی کی حد تناسب خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے جس سے تباہی پھیلتی ہے ہمارے ملک میں ڈیموں کی تعداد انتہائی کم ہے جس کی وجہ سے پانی کے اضافی بوجھ کو روکنا ممکن نہیں -کالاباغ ڈیم پانی جمع کرنے کا بہترین منصوبہ ہے جو بھی تاحال کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکا مختلف سیاسی، لسانی، سماجی علاقائی اختلافات کی زد میں آکر یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہے بھارت نے ہمارے پانی کے حق پر ڈاکہ ڈالتا رہتا ہے اس لیے اس نے لا تعداد ڈیم قانونی اور غیر قانونی بنا لئے ہیں او آئی سی اور عالمی اداروں کی خاموشی پاکستان کے لئے خاموش پیغام ہے کہ اپنے وسائل بروئے کار لا کر اس واٹر وار کا سامنا کرنا ہو گا جب بھی پاکستان میں مون سون کی بارشوں کا موسم آتا
ہے تو بھارت ہمیشہ کی طرح اپنی منافقانہ دشمن سوچ کے تحت”بغل میں چھری منہ میں رام رام“ اوپر سے دوستی اور ہمدردی جتاتا ہوا نظر آتا ہے اندر سے دشمن کی طرح موقع کی تلاش میں کوئی وار خالی نہیں جانے دیتا اس موسم میں وہ اپنے ڈیموں سے اضافی پانی چھوڑ دیتا ہے جس سے دریاؤں میں پانی کی حدِ تناسب خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے جس سے سیلاب کی صورت میں تباہی پھیلتی ہے شہری اور دیہی علاقے متأثر ہوتے ہیں کیونکہ ایک دریاکے ہیڈ میں پانی کے گزرنے کی گنجائش پانچ لاکھ کیوسک ہے اور اگر اس میں پانی کی حد نو لاکھ کیوسک فٹ آجائے تو پھر اس ہیڈ اور دریا کو محفوظ رکھنے کیلئے کم آبادی والے علاقوں میں دریاؤں اور بندوں پر شگاف ڈالا جاتا ہے تاکہ پانی کے اخراج اور خطرناک حد تناسب کو کم کیا جائے، اس شگاف سے اخراج شدہ پانی اور اُس کی زد میں آنے والے علاقوں، بستیوں اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے-ہمارے ملک میں جاری دہشت گردی‘معیشت کی بد حالی اور سیاسی گرما گرمی‘احتجاج‘جلسہ جلوس اور مختلف ٹیکسز کے ادراک نے پہلے ہی عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے ان حالات میں قدرتی آفات کا آنا عوام کیلئے قیامت صغریٰ سے کم نہیں ہے قدرتی آفات ایک تو خالصا َ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں جن کا حفاظتی تدابیر و بچاؤ کے سوا کوئی سدباب نہیں ہو سکتا دوسری قدرتی آفات ہماری اپنی کوتاہی ہٹ دھرمی عدم تخفظ کی منصوبہ بندی سے وابستہ ہے کہ پانی کی نکاسی کیلئے سیوریج سسٹم بنا سکتے ہیں ڈیم بنا سکتے ہیں جو کہ ہم نے جان بوجھ کر نہیں بنائے یعنی آ بیل مجھے مار کے کلیہ کے تحت قدرتی آفات کا سامنا کرنا جس کی مثال موجعدہ سیلاب کی تباہ کاری ہے اگر ڈیم ہوتے پانی کا معقول اخراج و استعمال کا منظم انتظام ہوتا تو شاید اتنی تباہی و بربادی نہ ہوتی سیلاب ہر سال ملک میں آتا ہے، اس پر اربوں روپے کے فنڈ صرف کیے جاتے ہیں اور اس کے نقصانات کا باریک بینی کی عینک سے تخمینہ لگایا جائے تو اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے ریلیف آپریشن پر آنے والے اخراجات سے بھی کم بجٹ میں ڈیم کی تعمیر ممکن ہے جب سیلاب آتا ہے تو ہنگامی بنیادوں پر امدادی کام کئے جاتے ہیں اور آئندہ کے لئے سیلاب سے بچنے کی ممکنہ پالیسی بھی وضع کی جاتی ہے روایتی اندازاور وایتی عمل کی بحث چند دنوں کے بعد ہم سیلاب کی تباہ کاریوں کو تاریخ کا حصہ سمجھ کر بھول جاتے ہیں لیکن یاد رکھیں جو قومیں اپنی تاریخ سے راہ فرار اختیار کرتی ہیں وہ ہمیشہ ناکامی و رسوائی کا سامنا کرتی ہیں، تاریخ انہیں مٹا دیتی ہے، بھلا دیتی ہے۔ایسا ہی کچھ سیلاب آنے اور چلے جانے کے بعد ہمارے ملک و عوام کے ساتھ ہوتا ہے جہاں حکومتی مشینری سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف آپریشن میں سرگرم عمل نظر آتی ہیں وہاں فلاحی ادارے اپنی این جی اوز اس موقع پر اپنی مدد آپ کے تحت جذبہ خیر سگالی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سیلاب سے متاثرین کی بھر پور مدد کرتے نظر آتے ہیں اور یہ ادارے‘جماعتیں محدود وسائل میں لامحدود کام منظم پلاننگ و حکمت عملی سے سر انجام دیتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ سیلابوں اوردوسری قدرتی آفات کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ اگر ایک بڑا ڈیم سیلابوں سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے تو اس بارے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ محکمہ موسمیات کو جدید بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ موسموں کے حوالے سے قبل از وقت ٹھیک ٹھیک پیش گوئی کر سکے اور اگر شدید بارشوں کی پیش گوئی ہو تو جن علاقوں میں سیلاب آنے کا خطرہ ہو وہاں سے لوگوں اور ان کے مال مویشیوں کو نکالنے کے لئے بروقت کام ہونا چاہئے ان کے ڈوب جانے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم سیاسی معاملات میں اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ کسی دوسرے ایشو کی طرف توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

اپنا تبصرہ بھیجیں