
شفقت حیات شفق کی کتاب”دم نکلتا رہا“جیسے خوبصورت مجموعہ شاعری کو پڑھنے کا موقع ملا تو یہ آشکار ہوا کہ وہ محض ایک شاعرہ نہیں بلکہ احساسات کی خاموش مجسمہ گر ہیں۔ وہ اُن نایاب لوگوں میں سے ہیں جو کم بولتے ہیں مگر جب قلم ہاتھ میں لیتے ہیں تو دل کے بند در و دیوار یکایک کھلنے لگتے ہیں۔ ان کے اشعار کی خاموشی دراصل ان کی داخلی دنیا کی عکاس ہے۔
ایک ایسی خاموشی جو آواز نہیں کرتی مگر دل کی تمام پرتوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ان کی شاعری میں ایک دلسوز نرمی، ایک سلگتی ہوئی گہرائی اور ایک ایسی تاثیر ہے جو پڑھنے والے کے اندر اتر کر دیر تک اپنا نقش چھوڑ جاتی ہے۔شفق لغوی طور پر سورج غروب ہونے کے بعد آسمان پر پھیلنے والی ہلکی سرخی یا مدھم روشنی کو کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دل آویز منظر ہے جو دن اور رات کے سنگم پر جنم لیتا ہے، مگر ادبی دنیا میں شفق محض ایک رنگ نہیں بل کہ ایک وسیع تر علامتی اور جمالیاتی جہان رکھتا ہے۔
ادبی استعاروں میں شفق کبھی امید کی پہلی یا آخری کرن کے طور پر جلوہ دکھاتا ہے، کبھی درد میں لپٹی ہوئی ایسی خوبصورتی کے روپ میں نمودار ہوتا ہے جو دل کی گہرائیوں کو چھو جائے اور کبھی وصل و فراق کے درمیان لرزتے لمحے کی مانند ایسا لطیف اثر چھوڑ تا ہے کہ قاری کی روح کے ہر پردے میں ایک خاموش ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے۔ شفق داخلی خاموشی، روحانی لطافت، نرمی، گہرے احساسات، انتظار کی نمی اور انسان کی باطنی روشنی کا بھی استعارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شفق ادب میں ایک ایسا ہمہ گیر رمز بن جاتا ہے جو درد، جمال، سرخی، آس اور سکون جیسی تمام کیفیتوں کو اپنے اندر سمو کر قاری کے دل پر دیرپا اور لازوال نقوش چھوڑتا ہے۔
شفقت حیات شفق کی شاعری سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت بھی اسی نرمی اور گہرائی کی عکاس ہے جو ان کے اشعار میں جھلکتی ہے۔ نہایت پر وقار، اندر سے گہری اور باہر سے نرم روشنی کی مانند، ان کی ذات دراصل ان گم شدہ خوابوں کی سی ہے جنہیں الفاظ میں پناہ مل گئی ہو۔ وہ ان دردوں کی ترجمان ہیں جو بظاہر پوشیدہ رہتے ہیں مگر اندر ہی اندر پوری وجود کو روشن اور جلا دیتے ہیں۔
ان کی شاعری گواہی دیتی ہے کہ زندگی کے راستوں پر وہ کبھی تنہا اور کبھی کسی ہمسفر کے ساتھ، خاموشی کے ساتھ اپنے احساسات کو لفظوں میں ڈھال کر آگے بڑھتی رہتی ہیں اور ان کی حقیقی خوبصورتی اسی میں ہے کہ وہ درد کو چھپانے کے بجائے اسے نرمی، نفاست اور جمال کے ساتھ الفاظ میں منتقل کرنے کا ہنر جانتی ہیں، جس سے ہر شعر ایک خاموش صدا کی طرح دلوں کو چھو لیتا ہے۔شفقت حیات کی غزلوں کا اسلوب لفظوں سے روشنی پیدا کرتا ہے اور درد سے معنی۔ ان کی کتاب کی نمایاں غزل ”دم نکلتا رہا” بھی اسی فنّی پہچان کی عکاس ہے۔سادہ الفاظ میں کہی گئی، مگر گہرے اور پیچیدہ مفہوم کی حامل ”دم نکلتا رہا“ محض ایک غزل نہیں بلکہ ایک مکمل کیفیت ہے، ایک خاموش چیخ جو ہر حساس دل محسوس کر سکتا ہے۔ شفقت حیات شفق نے اس غزل میں درد کو زبان دی ہے،
اور ”دم نکلتا رہا“کی تکرار نے درد کی شدت کو نہ صرف دوگنا کر دیا ہے بلکہ اس کیفیت کو کربِ مسلسل بنا دیا ہے۔ یوں یہ تکرار محض ایک جذباتی بیان ہی نہیں بلکہ ایک زبردست نفسیاتی تجزیہ بھی بن گئی ہے۔شفق حیات شفق کی شاعری کو اگر ایک آئینہ تصور کیا جائے تو اس میں ان کی ذات کی جھلک، اندرونی روشنی، زخموں کی خوشبو اور لفظوں کا لمس پوری شدت کے ساتھ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ان کی شاعری محض خیال کی پرواز نہیں بل کہ دل کی دھڑکن اور روح کی پکار ہے۔ایک ایسی پکار جو سننے والے کے دل میں دیر تک گونجتی رہتی ہے۔ ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ جذبات کو نرمی اور نفاست کے ساتھ بیان کرتی ہیں مگر اثر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ قاری کے وجود میں اتر جاتا ہے۔ شفق کی ذات میں ایک روحانی فضا بھی محسوس کی جا سکتی ہے،
جو ان کے الفاظ کے ہر جملے میں چھپی ہوئی ہے۔ گویا ان کے اشعار محض پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ محسوس کرنے، ڈوبنے اور سنبھلنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت ان لوگوں جیسی ہے جن کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے، مگر آنکھوں میں کئی راتوں کی بیداری چھپی ہوتی ہے۔ ان کی شاعری ان کا آئینہ ہے، اور آئینہ جھوٹ نہیں بولتا۔ وہ خود اپنے کلام کی صورت میں زندہ رہتی ہیں۔ہر قاری کے دل میں، ہر درد کے لمس میں اور ہر خاموش چیخ میں۔ ان کی ذات ایک شعری تحیر ہے، جسے جاننے کے لیے صرف پڑھنا کافی نہیں، بلکہ محسوس کرنا پڑتا ہے۔
”دم نکلتا رہا“ شفقت حیات شفق کی نئی کتاب کی نمائندہ غزل ہے، جس میں شاعرہ نے زندگی کے دکھ، جدائی کے کرب اور اندرونی شکستگی کو ایسے لطیف اور گہرے انداز میں بیان کیا ہے کہ قاری نہ صرف جذباتی ہو جاتا ہے بلکہ اپنے اندر جھانکنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے۔ اس غزل میں ”سانس” اور ”دم” محض جسمانی عمل کے طور پر نہیں بل کہ جذباتی اور نفسیاتی شکستگی کے استعارے کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ شفق نے فکری علامتیں اور تشبیہیں اتنی نفاست اور باریکی کے ساتھ پیش کی ہیں کہ ہر لفظ میں ایک خاموش شدت محسوس ہوتی ہے۔
”دم نکلتا رہا” جیسے فقرے سے قاری یہ تجربہ کرتا ہے کہ گویا وقت ایک بوجھ کی مانند جسم پر سوار ہے اور ہر سانس ایک مسلسل جنگ کی مانند ہے۔ غزل میں ایک عورت کی خاموش تکلیف، اندرونی چیخ اور بیبسی کو کسی شور یا واویلے کے بغیر انتہائی سادگی اور نفاست کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہ غزل ان کہی داستانوں کی ترجمانی کرتی ہے جو اکثر عورتوں کے دل میں دفن رہ جاتی ہیں۔ وجودی احساسات کی نمائندگی کرنے والی یہ غزل قاری کو سوالوں کی دنیا میں دھکیل دیتی ہے: کب ہم جیتتے ہیں، کب مرتے ہیں، اور کب صرف دم نکلتا رہتا ہے؟
دم نکلتا رہا کا خوبصورت مطلع ملاحظہ فرمائیں:
ساعتِ وصل تھی دیپ جلتا رہا، دم نکلتا رہا
حدّتِ قرب میں تن پگھلتا رہا، دم نکلتا رہا
عام طور پر”ساعتِ وصل“ کو خوشی، راحت اور عشق کی تکمیل کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن شاعرہ نے اسے محض راحت یا خوشی کا لمحہ نہیں بلکہ ایک مسلسل داخلی اذیت اور پگھلنے کی کیفیت کے طور پر پیش کیا ہے۔
”دیپ جلتا رہا” عشق اور وصال کی علامت ہے جو روشنی
، چاہت اور زندگی کی توانائی کی نمائندگی کرتا ہے۔ مگر یہ جلنا خاموش اذیت اور شدتِ احساس کے ساتھ جڑا ہے۔ دیپ کی لو روشنی تو دیتی ہے مگر اس کے ساتھ دھواں بھی بلند ہوتا ہے جو درد اور فنا کی خبر دیتا ہے۔”دم نکلتا رہا“کا فقرہ اس کیفیت کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ یہ محض جسمانی سانس کی روانی نہیں، بلکہ وجودی کرب، داخلی تناؤ اور عشق میں فنا ہونے کے احساس کی علامت ہے۔ اس فقرے کی تکرار درد کی شدت اور مسلسل اذیت کی کیفیت کو دوگنا کر دیتی ہے گویا ہر لمحہ ایک جنگ ہے، ہر سانس قربانی کا تقاضا کرتا ہے۔مجموعی طور پر یہ مصرع عشق کی اس نازک ترین سرحد پر روشنی ڈالتا ہے جہاں وصال ایک راحت نہیں، بلکہ فنا اور داخلی کرب کی انتہا بن جاتا ہے۔
شاعرہ نے یہاں وصل کو نہایت نفاست اور گہرائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔محبت ایک ایسا شعور ہے جو جلاتی بھی ہے اور فنا بھی کرتی ہے، اور قاری کو اس شعوری اور جذباتی کشمکش کے ساتھ ہم آہنگ کر دیتی ہے۔دوسرا مصرع، ”حدتِ قرب میں تن پگھلتا رہا“، عشق اور وصال کی ایک نہایت نازک اور شدت انگیز کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ ”حدّتِ قرب” یعنی قربت کی شدت، ایک ایسی کیفیت ہے جہاں محبت کی روشنی اور جوش وجود غالب آ جاتے ہیں، مگر یہ روشنی راحت نہیں بلکہ داخلی تپش اور اذیت کا سبب بنتی ہے۔
”تن پگھلتا رہا“کی تشبیہ گویا وجود کے ہر جزو کے پگھلنے، نرم اور شفاف ہونے کی حالت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی قربت بلکہ روحانی اور نفسیاتی پگھلاؤ کی علامت بھی ہے۔محبت اور وصل کے تجربے میں انسان خود کو فنا ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے، گویا ہر لمحہ اس کی ذات گھل رہی ہو۔”دم نکلتا رہا“کا فقرہ اس کیفیت کو مزید گہرائی اور شدت بخشتا ہے۔ یہ محض سانس لینے کا عمل نہیں، بلکہ وجود کے مسلسل کرب، داخلی تھکن اور جذباتی اذیت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہر سانس ایک جدوجہد، ہر لمحہ قربانی اور درد کی شدت کی علامت بنتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ مصرع عشق کی اس نازک سرحد پر ایستادہ ہے جہاں وصال ایک راحت نہیں بلکہ ذوقِ فنا اور شدتِ احساس کا لمحہ ہے، اور جہاں محبت کی معراج مکمل ہونے میں نہیں بلکہ خود کو فنا کر دینے میں پوشیدہ ہے۔ یہ مصرع انسانی دل و جان کے پیچیدہ جذبات کی نمائندگی کرتا ہے اور قاری کو عشق کی انتہائی نفسیاتی و روحانی کیفیت سے روشناس کراتا ہے۔
ندیم اختر غزالی
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.