سپریم کورٹ نے بھارت سے ہجرت کرکے آنے والی بیوہ کے حق میں تاریخی فیصلہ سنا دیا

(پنڈی پوسٹ نیوز)سپریم کورٹ نے بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والی بیوہ کے حق میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کے سابقہ فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔ فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ عبدالکریم پاکستان بننے سے قبل ہی انتقال کر چکے تھے، جبکہ ان کی بیوہ نواب بی بی نے پاکستان منتقل ہونے کے بعد مستقل آبادکاری کے لیے ذاتی حیثیت میں زمین کی الاٹمنٹ کی درخواست دی تھی۔

عدالت کے مطابق جس زمین پر فریقین نے اپنے حصے کے حصول کا دعویٰ کیا، وہ کبھی عبدالکریم کی ملکیت رہی ہی نہیں تھی بلکہ یہ جائیداد ایک بے گھر ہجرت کرنے والی بیوہ خاتون کو الاٹ کی گئی تھی۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ فریقین نے نہ تو بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آنے کا دعویٰ کیا اور نہ ہی خود کو نقل مکانی کرنے والے افراد کے طور پر پیش کیا۔ مرحوم عبدالکریم کے رشتہ دار کا جائیداد پر دعویٰ صرف بھارت میں چھوڑی گئی زمین کی حد تک ہو سکتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ چیف سیٹلمنٹ اتھارٹیز نے نواب بی بی کی درخواست منظور کرتے ہوئے 1963 میں انہیں زمین الاٹ کی تھی۔ بعد ازاں بیوہ نے الاٹ شدہ زمین اپنی بیٹی کو بطور تحفہ دے دی، جسے فریقین نے چیلنج کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا سال 2000 کا حکم اور ہائیکورٹ کا 2014 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ متنازعہ زمین پر فریقین کا دعویٰ قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں۔