حسیں وادیوں کے مکینوں کی جدوجہد کو سلام

دنیا بھر کی حسیں وادیوں کا تذکرہ کیاجائے تو وادی کشمیر ان حسیں وجمیل وادیوں میں سر فہرست نظر آئے گی جو قدرتی حسن سے مالا مال ہیں یہ خطہ ایسی دلکش وادی میں واقع ہے جہاں خوبصورت علاقے لہلہاتے کھیت‘ چہچہاتے پرندے‘ بلندو بالا راستے آسمان سے باتیں کرتے پہاڑ‘ صاف و شفاف پانی کے چشمے‘ بلندی سے گرتی آبشاریں‘ سرد موسم میں برف سے ڈھکی سفید چادر اوڑھی زمین‘ گرمی میں لطف اندوز سرد ہوائیں جیسا نظارہ دیکھنے کوملتاہے۔ ظلم وستم کی چکی میں پستے لوگ جبروتشدد سہتے مظلوم وبہادر قوم آباد ہے۔

مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ خوبصورت قوم انڈیا کے ظلم و بربریت کاسامنا کرنے والے غیرت مند مسلمان بھی اسی وادی میں موجود ہیں۔ ان سب باتوں کے مجموعہ کو مقبوضہ کشمیرکہا جاتاہے لیکن اس حسین دلکش وادی کا حسن اس وقت پھیکا پڑ جاتاہے جب یہاں انڈین آرمی کی جانب سے خوف کے بادل منڈلانے لگتے ہیں یہاں ظلم وزیادتی تشدد و بربریت کی داستانیں رقم کی جاتی ہیں۔

یہاں بسنے والے پُرامن لوگوں کو ذہنی وجسمانی تشدد کانشانہ بنایا جاتاہے یہاں کہ پُرامن شہریوں پر پرتشدد کارروائیاں عام بات ہے یہاں قتل وغارتگری کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ظلم وزیادتی جبروتشدد برداشت کرنا گویا اس علاقہ کی روایت بن چکاہے۔نہتے شہریوں پر بلاوجہ سرعام فائرنگ خواتین کی عزتیں پامال کرنے ناجائز قبضے سمیت ہر جرم‘ہر گناہ‘ ہر ظلم گویا نڈین آرمی کا وطیرہ بن چکا ہے۔ انسانیت پر ظلم سمیت دیگر انسانی حقوق کی سرعام توہین تذلیل اور کھلم کھلا خلاف ورزی کرنا کوئی نئی بات نہیں‘یہاں نا تو کشمیری عوام کو آزادی کی نعمت کی سہولت دی جارہی ہے

اور نا ہی ان کے بنیادی حقوق کا خیال رکھا جارہا ہے ناہی انہیں بولنے دیاجاتاہے نا اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے دی جاتی ہے اور نا ہی انہیں خودمختار آزاد قوم کے طور پر تسلیم کیا جارہا ہے بلکہ برخلاف اس کے ان کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کیا جارہاہے۔ اقوام متحدہ عالمی برادری سمیت پوری دنیا اس انسانیت سوز سلوک ومظالم پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے کشمیری قوم پر ظلم کوئی نئی بات نہیں اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ 16 مارچ 1846 کو معاہدہ ہوا جس کے تحت کشمیر کی قیمت لگائی گئی 1846ء میں اس کی قیمت 75 لاکھ روپے لگائی گئی جس کے بعد گلاب سنگھ نے جموں کشمیر کو ریاست میں تبدیل کیا‘ 1947ء میں مہاراجہ ہری سنگھ نے معاہدہ کی کوشش کرتے ہوئے الحاق نامہ پر دستخط کئے جسے وہاں کی غیرت مند قوم نے مسترد بھی کیا اس متنازع الحاق کی وجہ سے بھارتی فوج کو قبضہ کرنے کانادر موقع ملا جبکہ اس خطے کا امن سکون 1948ء سے اقوام متحدہ اور سیکورٹی کونسل کی غفلت لاپرواہی کی وجہ سے داؤ پر لگا ہوا ہے

اس ظلم پر آواز بلند کرتے ہوئے بھی کئی دہائیاں گزر چکی لیکن انڈیا اپنے اس ظلم پر انسانیت سوز مظالم پر شرمندہ ہونے کی بجائے اپنے ناپاک عزائم سے باز آنے کی بجائے مزید ظلم کرتے ہوئے کشمیری قوم کے حقوق کو کچلنے کے لیے اپنی طاقت کاغلط استعمال کررہاہے ان کی آواز دبانے کیلئے کوشش تیز کرتا جارہاہے کشمیری قوم سے اظہار یکجتی اور ہمدردی کی ابتداء میں قوت اس وقت آئی جب 1975ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سرکاری سطح پر اس قوم سے اظہار ہمدردی کیلئے دن منایا تاہم ایک دن کشمیری قوم سے منسوب کرنے کا معاملہ 1990ء میں قاضی حسین احمد نے پیش کیا بلآخر 5 فروری 1990ء میں یوم یکجتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کردیا گیا یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ 2004ء میں میر ظفر اللہ خان جمالی نے یہ دن سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا اس وقت سے مسلسل کشمیریوں کی جدوجہد اور ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ہر سال اس دن کو منایا جاتاہے

اور انڈیا کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ ظلم و زیادتی جبروتشدد کا راستہ روک کر کشمیری قوم کے حقوق کا خیال رکھا جائے انہیں آزاد اور خود مختار قوم کے طور پر تسلیم کرے لیکن انڈیا اپنی بدمعاشی جبر و تشدد بربریت کی روایت قائم رکھتے ہوئے 2019ء میں یکطرفہ کاروائی کرتے ہوئے مزید قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق پر بھی ڈاکہ ڈال چکا ہے جس کے بعد قتل عام جبری گمشدگیوں کرفیو گولیوں سے نوجوانوں کے سینے چھلنی کرنا اور جیلوں میں غیر قانونی کشمیری قوم کو قید کرنے میں تیزی آئی ہے 5 اگست 2019ء میں مودی حکومت نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کرکہ کشمیری قوم کی خودمختاری پر شب خون مارا ان سب کے باوجود آج بھی کشمیری قوم نا تو بکی ہے اور نا جھکی ہے

ان کی کوششیں قربانیاں خراج تحسین لائق ہیں ان شاء اللہ تعالیٰ ان کی قربانیاں جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی بلکہ ایک دن ضرور رنگ لائے گی اور انہیں بھی آزادی نصیب ہو گی انہیں بھی ایک دن آزاد خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیاجائے گا پاکستان اور پاکستان کا ہر شہری جہاں ایک طرف انڈیا کے ظلم کے خلاف ہے وہاں دوسری طرف کشمیری قوم کے ساتھ ہے ان کو خراج عقیدت پیش کرنے میں پیش پیش ہے۔

تحریر حافظ ظفر رشید