نسل،رنگ،زبان،وطن اور قومیت کے تعصب کی عظیم گمراہی دنیا میں ہمیشہ عالمگیر فساد کی موجب بن رہی ہے۔قدیم زمانے سے آج تک ہر دور میں انسان بالعموم انسانیت کو نظر انداز کر کے اپنے گرد کچھ چھوٹے چھوٹے دائرے کھینچتارہا ہے جن کے اندر پیدا ہونے والوں کو اس نے اپنا اور باہر پیدا ہونے والوں کو غیر قرار دیا ہے۔ یہ دائرے کسی عقلی اور اخلاقی بنیادوں پر نہیں بلکہ اتفاقی پیدائش پر کھینچے گئے ہیں‘ کہیں ان کی بنا ایک خاندان، قبیلے یا نسل میں پید ا ہونا ہے اور کہیں ایک جغرافیائی خطے میں یا ایک خاص رنگ والی یا ایک خاص زبان بولنے والی قوم میں پیدا ہو جانا‘پھر ان بنیادوں پر اپنے اور غیر کی جو تمیز قائم کی گئی ہے وہ صرف اس حد تک محدود نہیں رہی ہے کہ جنہیں اس لحاظ سے اپنا قرار دیا گیا ہو کہ ان کے ساتھ غیروں کی بہ نسبت زیادہ محبت اور زیادہ تعاون ہو بلکہ اس تمیز نے نفرت عداوت تحقیر و تذلیل اور ظلم و ستم کی بد ترین شکلیں اختیار کی ہیں۔
اس کے لیے فلسفے گھڑے گئے ہیں مذہب ایجاد کیے گئے ہیں قوانین بنائے گئے ہیں اخلاقی اصول وضع کیے گئے ہیں‘ قوموں اور سلطنتوں نے اس کو اپنا مستقل مسلک بنا کر صدیوں اس پر عملدر آمد کیا ہے۔ یہودیوں نے اسی بنا پر بن اسرائیل کو خدا کی چیدہ مخلوق ٹھہرایا اور اپنے مذہبی احکام تک میں غیر اسرائیلیوں کے حقوق اور مرتبے کو اسرائیلیوں سے فروتر رکھا۔ہندوؤں کے ہاں درن آشرم کو اسی تمیز نے جنم دیا جس کی رو سے برہمنوں کی برتری قائم کی گئی اُ‘ونچی ذات والوں کے مقابلے میں تمام انسان نیچ اور ناپاک ٹھہرئے گئے اور شودروں کو انتہائی ذلت کے گھڑے میں پھینک دیا گیا‘ کالے اور گورے کی تمیز نے افریقہ اور امریکہ میں سیاہ فام لوگوں پر جو ظلم ڈھائے اُن کے تاریخ کے صفحات میں تلاش کرنے کی ضرورت نہیں
آج بیسیویں صدی ہی میں ہر شخص اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھ سکتا ہے۔ یورپ کے لوگوں نے براعظم امریکہ میں گھس کر ریڈ انڈین نسل کے ساتھ جو سلوک کیا اور ایشیا اور افریکہ کی کمزور قوموں پر اپنا تسلط قائم کر کے جو برتاؤ ان کے ساتھ کیا اس کی تہہ میں بھی یہی تصور کار فرما رہا کہ اپنے وطن اور اپنی قوم کے حدود سے باہر پیدا ہونے والوں کی جان مال اور آبرواُن پر مباح ہے اور انہیں حق پہنچتا ہے کہ ان کو لُوٹیں‘ غلام بنائیں اور ضرورت پڑے تو صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔ مغربی اقوام کی قوم پرستی نے ایک قوم کو دوسری قوموں کے لئے جس طرح درندہ بنا کر رکھ دیا ہے اس کی بد ترین مثالیں زمانہ قریب کی لڑائیوں میں دیکھی جا چکی ہیں اور آج بھی دیکھی جا رہی ہیں۔خصوصیت کے ساتھ نازی جرمنی کا فلسفہ نسلیت اور نارڈک نسل کی برتری کا تصور پچھلی جنگ عظیم میں جو کرشمے دکھا چکا ہے
انہیں نگاہ میں رکھا جائے تو آدمی بآسانی یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ وہ کتنی عظیم اور تباہ کن گمراہی ہے جس کی اصلاح کے لئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو مخاطب کر کے اہم اصولی حقیقتیں بیان فرمائی ہیں کہ تم سب کی اصل ایک ہے ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت سے تمہاری پوری نوع وجود میں آئی ہے اور آج تمہاری جتنی نسلیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں وہ درحقیقت ایک ہی ابتدائی نسل کی شاخیں ہیں جو ایک ماں اور ایک باپ سے شروع ہوئی تھی اس سلسلہ تخلیق میں کسی جگہ بھی اُس تفرقے اور اُونچ نیچ کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے جس کے زعم باطل میں تم مبتلا ہو ایک ہی خدا تمہارا خالق ہے ایسا نہیں ہے کہ مختلف انسانوں کو مختلف خداؤں نے پیدا کیا ہو ایک ہی مادہ تخلیق سے تم بنے ہو ایسا بھی نہیں ہے کہ کچھ انسان کسی پاک یا بڑھیا ما دے سے بنے ہوں اور کچھ دوسرے انسان کسی ناپاک یا گھٹیا مادے سے بن گئے ہوں ایک ہی طریقے سے تم پیدا ہوئے ہو یہ بھی نہیں ہے کہ مختلف انسانوں کے طریق پیدائش الگ الگ ہوں اور
