رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مقدس وقت ہے جب مسلمان عبادات میں اضافہ کرتے ہیں، اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں اور دل کھول کر صدقہ و خیرات کرتے ہیں۔ اس مہینے میں ہمدردی، ایثار اور بھائی چارے کا جذبہ اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ مگر اسی مقدس ماحول میں ایک تلخ حقیقت بھی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے، اور وہ ہے بھکاری مافیا کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں۔ جیسے ہی رمضان کا چاند نظر آتا ہے، مساجد، بازاروں، شاپنگ مراکز، ٹریفک سگنلز اور افطار دسترخوانوں کے قریب بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ منظر نہ صرف معاشرتی تشویش کا باعث بنتا ہے بلکہ کئی سنجیدہ سوالات کو بھی جنم دیتا ہے کہ آیا ہم واقعی مستحق افراد کی مدد کر رہے ہیں یا نادانستہ طور پر ایک منظم استحصالی نظام کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
رمضان میں خیرات کا رجحان بڑھنا ایک فطری امر ہے۔ مسلمان اس یقین کے ساتھ صدقہ دیتے ہیں کہ اس مہینے میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ زکوٰۃ، فطرانہ اور عطیات کی ادائیگی کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ مگر یہی جذبہ بعض عناصر کے لیے موقع بن جاتا ہے۔ بھکاری مافیا باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ رمضان کا انتظار کرتا ہے۔ مختلف شہروں سے افراد کو لا کر مخصوص مقامات پر بٹھایا جاتا ہے۔ معصوم بچوں کو گود میں اٹھائے خواتین، لاٹھی کے سہارے کھڑے بزرگ اور زخمی یا معذور دکھائی دینے والے افراد لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اکثر اوقات ان کے پیچھے ایک منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہوتا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر کمائی کا ہدف مقرر کرتا ہے اور شام کو تمام رقم اکٹھی کر کے سرغنہ کے حوالے کر دی جاتی ہے۔
یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ گداگری اب محض مجبوری نہیں بلکہ کئی جگہوں پر باقاعدہ کاروبار بن چکی ہے۔ رمضان میں ایک پیشہ ور بھکاری عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رقم کما لیتا ہے۔ اس منافع بخش سرگرمی نے جرائم پیشہ عناصر کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ بچوں کو اغوا کر کے یا غریب خاندانوں سے معمولی رقم کے عوض لے کر بھیک منگوانا، خواتین کو دباؤ یا لالچ دے کر سڑکوں پر بٹھانا اور معذوری کا ڈرامہ رچانا جیسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ یوں ہمدردی اور عبادت کا مہینہ بعض لوگوں کے لیے استحصال کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
تاہم اس تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ ہمارے معاشرے میں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بہت سے افراد ایسے ہیں جو واقعی شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ رمضان میں جب اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور گھریلو اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے تو ان کے لیے حالات مزید دشوار ہو جاتے ہیں۔ سفید پوش طبقہ، جو اپنی عزتِ نفس کے باعث کھل کر مدد نہیں مانگ سکتا، سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ ایسے میں کچھ لوگ مجبوری کے تحت ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہر بھیک مانگنے والے کو پیشہ ور قرار دینا بھی ناانصافی ہوگی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حقیقی مستحقین اور منظم مافیا کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
رمضان میں مساجد کے باہر کا منظر خاص طور پر قابلِ غور ہوتا ہے۔ نمازی جب عبادت سے فارغ ہو کر باہر نکلتے ہیں تو دروازوں پر بھیک مانگنے والوں کا ہجوم انہیں گھیر لیتا ہے۔ بعض اوقات یہ افراد دعاؤں اور بددعاؤں کا سہارا لے کر لوگوں کو رقم دینے پر مجبور کرتے ہیں۔ کچھ ضد اور اصرار سے پیش آتے ہیں جس سے ماحول میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ اس صورتِ حال سے نہ صرف عبادت کا سکون متاثر ہوتا ہے بلکہ یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ گداگری ایک منظم اور طاقتور نظام کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ زکوٰۃ اور صدقات کی غیر منظم تقسیم ہے۔ اکثر لوگ جذبات میں آ کر تحقیق کے بغیر سڑک پر موجود افراد کو رقم دے دیتے ہیں۔ وقتی طور پر انہیں تسلی مل جاتی ہے کہ انہوں نے نیکی کر لی، مگر طویل المدت بنیادوں پر یہ عمل گداگری کو فروغ دیتا ہے۔ اگر یہی رقم منظم طریقے سے مستحق خاندانوں تک پہنچائی جائے، انہیں ہنر سکھایا جائے، چھوٹے کاروبار کے لیے سرمایہ فراہم کیا جائے یا تعلیم و صحت کی سہولیات دی جائیں تو وہ خود کفیل بن سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں فلاحی نظام میں مربوط حکمتِ عملی اور شفافیت کا فقدان ہے ۔
ریاست کی ذمہ داری بھی اس معاملے میں اہم ہے۔ اگرچہ مختلف اوقات میں بھکاریوں کے خلاف مہمات چلائی جاتی ہیں، مگر یہ اقدامات عارضی ثابت ہوتے ہیں۔ جب تک غربت کے بنیادی اسباب کو دور نہیں کیا جائے گا، روزگار کے مواقع پیدا نہیں کیے جائیں گے اور تعلیم عام نہیں ہوگی، اس مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرے، بچوں کو بھیک منگوانے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائے اور فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر مستحقین کی درست نشاندہی کرے۔
معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ہمیں اپنی ہمدردی کو شعور کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ ہر ہاتھ پھیلانے والے کو رقم دینا مسئلے کا حل نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ مستند فلاحی اداروں کے ذریعے مدد کی جائے، اپنے اردگرد موجود ضرورت مند خاندانوں کی خفیہ طور پر کفالت کی جائے اور نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے منصوبوں میں حصہ لیا جائے۔ اگر ہم ایک شخص کو مستقل روزگار فراہم کر دیں تو وہ زندگی بھر کے لیے خود کفیل ہو سکتا ہے، جبکہ چند سکوں سے وقتی ضرورت تو پوری ہو سکتی ہے مگر انحصار کی عادت ختم نہیں ہوتی۔
رمضان ہمیں صرف عبادت کا درس نہیں دیتا بلکہ معاشرتی اصلاح کی بھی تلقین کرتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام میں عزتِ نفس کی کتنی اہمیت ہے اور محنت کی کمائی کو کس قدر فضیلت حاصل ہے۔ اگر ہم واقعی اس مہینے کی روح کو سمجھ لیں تو اپنی خیرات کو وقتی جذبات کے بجائے پائیدار تبدیلی کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ زکوٰۃ اور صدقات کو ایسے منصوبوں پر خرچ کریں جو غربت کے خاتمے میں مددگار ہوں، جیسے تعلیم، فنی تربیت اور چھوٹے کاروبار کے لیے معاونت۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ رمضان اور بھکاری مافیا کا تعلق ہمارے معاشرتی تضادات کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف بے پناہ سخاوت اور عبادت کا جذبہ ہے، تو دوسری طرف اسی جذبے کا استحصال کرنے والے عناصر موجود ہیں۔ اگر ہم نے شعور اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنی خیرات کو منظم، باخبر اور بامقصد بنائیں تاکہ اصل مستحقین کی مدد ہو اور بھکاری مافیا جیسے ناسور کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ رمضان کا اصل پیغام بھی یہی ہے کہ نیکی صرف جذبے کا نام نہیں بلکہ حکمت، عدل اور اصلاحِ معاشرہ کا تقاضا بھی کرتی ہے۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.