کہوٹہ کے جنگلات قدرت کا بیش قیمت اثاثہ ہیں، مگر افسوس کہ یہ اثاثہ مسلسل لالچ، غفلت اور کرپشن کی نذر ہو رہا ہے۔ حالیہ انکشافات نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ محکمہ جنگلات کا ایک اہلکار مبینہ طور پر درختوں کی چوری اور لکڑی کی اسمگلنگ میں ملوث پایا گیا ہے۔ یہ خبر صرف ایک فرد کی بدعنوانی کی کہانی نہیں بلکہ ایک پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔جنگلات کا تحفظ جن ہاتھوں میں ہونا چاہیے، اگر وہی ہاتھ درخت کاٹنے والوں سے مل جائیں تو پھر سبزہ کیسے بچے گا؟ ٹمبر مافیا ویسے ہی طاقتور سمجھی جاتی ہے، مگر جب اسے سرکاری اہلکاروں کی سرپرستی حاصل ہو جائے تو قانون محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے۔

کہوٹہ جیسے حساس اور پہاڑی علاقے میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی نہ صرف ماحول دشمن عمل ہے بلکہ والی نسلوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔جنگلات کرہ ارض بلکہ کائنات پہ قیمتی ترین قدرتی وسائل ہیں جنکو خود انسان اپنے ہاتھ سے کاٹ کر زمین کا ماحول خراب کررہا ہے۔ سموگ، دھند، سیلاب اور دوسری قدرتی آفتیں ماحول کی خرابی کی وجہ سے آتی ہیں اور پیشگی انتظامات نہ ہونے کیوجہ سے بھی کہوٹہ کے قدرتی جنگلات کم و بیش دو تین دہائیوں سے ٹمبر مافیا کے ہاتھوں تباہ ہورہے ہیں۔ کہوٹہ میں محکمہ جنگلات کا ایک اہلکار درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور لکڑی کی اسمگلنگ میں ملوث پایا گیا ہے، جس سے محکمے کی کارکردگی اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ اہلکار نے ٹمبر مافیا کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے قیمتی سرکاری درختوں کی کٹائی کی اجازت دی اور بعد ازاں لکڑی کو مختلف علاقوں میں اسمگل کیا جاتا رہا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی سرگرمیاں طویل عرصے سے جاری تھیں، تاہم اعلیٰ حکام کی عدم توجہی اور مبینہ سرپرستی کے باعث کارروائی عمل میں نہ آ سکی۔ مقامی افراد کی شکایات اور ثبوت سامنے آنے کے بعد معاملہ منظرِ عام پر آیا، جس پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ جنگلات پہلے ہی تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور اگر ان کے محافظ ہی لٹیرے بن جائیں تو ماحولیاتی تباہی کو روکنا ناممکن ہو جائے گا۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق درختوں کی بے دریغ کٹائی سے نہ صرف قدرتی حسن متاثر ہو رہا ہے بلکہ بارشوں، زمین کٹاؤ اور موسمی تبدیلیوں کے خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔جب سے راقم نے ہوش سنبھالا ہے جنگلات کو جلتے کٹتے دیکھا ہے۔ خطہ پوٹھوہار کے باسیوں کو بخوبی معلوم ہوگا کہ یہاں خود رو جنگلات بڑے پیمانے پہ تھے۔
قیام پاکستان کے وقت کے لوگ جو آج بھء زندہ ہیں کئی علاقوں کی مثالیں دیتے تھے جہاں سے درختوں کے درمیان سے نکلنا ناممکن تھا پلائی، ٹاہلی ککر کے گھنے جنگلات پہلے انسانی آبادکاری کی نظر ہوئے پھر جلا کر اور آخر میں معاشی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کاٹ کاٹ کر بیچنے لگے۔جدید ترقی کیساتھ آرا مشین کی ایجاد نے درختوں کی کٹائی کو مزید آسان کردیا۔بات کی جائے جنگلات کی حفاظت کی یوں تو ہم سب کا قومی فرض ہے لیکن اس کیلئے باقاعدہ محکمہ جنگلات، گزارہ فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کیساتھ ساتھ تحصیل، ضلع اور صوبے کے بعد وفاق میں ادارے موجود ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سب صرف وقت گزاری کررہے ہیں۔ محکمہ جنگلات میں موجود کالی بھیڑیں ٹمبر مافیا کیساتھ ملکر ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہے ہیں۔
گزشتہ کئی سالوں سے کہوٹہ محکمہ جنگلات میں کوئی ذمہ دار اور ایماندار افسر تعینات نہیں ہوا جسکا فائدہ ٹمبر مافیا نے خوب اٹھایا اور جنگلات کو بے پناہ نقصان پہنچایا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔گزشتہ ہفتے محکمہ جنگلات کہوٹہ کی کاروائی میں لکڑی چوری و اسمگلنگ میں گزارہ کا ملازم بھی ملوث نکلا جسکے ساتھ مزید ملزمان بھی اس وقت محکمہ جنگلات کی طرف سے دائر کردہ کیس عدالت میں ہے عوام الناس کو اس کیس کے نتائج کا بے چینی سے انتظار ہے امید ہے جلد حقیقت سب کے سامنے ہوگی اب جبکہ فارسٹ ایکٹ میں ترمیم کے بعد گاڑی و ملزمان کی ضمانت نہیں ہوسکے گی لاکھوں روپے جرمانہ اور قید الگ سے تجویز کی گئی ہے امید ہے یہ کام کرجائے گی۔
اس میں سب سے پہلے تو حکومت کی نااہلی ہے اس نظام کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کرسکے اور دوسرا قدرتی جنگلات کو بچانے کیلئے خاطر خواہ سٹاف (راکھا) مہیا نہ کیا گیا عمران خان نے نڑھ دورے کے دوران 3000 راکھے بھرتی کرنے کا اعلان کیا تھا جو پی ٹی آئی حکومت جانے کے بعد فائلوں میں دب گیا
اور تاحال جو سٹاف موجود ہے وہ ناکافی ہے کسی بھی طرح جنگلات کے لیے وقت کا تقاضا ہے کہ پنجاب حکومت کہوٹہ پہ خصوصی توجہ دے جنگلات کیلئے سٹاف مہیا کرے، پنڈی روڈ، ٹورازم ہائی کے داخلی اور خارجی راستوں پہ فارسٹ چیک پوسٹ 24/7 فعال کرے جو اس وقت بند پڑی ہیں یا موجود نہیں جسکی نگرانی اے سی ڈی سی۔ اور محکمہ جنگلات کرے اسی صورت میں جنگلات کو کٹنے سے بچایا جاسکتا ہے جب چیک پوسٹ سے کوئی پار نہ جاسکے گا تو کاٹے گا بھی کوئی نہیں۔
ماہرین ماحولیات خبردار کر چکے ہیں کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے نتیجے میں نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بڑھیں گے بلکہ لینڈ سلائیڈنگ، بارشوں کے پیٹرن میں بگاڑ اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی جیسے مسائل بھی جنم لیں گے۔ کہوٹہ اور اس کے گردونواح پہلے ہی ان خطرات کی زد میں ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کو محض ایک اہلکار کی قربانی دے کر ختم نہ کیا جائے بلکہ مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ یہ دیکھا جائے کہ اس کھیل میں اور کون کون شامل تھا، کس کی سرپرستی حاصل تھی اور ٹمبر مافیا کس حد تک محکمے میں جڑیں جما چکی ہے۔ اگر واقعی حکومت ماحولیاتی تحفظ میں سنجیدہ ہے تو اسے مثال قائم کرنا ہو گی۔
عثمان مغل