ریاست طاقت ہوتی ہے یا ماں؟

گاؤں بروالہ کے رہائشی متاثرین ددہوچھہ ڈیم اسی سوال کا عملی جواب ڈھونڈ رہے ہیں
ریاست کو ماں کہا جاتا ہے۔یہ جملہ ہمارے نصاب، تقاریر اور بیانات میں اس قدر رچ بس گیا ہے کہ اب اس پر سوال اٹھانا گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں اپنے نعروں سے نہیں، اپنے رویّوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ریاست خود کو کیا کہتی ہے، سوال یہ ہے کہ وہ کمزور کے ساتھ کیا کرتی ہے۔ماں کی پہچان بہت سادہ ہوتی ہے،ماں کمزور اولاد کے ساتھ ہوتی ہے،ماں نالائق کے ساتھ ہوتی ہے،ماں اس بچے کے ساتھ ہوتی ہے جسے دنیا نے نظرانداز کر دیا ہو،ماں کے لیے اولاد سے آگے کچھ نہیں ہوتا، نہ اکثریت، نہ منصوبہ، نہ فائدہ، نہ نقصان،چاہے اولاد جیسی بھی ہو، ماں اسے ترک نہیں کرتی،

لیکن جب ہم ریاست کے فیصلوں کو دیکھتے ہیں تو دل میں ایک سوال جنم لیتا ہے:کیا یہ واقعی ماں ہے، یا محض طاقت؟دادوچھہ ڈیم کے منصوبے کے سائے تلے بیٹھا گاؤں بروالہ اسی سوال کا عملی جواب ڈھونڈ رہا ہے۔بروالہ کوئی سرکش گاؤں نہیں۔یہ وہ لوگ نہیں جنہوں نے ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالی ہو۔انہوں نے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ ڈیم نہ بنایا جائے۔انہوں نے کبھی راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے پانی روکنے کی بات نہیں کی۔انہوں نے صرف اتنا کہا:اگر ریاست ہم سے زمین لیتی ہے،

اگر ہمارے گھر مسمار ہوتے ہیں،اگر ہماری چھتیں، کھیت، درخت اور نسلوں کی کمائی ختم ہوتی ہے،تو اس نقصان کی مکمل اور منصفانہ تلافی کی جائے۔یہ مطالبہ ضد نہیں تھا،یہ بغاوت نہیں تھی،یہ محض انصاف کی درخواست تھی۔مگر بروالہ کی آواز فائلوں میں دبتی چلی گئی،زمین کے نرخ کاغذ پر طے ہوئے،گھروں کی قیمت سرکاری ریٹ میں قید ہو گئی،اور کسانوں کو وہ معاوضے تھمائے گئے،جو نہ زمین کا بدل تھے، نہ زندگی کا سہارا۔یہ وہ لمحہ تھا جہاں ماں کو کھڑا ہونا چاہیے تھا،کمزور اولاد کے ساتھ،

لیکن یہاں طاقت کھڑی ہوئی،طاقت نے حساب لگایا،طاقت نے فائدہ دیکھا،طاقت نے کہا:“لاکھوں لوگوں کو پانی مل رہا ہے،چند سو گھروں کا اجڑنا کوئی بڑی قیمت نہیں۔”یہ جملہ ماں کا نہیں ہو سکتا۔یہ طاقت کا جملہ ہے۔جمہوری نظام میں ایسے وقت پر نظریں اپنے منتخب نمائندوں پر جاتی ہیں۔بروالہ نے بھی یہی کیا۔قومی اسمبلی میں اپنے ایم این اے، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی طرف دیکھا۔صوبائی اسمبلی میں اپنے ایم پی اے راجہ شوکت بھٹی کی طرف دیکھا۔یہ وہ نمائندے تھے جنہیں ایوانوں میں کھڑے ہو کر یہ کہنا تھا کہ ترقی اگر قربانی مانگتی ہے تو قربانی عزت کے ساتھ لی جائے۔یہ وہ آوازیں تھیں جنہیں متاثرین کا مقدمہ بننا تھا۔مگر آج بروالہ کا سب سے بڑا سوال یہی ہے:کیا ہماری بات واقعی ایوانوں تک پہنچ رہی ہے؟

جب اسمبلیوں میں امید کمزور پڑ گئی،جب فائلوں نے حرکت نہ کی،جب ہر دروازہ کھٹکھٹا کر بھی انصاف نہ ملا،تو بروالہ کے لوگوں نے وہ راستہ اختیار کیا،جہاں مجبور لوگ آخری امید لے کر جاتے ہیں۔آج بروالہ کے متاثرین فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب سے انصاف کی درخواست کر رہے ہیں۔یہ کوئی سیاسی چال نہیں،یہ کسی ادارے کو للکارنا نہیں،یہ ایک گاؤں کی بے بسی کی آخری صدا ہے۔یہ اس نظام پر سوال ہے جہاں ایک شہری، ایک کسان، ایک بے گھر خاندان،ہر جمہوری دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد بھی انصاف سے محروم رہ جائے۔ریاست اگر واقعی ماں ہے تو یہ وہ لمحہ ہے جب اسے ثابت کرنا ہوگا۔

ماں طاقتور اولاد کے ساتھ نہیں،کمزور کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ماں منصوبوں سے محبت نہیں کرتی،اولاد سے کرتی ہے۔ اگر بروالہ کوزمین کے بدلے زمین،گھر کے بدلے گھر،نقصان کے بدلے مستقبل دے دیا جائے،تو یہ گاؤں ریاست کے لیے مسئلہ نہیں رہے گا،یہ ریاست کے لیے مثال بن جائے گا۔ورنہ تاریخ یہ نہیں لکھے گی کہ یہاں ایک بڑا ڈیم بنا،تاریخ یہ لکھے گی کہ یہاں انصاف ڈوب گیااور طاقت کنارے پر کھڑی دیکھتی رہی،اور ماں؟ماں کبھی اپنے بچے کوڈوبتے ہوئے نہیں دیکھتی۔

عاطف


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.