“بچوں میں کتاب بینی کی کمی: وجوہات اور ممکنہ حل”

بچوں میں کتاب بینی کی کمی آج کے معاشرتی مسائل میں ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ کتابیں انسانی علم، ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اور بچوں کی شخصیت کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ابتدائی عمر میں مطالعہ کا شوق بچوں کے ذہن کو وسیع کرتا ہے، ان کی تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیتا ہے اور انہیں زندگی میں مختلف مسائل کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔

تاہم آج کے جدید دور میں بچے زیادہ تر وقت موبائل فونز، ٹی وی اور کمپیوٹر گیمز میں صرف کرتے ہیں اور کتابوں کی طرف رغبت کم ہوتی جارہی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ان کی تعلیمی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ ان کی ذاتی اور سماجی ترقی میں بھی رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ بچوں میں کتاب بینی کی کمی کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ موبائل فونز اور سوشل میڈیا نے بچوں کی توجہ کو کتابوں سے ہٹا دیا ہے۔ آج کے بچے زیادہ تر تفریحی مواد جیسے ویڈیوز، گیمز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں وقت گزارتے ہیں، جس کی وجہ سے کتابیں انہیں بورنگ اور پرانی لگتی ہیں۔

اس کے علاوہ تعلیمی نظام بھی کتاب بینی کی کمی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ نصاب زیادہ تر نظریاتی اور بورنگ ہوتا ہے، جس میں بچوں کی دلچسپی پیدا کرنے والی سرگرمیوں کی کمی ہوتی ہے۔ جب بچوں کو اسکول میں مطالعہ دلچسپ نہیں لگتا تو وہ گھر پر بھی کتابوں کی طرف راغب نہیں ہوتے۔ گھریلو ماحول اور والدین کا رویہ بھی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر والدین خود کتاب بینی نہیں کرتے یا بچوں کے لیے کتابیں مہیا نہیں کرتے تو بچوں میں مطالعے کی عادت پیدا نہیں ہوتی۔ والدین کی مشغولیت اور مصروفیت بھی بچوں کو کتابوں کی طرف راغب ہونے سے روکتی ہے۔

اسی طرح کتابوں کی دستیابی اور دلچسپی کے موضوعات کی کمی بھی بچوں میں مطالعہ کی کمی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مارکیٹ میں بچوں کے لیے مختصر اور دلچسپ کتابیں کم ہیں، اور موجودہ کتابیں اکثر بچوں کی دلچسپی کے مطابق نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے وہ کتابیں پڑھنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ کتاب بینی کی کمی کے اثرات بھی واضح ہیں۔ سب سے پہلا اثر بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں میں کمی ہے۔ جب بچے کتابیں نہیں پڑھتے تو ان کی تخلیقی سوچ اور تصوراتی صلاحیت محدود رہ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تنقیدی سوچ کی کمی بھی پیدا ہوتی ہے کیونکہ مطالعہ بچوں کو مختلف نقطہ نظر سے سوچنے اور تجزیہ کرنے کا موقع دیتا ہے۔

کتاب بینی کی کمی تعلیم میں دلچسپی اور کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ بچے جو کتابیں نہیں پڑھتے وہ نہ صرف کلاس میں کم فعال ہوتے ہیں بلکہ امتحانات میں بھی بہتر نتائج حاصل نہیں کر پاتے۔ یہ کمی ان کی ذاتی اور سماجی ترقی پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ مطالعہ کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے بچوں میں جذباتی سمجھ بوجھ، معاشرتی شعور اور اخلاقی تربیت کمزور پڑ سکتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے والدین، اساتذہ اور معاشرہ سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین بچوں کے لیے روزانہ کتاب پڑھنے کا وقت مقرر کریں اور خود بھی بچوں کے سامنے کتاب پڑھیں تاکہ بچوں میں مطالعہ کی عادت پیدا ہو۔

