بجٹ میں تنخواہوں و پنشن میں 7 سے 10 فیصد تک اضافہ متوقع

وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کااجلاس کل8جون کو ہو گا جس میں چاروں صوبوں وگلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا اور وزیراعظم آزاد کشمیر شرکت کرینگے۔

اکنامک سروے9جون کو پیش ہونے کا امکان ہے، ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا حجم171 کھرب روپے ہو گا، معاشی شرح نمو کا ہدف4.1 فیصد، اوسط مہنگائی کا تخمینہ8.4 فیصد لگایا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پٹرولیم لیوی کا ہدف1727ارب مقرر کرنے کی تجویز، ٹیکس ریونیو ہدف 15267ارب روپے،نان ٹیکس کا 2768 ارب روپے، وفاقی پی ایس ڈی پی کا حجم11 کھرب روپے متوقع ہے، سود کی ادائیگی کیلئے7824ارب، دفاع کیلئے2665ارب مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں7 سے 10فیصد تک اضافہ متوقع ہے، اتحادی 15فیصد اضافے پر زوردے رہے، حتمی فیصلہ10جون کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہوگا۔

ذرائع نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے کرپٹو ٹریڈنگ کے منافع پر 10سے30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد، سابق قبائلی علاقوں کیلئے ٹیکس استثنیٰ ختم ہونے کا امکان،220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز کی تجویز ہے۔

تاجروں کیلئے فکسڈ ٹیکس اسکیم کے اہل سالانہ20 کروڑ روپے تک سیل رکھنے والے دکاندار، ان پر ایک فیصد ٹیکس عائد اور انہیں آڈٹ سے استثنیٰ ہو گا، ریٹرن کیساتھ25 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس دینا ہوگا۔

آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی18 سے 19فیصدکرنے پر زور دیا ہے، ٹیکس ہدف کے حصول کیلئے بجٹ میں اضافی اقدامات شامل ہونگے۔

سپرٹیکس میں1 سے2 فیصد تک کمی کی تجویز،فارمولادودھ،کیچپ،گھی، خوردنی تیل ،چائے کی پتی،چینی، خشک دودھ سمیت درجنوں اشیائے خورونوش پرسیلز ٹیکس وصولی کیلئے پرچون قیمت پرنٹ لازمی قرار دینے کا فیصلہ اوراس کیلئے ان اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

جن اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے، اسے برقرار رکھنے کا امکان ہے، الیکٹرک گاڑیوں کیCKD کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ اور ہائبرڈ گاڑیوں پر رعایت ختم، جبکہ مقامی تیار یا اسمبل الیکٹرک گاڑیوں پر1فیصد سیلز ٹیکس30جون تک رہے گا۔

قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی، مقامی تیار سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ30جون کو ختم ہو جائیگی۔