ددھوچھہ کے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر

راولپنڈی اور اسلام آباد کے بڑھتے ہوئے پانی کے بحران کے تناظر میں ددھوچھہ ڈیم کو ایک ناگزیر آبی منصوبہ ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ترقی کا بوجھ ہمیشہ کمزور طبقے ہی کو اٹھانا ہوگا؟ ددھوچھہ ڈیم کے متاثرین کی حالت اس سوال کا تلخ مگر حقیقت پسندانہ جواب پیش کرتی ہے۔ ددھوچھہ کے گردونواح میں بسنے والے سینکڑوں خاندان صدیوں سے اپنی زمینوں، گھروں اور روزگار کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔

یہ زمینیں محض رقبہ نہیں بلکہ ان کی شناخت، تاریخ اور مستقبل تھیں۔ جب حکومت پنجاب نے اس علاقے کو ڈیم کے لیے منتخب کیا تو متاثرین نے قومی مفاد کے تحت تعاون کی امید رکھی، مگر جو کچھ عملی طور پر سامنے آیا وہ وعدوں، تاخیروں اور عدم انصاف کی ایک طویل داستان ہے۔ عدالت عالیہ اور سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے مطابق کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے زمین حاصل کرنے سے قبل مکمل اور منصفانہ معاوضہ دینا آئینی تقاضا ہے۔ آئین پاکستان شہریوں کو ان کی ملکیت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ عدالتوں نے یہ بھی واضح کیا کہ معاوضہ محض سرکاری ریونیو ریٹ پر نہیں بلکہ موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہونا چاہیے،

خصوصاً جب زمین شہری آبادی اور ڈی ایچ اے جیسی ہاؤسنگ اسکیموں کے قریب واقع ہو۔ اس کے باوجود ددھوچھہ کے متاثرین آج بھی اس سوال کے جواب کے منتظر ہیں کہ ان کے ساتھ یہ اصول کیوں لاگو نہیں ہو رہے۔ متاثرین کا سب سے بڑا شکوہ یہ ہے کہ انہیں زمین کا معاوضہ یا تو مکمل نہیں ملا یا پھر انتہائی کم ریٹس پر دیا جا رہا ہے۔

کئی خاندان ایسے ہیں جن کے مکانات، مویشیوں کے باڑے اور کھیت ختم ہو گئے مگر ان اثاثوں کا معاوضہ ابھی تک فائلوں میں اٹکا ہوا ہے۔ نتیجتاً یہ لوگ نہ صرف بے گھر ہوئے بلکہ ان کا ذریعہ معاش بھی چھن گیا۔ مہنگائی کے اس دور میں چند لاکھ روپے کسی نئی شروعات کے لیے ناکافی ہیں۔ یہ مسئلہ صرف مالی نقصان تک محدود نہیں۔ سماجی طور پر بھی متاثرین شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی، بزرگوں کے لیے نقل مکانی ایک اذیت بن گئی، جبکہ خواتین اور کمزور طبقات کو معاشی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ ترقی کے نام پر اجڑتے یہ گھر اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منصوبہ بندی میں انسان کو ثانوی حیثیت دے دی گئی ہے۔

متاثرین کے مطالبات نہ تو غیر آئینی ہیں اور نہ ہی غیر منطقی۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ان کی زمین کی اصل مارکیٹ ویلیو کے مطابق معاوضہ دیا جائے، مکانات اور دیگر اثاثوں کا علیحدہ تخمینہ لگایا جائے، تاخیر پر اضافی ادائیگی کی جائے اور بحالی کے لیے متبادل رہائش یا پلاٹ فراہم کیے جائیں۔ دنیا بھر میں بڑے ڈیم اور انفراسٹرکچر منصوبے اسی اصول پر مکمل کیے جاتے ہیں کہ متاثرہ آبادی کو منصوبے کا حصہ بنایا جائے، نہ کہ اس کی قربانی کو۔ ددھوچھہ ڈیم اگر واقعی عوامی فلاح کا منصوبہ ہے تو اس کی بنیاد انصاف پر ہونی چاہیے۔

ترقی وہی پائیدار ہوتی ہے جس میں ریاست اپنے شہریوں کے اعتماد کو مجروح نہ کرے۔ اگر آج متاثرین کی آواز نہ سنی گئی تو کل یہ منصوبہ پانی کے ذخیرے سے زیادہ ایک سماجی تنازع کی علامت بن سکتا ہے۔ ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے، شفافیت کے ساتھ معاوضوں کی ادائیگی کرے اور متاثرین کو یہ احساس دلائے کہ وہ اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ ڈیم بنانا ترقی ہو سکتا ہے، مگر انصاف کے بغیر کوئی بھی ترقی دیرپا نہیں ہوتی ددھوچھہ کے لوگ خیرات نہیں مانگ رہے، وہ اپنے حق کی بات کر رہے ہیں۔ اب فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس منصوبے کو ایک کامیاب قومی مثال بناتی ہے یا ایک ایسا باب چھوڑتی ہے جسے تاریخ سوالیہ نشان کے طور پر یاد رکھے گی۔

راجہ طاہر محمود