ایک ہی ماں باپ کی تم اولاد ہو یہ بھی نہیں ہوا ہے کہ ابتدائی انسانی جوڑے بہت سے رہے ہوں جن سے دنیا کے مختلف خطوں کی آبادیاں الگ الگ پیدا ہوئی ہوں‘اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہونے کے باوجود تمہارا قوموں اور قبیلوں میں تقسیم ہوجانا ایک فطری امر تھا۔ ظاہر ہے کہ پوری روئے زمین پر سارے انسانوں کا ایک ہی خاندان تو انہیں ہو سکتا تھا نسل بڑھنے کے ساتھ ناگزیر تھا کہ بے شمار خاندان بنیں اور پھر خاندانوں سے قبائل اور اقوام وجود میں آجائیں اسی طرح زمین کے مختلف خطوں میں آباد ہونے کے بعد رنگ خدوخال‘ زبانیں اور طرز بودوماند بھی لامحالہ مختلف ہی ہو جانے تھے اور ایک خطے کے رہنے والوں کو باہم قریب تر اور دور دراز کے خطوں کے رہنے والوں کو بعید تر ہونا تھا مگر اس فطری فرق و اختلاف کا تقاضا یہ ہر گز نہ تھا کہ اس کی بنیاد پر اُونچ اور نیچ،شریف اور کمین،برتر اور کمتر کے امتیازات قائم کئے جائیں ایک نسل دوسری نسل پر اپنی فضیلت جتائے اور ایک رنگ کے لوگ دوسرے رنگ کے لوگوں کو ذلیل و حقیر جانیں‘ ایک قوم دوسری قوم پر اپنا تفریق جمائے اور انسانی حقوق میں ایک گروہ کو دوسرے گروہ پر ترجیح حاصل ہو خالق نے جس وجہ سے انسانی گروہوں کو اقوام اور قبائل کی شکل میں مرتب کیا تھا وہ صرف یہ تھی کہ ان کے درمیان باہمی تعارف اور تعاون کی فطری صورت یہی تھی اسی طریقے سے ایک خاندان،ایک برادری،ایک قبیلے اور ایک قوم کے لوگ مل کر مشترک معاشرت بنا سکتے تھے اور زندگی کے معاملات میں ایک دوسرے کے مددگار بن سکتے تھے
مگر یہ محض شیطانی جہالت تھی کہ جس چیز کو اللہ کی بنائی ہوئی فطرت نے تعارف کا ذریعہ بنایا تھا اُسے تفاخر اور تغافر کا ذریعہ بنا لیا گیا اور پھر بوبت ظلم و عدوان تک پہنچا دی گئی انسان اور انسان کے درمیان فضیلت اور برتری کی بنیاد اگر کوئی ہے اور ہو سکتی ہے تو وہ صرف اخلاقی فضیلت ہے۔ پیدائش کے اعتبار سے تمام انسان یکساں ہیں کیونکہ ان کو پیدا کرنے والا ایک ہے ان کا مادہ پیدائش اور طریق پیدائش ایک ہی ہے اور ان سب کا نسب ایک ہی ماں باپ تک پہنچتا ہے علاوہ بریں کسی شخص کا کسی خاص ملک قوم یا برادری میں پیدا ہونا ایک اتفاقی امر ہے جس میں اس کے اپنے ارادہ و انتخاب اور اس کی اپنی سعی و کوشش کا کوئی دخل نہیں ہے۔ کوئی معقول وجہ نہیں کہ اس لحاظ سے کسی کو کسی پر فضیلت حاصل ہو اصل چیز جس کی بنا پر ایک شخص کو دوسروں پر فضیلت حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ دوسروں سے بڑھ کر خدا سے ڈرنے والا،برائیوں سے بچنے والا اور نیکی و پاکیزگی کی راہ پر چلنے والا ہو۔ایسا آدمی خواہ کسی نسل کسی قوم اور کسی ملک سے تعلق رکھتا ہو اپنی ذاتی خوبی کی بنا پر قابل قدر ہے اور جس کا حال اس کے برعکس ہو وہ بہر حال ایک کمتر درجے کا انسان ہے چاہے وہ کالا ہو یا گورا،مشرق میں پیدا ہوا ہو یا مغرب میں،امریکہ میں پیدا ہوا ہو یا افریقہ میں۔
رسولﷺ نے اپنے مختلف خطبات اور ارشادات میں زیادہ کھول کر بیان فرمایا ہے فتح مکہ کے موقع پر طواف کعبہ کے بعد آپ ﷺ نے جو تقریر فرمائی تھی اس میں فرمایا کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے تم سے جاہلیت کا عیب اور اس کا تکبر دور کر دیا لوگوتمام انسان بس دو ہی حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں ایک نیک اور پر ہیز گار جو اللہ کی نگاہ میں عزت والا ہے دوسرا فاجر اور شقی جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے ورنہ سارے انسان آدمؑ کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدمؑ کو مٹی سے پیدا کیا تھا حجتہ الوداع کے موقع پر ایام تشریق کے وسط میں آپﷺ نے ایک تقریر کی اور اس میں فرمایا کہ لوگو خبردار ہو تم سب کا خدا ایک ہے کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے مگر تقویٰ کے اعتبار سے۔اللہ کے نزدیک تم میں عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔بتاؤ میں نے تمہیں بات پہنچا دی ہے؟لوگوں نے عرض کیا ہاں یا رسول للہﷺ
۔فرمایا اچھا تو جو موجود ہے وہ اُن لوگوں تک یہ بات پہنچا دے جوموجود نہیں ہیں۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.