روات ہسپتال سیاست کی نذر

سوہاوہ میں کڈنی سینٹر کے افتتاح کی خبر بظاہر خوش آئند ہے، کیونکہ علاج کی سہولت اور انسانیت کی خدمت ہر صورت قابلِ ستائش عمل ہے۔ سوہاوہ اور اس کے گردونواح کے عوام یقیناً اس منصوبے سے مستفید ہوں گے اور انہیں اس پر مبارکباد دی جانی چاہیے۔لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب اس منصوبے پر گوجرخان، مندرہ، ساگری سرکل، کلر سیداں، کہوٹہ، روات اور چک بیلی خان روڈ کے عوام کو بھی مبارکبادیں دی جا رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان علاقوں کے مریض واقعی سوہاوہ جا کر کڈنی سینٹر سے فائدہ اٹھا سکیں گے؟ کیا راولپنڈی، روات یا گوجرخان کے لوگ علاج کے لیے سوہاوہ کا رخ کریں گے؟

حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبے کا اصل فائدہ سوہاوہ اور ضلع جہلم کے عوام کو ہوگا، نہ کہ تحصیل گوجرخان یا راولپنڈی کے گردونواح کو۔ ایسے میں گوجرخان کے عوام کو خوشخبریاں سنانا ایسا ہی ہے جیسے بارش کسی اور کے کھیت میں ہو اور چھتری کسی اور کو تھما دی جائے۔اصل سوال کہیں اور ہے، اور وہ سوال مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔روات کے مقام پر بننے والا تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال،جس پر کروڑوں روپے خرچ ہو چکے ہیں،آج بھی نامکمل پڑا ہے۔ یہ ہسپتال چوہدری نثار علی خان کے دور میں شروع ہوا، اور 2018 سے قبل اس کا تقریباً 95 فیصد کام مکمل ہو چکا تھا۔ مگر اس کے بعد اچانک تعمیری کام روک دیا گیا۔یہ ہسپتال کسی ایک فرد یا سیاسی جماعت کا نہیں تھا،

بلکہ اس کا مقصد تحصیل کلر سیداں، تحصیل کہوٹہ، تحصیل گوجرخان، چک بیلی خان روڈ، مندرہ اور گردونواح کے لاکھوں عوام کو علاج کی سہولت فراہم کرنا تھا۔ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا تو عوام کو راولپنڈی جانے کی مشکلات سے نجات مل سکتی تھی۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آج تک نہ کسی ایم این اے اور نہ ہی کسی ایم پی اے نے اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ نہیں بتایا کہ آخر اس ہسپتال کا کام کیوں رکا ہوا ہے۔کیا موجودہ ایم این اے راجہ پرویز اشرف اور ایم پی اے شوکت عزیز بھٹی اس سے لاعلم ہیں؟کیا سابق ایم این اے راجہ جاوید اخلاص کی نظر کبھی اس ادھورے ہسپتال پر نہیں پڑی؟

یا صرف اس لیے اس منصوبے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے کہ یہ چوہدری نثار علی خان کا منصوبہ تھا اور اس پر ان کی تختی لگی ہوئی ہے؟اگر یہی وجہ ہے تو یہ سیاسی انتقام نہیں بلکہ عوام کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صحت کے شعبے میں بڑے بڑے دعوے کر رہی ہیں، مگر کیا وہ اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ روات میں ایک تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال صرف پانچ فیصد کام باقی ہونے کے باوجود برسوں سے ادھورا پڑا ہے؟اگر نیت واقعی عوامی خدمت کی ہے تو سوال سادہ ہے:روات تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال آج تک مکمل کیوں نہیں ہوا؟گوجرخان کے عوام کو سوہاوہ کے منصوبے پر مبارکبادیں کیوں دی جا رہی ہیں؟

اگر گوجرخان کے عوام کی خدمت مقصود ہے تو کڈنی سینٹر جی ٹی روڈ روات یا گوجرخان میں کیوں نہیں بنایا گیا؟یہ خوشخبری نہیں، بلکہ سیاسی طنز ہے،وہ بھی حلقے کے عوام کے ساتھ۔عوام آج خاموش ہیں، صبر کر رہے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب صبر ٹوٹتا ہے تو اس کا جواب بیلٹ باکس میں دیا جاتا ہے۔اب بھی وقت ہے کہ نمائشی سیاست اور تختیوں سے نکل کر حقیقی عوامی مسائل پر توجہ دی جائے، کیونکہ یہ ہسپتال کسی سیاست دان کا نہیں بلکہ پورے علاقے کا حق ہے۔

محمد عرفان الحق ملک