والدین کی حوصلہ افزائی اور مثبت رویہ بچوں کی دلچسپی کو بڑھاتا ہے اور کتاب بینی کو خوشگوار تجربہ بناتا ہے۔ دلچسپی بڑھانے والے مواد کی فراہمی بھی اہم ہے۔ بچوں کے لیے کہانیاں، دلچسپ ناول، معلوماتی کتابیں اور تصویری کتابیں مہیا کی جائیں تاکہ وہ مطالعے میں دلچسپی لیں۔ گرافک ناولز یا تصویری کتابیں خاص طور پر کم عمر بچوں کے لیے بہت مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسکول میں بھی کتاب بینی کو فروغ دینا ضروری ہے۔ لائبریری کا فعال استعمال، کتاب بینی کے مقابلے اور انعامات بچوں کو کتاب پڑھنے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ اساتذہ بچوں کو مختلف قسم کی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیں اور ان کے لیے چھوٹے چھوٹے ریڈنگ سیشن رکھیں تاکہ بچوں کی دلچسپی برقرار رہے۔

ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال بھی ایک حل ہے۔ بچوں کو ای بکس، تعلیمی ایپلیکیشنز اور آن لائن مواد کے ذریعے مطالعہ کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔ موبائل اور کمپیوٹر کو صرف تفریح کے لیے استعمال کرنے کی بجائے تعلیمی وسائل کے لیے بھی استعمال کرنا چاہیے۔ اس طرح بچوں میں کتاب بینی کی کمی کو کم کیا جا سکتا ہے اور انہیں علم، فہم اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ والدین اور اساتذہ کو بچوں کی دلچسپی کے مطابق کتابیں فراہم کرنے اور مطالعہ کو خوشگوار بنانے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرنے چاہئیں۔ روزانہ کم از کم بیس سے تیس منٹ کی مطالعہ عادت بچوں میں مستقل کتاب بینی پیدا کر سکتی ہے۔ بچوں میں مطالعہ کی عادت صرف تعلیمی ترقی کے لیے نہیں بلکہ ان کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت اور ذہنی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے۔ معاشرتی سطح پر بھی بچوں میں کتاب بینی کی عادت کو فروغ دینا بہت اہم ہے کیونکہ علم اور مطالعہ ایک قوم کی ترقی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہیں۔

اگر بچوں میں مطالعہ کی عادت پیدا ہو جائے تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ معاشرے کے لیے بھی مفید شہری بن سکتے ہیں۔ کتابیں بچوں کو مختلف ثقافتوں، تاریخ، سائنس اور ادب سے روشناس کراتی ہیں اور ان کے ذہن کو کھولتی ہیں۔ اسی لیے والدین، اساتذہ اور معاشرہ سب کا یہ فرض ہے کہ وہ بچوں کو مطالعہ کی طرف راغب کریں اور کتاب بینی کو ان کی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔ بچوں کی کتاب بینی صرف فرد کی ترقی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کا سبب بنتی ہے، کیونکہ علم کا پھیلاؤ معاشرتی شعور، اخلاقی تربیت اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے۔ لہٰذا کتاب بینی کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں اور چھوٹے چھوٹے قدم جیسے روزانہ مطالعہ کے اوقات، دلچسپ کتابوں کی فراہمی اور والدین کی حوصلہ افزائی بچوں میں مستقل مطالعہ کی عادت پیدا کر سکتے ہیں۔

کتابیں نہ صرف علم کا ذریعہ ہیں بلکہ بچوں کی زندگی میں ایک رہنما، دوست اور استاد کا کردار بھی ادا کرتی ہیں، اس لیے ان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بچوں میں کتاب بینی کی کمی کا مسئلہ اگر بروقت حل نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کے لیے مطالعے کو خوشگوار، دلچسپ اور روزمرہ کی عادت بنائیں تاکہ علم اور تعلیم کی روشنی ہر بچے کی زندگی میں پھیلے اور وہ ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھیں۔