جعلی دودھ صحت عامہ پر منڈلاتا خطرہ،

راولپنڈی اور اسلام آباد میں جعلی اور مضر صحت دودھ کی فروخت ایک ایسے خطرناک رجحان کی شکل اختیار کر چکی ہے جو نہ صرف شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ صحت عامہ کے لیے ایک بڑے بحران کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔ بظاہر وقتاً فوقتاً کی جانے والی کارروائیوں میں بڑی مقدار میں ملاوٹ شدہ دودھ پکڑا اور تلف کیا جاتا ہے، مگر اس کے باوجود اس مکروہ دھندے کا جاری رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ کہیں زیادہ گہرا اور منظم ہے۔

یہ امر اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہا کہ دودھ میں مختلف غیر معیاری اور خطرناک اجزاء شامل کیے جا رہے ہیں۔ ویجیٹیبل آئل، خشک دودھ پاؤڈر اور دیگر کیمیکلز کی آمیزش تو ایک طرف، بعض کیسز میں ڈیٹرجنٹ جیسے مہلک مادوں کی موجودگی نے اس مسئلے کو انتہائی سنجیدہ بنا دیا ہے۔ انسانی صحت کے لیے یہ ایک خاموش زہر ہے، جو بظاہر روزمرہ خوراک کا حصہ بن کر جسم میں داخل ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ مختلف بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔

طبی ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اس قسم کے دودھ کا استعمال معدے، جگر اور گردوں کی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ بچوں کے لیے تو یہ خطرہ اور بھی زیادہ سنگین ہے، کیونکہ ان کی نشوونما براہ راست معیاری خوراک سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر یہی خوراک آلودہ ہو جائے تو آنے والی نسلوں کی صحت پر اس کے اثرات دیرپا اور تباہ کن ہو سکتے ہیں۔یہاں سوال صرف ملاوٹ کا نہیں بلکہ ایک ایسے منظم نیٹ ورک کا ہے جو شہریوں کی صحت کو داو پر لگا کر منافع کما رہا ہے۔ مختلف علاقوں میں غیر قانونی یونٹس کا سامنے آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ کاروبار باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چلایا جا رہا ہے۔

دیہی اور مضافاتی علاقوں سے لے کر شہری مارکیٹوں تک اس دودھ کی رسائی ایک مضبوط سپلائی چین کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے، جسے توڑنا محض وقتی کارروائیوں سے ممکن نہیں۔فوڈ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ادارے یقیناً اپنی سطح پر اقدامات کر رہے ہیں، اور وقتاً فوقتاً ایسی کارروائیاں سامنے بھی آتی ہیں جن میں بڑی مقدار میں جعلی دودھ پکڑا جاتا ہے۔ تاہم ان اقدامات کو دیرپا اور نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے۔ محض وقتی کریک ڈاؤن اس مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ مافیا کچھ عرصے کے لیے دب تو جاتا ہے مگر جلد ہی دوبارہ سرگرم ہو جاتا ہے۔

اس ساری صورتحال میں سب سے اہم کردار وزارت صحت کا بنتا ہے، جس کی ذمہ داری صرف علاج کی سہولیات فراہم کرنا نہیں بلکہ بیماریوں کی روک تھام کو یقینی بنانا بھی ہے۔ بدقسمتی سے اس مسئلے پر ایک جامع اور مربوط پالیسی کا فقدان نظر آتا ہے۔ اگر صحت عامہ کو واقعی ترجیح دی جا رہی ہے تو اس طرح کے خطرات کے خلاف ٹھوس اور مستقل بنیادوں پر اقدامات ناگزیر ہیں۔

مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ روات، کلرسیداں، گوجرخان، کہوٹہ اور دیگر نواحی علاقوں میں مضر صحت دودھ کی بلا روک ٹوک فروخت جاری ہے۔ ان علاقوں میں نگرانی کا موثر نظام نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ مافیا کھلے عام اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہے۔ شہریوں کی شکایات بھی مسلسل سامنے آ رہی ہیں، جن میں دودھ کے غیر معمولی ذائقے، تیل کی تہہ اور پاؤڈر کے ذرات کی موجودگی جیسے مسائل کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

انتظامیہ کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور اسے صرف انتظامی کارروائیوں تک محدود نہ رکھے۔ سخت قانون سازی، سپلائی چین کی مکمل نگرانی، جدید ٹیسٹنگ سسٹم اور فوری سزاؤں کا نظام اس وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنا بھی بے حد ضروری ہے تاکہ لوگ خود بھی احتیاط کریں اور مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کر سکیں۔

جعلی دودھ کا یہ ناسور محض ایک غذائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی بحران ہے۔ اگر بروقت اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید خطرناک صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ متعلقہ ادارے اور ذمہ داران سنجیدہ رویہ اختیار کریں اور اس مافیا کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑیں، کیونکہ یہ معاملہ براہ راست انسانی زندگیوں سے جڑا ہوا ہے۔