بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق سینیٹ میں قرارداد مسترد، اپوزیشن کا شدید احتجاج

اسلام آباد(اویس الحق سے)سینیٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد مسترد کردی گئی جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر عون عباس بپی نے ایوان میں بابی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد پیش کی جس کی حکومت کی جانب سے مخالفت کی گئی۔ قرارداد مسترد ہونے پر پی ٹی آئی سینیٹرز چئیرمین ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور شدید احتجاج و نعرے بازی کی۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر بانی پی ٹی آئی کی صحت پر بات کرنا چاہتے ہیں، آج اس پر بات کرنی ہے تو تحریک کیوں پیش کی جارہی ہے؟۔ سپریم کورٹ میں پیش کردہ رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن پر چیزیں کلئیر ہوگئی ہیں، سلمان صفدر نے رپورٹ میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں سیکورٹی پر مطمئن ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا جیل کے ڈاکٹر ہر دوسرے روز معائنہ کرتے ہیں، اب تک باہر کے ