طالب حسین آرائیں
ٹیکنالوجی کے اس دور میں کرہ ارض پر جہاں کہیں کچھ ہوتا ہے ہم۔کو معلوم ہوجاتا ہے نہ صرف معلوم ہوجاتا یے بلکہ دیکھائی بھی دیتا ہے گویا اب ہرواقعہ ہمارے قریب اور ہر منظر سامنے کا منظر یوگیا ہے دنیا بدل رہی ہے ۔لیکن پاکستان میں سب کچھ جوں کا توں ہے کچھ بدلاؤ نظر نہیں آتا ۔کوئی نہیں ہے جو اخلاقی ۔سماجی ۔سیاسی اور مذہبی طور پر ہمارے مسائل کا تجریہ کرئے اور ان کا حل نکالے ہم آج بھی ایسے مسیحا کی تلاش میں ہیں
۔78برسوں کی روایات برقرار ہیں ۔ان روایات کی برقراری میں ہمارے مستقبل کا تاریک ہونا یقینی ہے جو کچھ ہورہا ہے وہ اچھا نہیں ہے ہم کرپشن کے ماہر ہاتھوں نءں خود کو خطرات میں گھرا ہوا محسوس کررہے ہیں ہر طرف لوٹ مار اور وسائل پر ڈاکے عام ہیں لیکن ایسے حالات اور مایوس کن مستقبل میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جن کے باعث امید وفکر کی بازگشت ہے ۔۔ایسے لوگ ہی ہمارے امید کے مرکز ہیں وہ امید جو کبھی معدوم نہیں ہوتی یہاں سب کچھ خراب ہے لیکن اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے حصے کا دیا جلائے ہوئے ہیں ۔ایسے لوگ اعلی ذہن اور مضبوط قوت تخیل کے ساتھ وسیع تجربہ رکھتے ہیں وہ معاشرتی کرداروں کی داخلی ۔خارجی ۔کیفیات ان کی نفسیاتی کشمکش خودکلامی کے انداز،سے شعوری اور لاشعوری پہلووں کو سمجھتے چلے جاتے ہیں۔۔
لیکن ہمارے یہاں سب کچھ سمجھ کر بھی خاموش رہنا سماج کی روایت بن چکا ۔گوجرخان میں میونسپل کمیٹی میں ہوشرباء کرپشن کی داستانیں منظر عام پر آنے کے بعد پہلی بار دیکھنے کو ملا کہ حکمران جماعت کے کسی رہنماء کی جانب سے لوکل گورنمنٹ پنجاب کی ڈائریکٹوریٹ جنرل انسپکشن اینڈ مانیٹرک کی آفیشل انکوئری رپورٹ کو سو فیصد درست قرار دیتے ہوئے اس کرپشن کہانی کے گھناونے کرداروں کے خلاف نہ صرف کاروائی کی حمایت کی گئی بلکہ اس پر اعلی سطح پر آواز،اُٹھانے کا اعلان بھی کیا ۔
راجہ جاوید اخلاص اس لحاظ سے قابل ستائش،ہیں کہ ماضی کی روایت کے تحت کرپٹ عناصر کی پشت پناہی کے بجائے ان کے کالے کرتوتوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ بھی کیا سچ بولنے کو ترجع دی۔چونکہ پنجاب میں راجہ جاوید،اخلاص کی جماعت حکمران ہے اس لیے انہیں اس پانچ رکنی اعلی سطحی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد محض کاروائی کے اعلان تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس رپورٹ پر اعلی سطح پر کاروائی کے لیے کوشش بھی کرنا چاہیے کیونکہ اس ملک میں رواج رہا ہے کہ ایسی کہانیاں منظر عام پر آتی ہیں
لیکن ان کہانیوں کے گھناونے کردار کبھی بھی سزا یاب نہیں ہوتے ۔عوام کے پیسے پر ڈاکہ مارنے کرداروں کو منظر عام پر لانے کے لیے بھی راجہ جاوید اخلاص اپنا کردار ادا کریں تا کہ گوجرخان کے عوام معاشرے کے ان ناسورں کے چہرے آشنا ہوں سکیں جن کی ملی بھگت سے کرڑوں کے گھپلے سامنے آئے ایسے کرداروں کے چہرے اس لیے بھی سامنے آنا چاہیے کہ کہ عوامی مفادات کے بجائے ذاتی مفادات کے اسیر یہ کرپٹ کردار سماج میں معزز ہونے کا ناٹک کرتے ہیں عوام کی لوٹی دولت سے نمود ونمائش اور،ٹھاٹھ باٹھ کی زندگیاں جینے والے کردار قابل نفرت ہیں یہ کردار کسی رعایت ۔کیسی درگزر اور کسی ترس کے لائق نہیں ۔۔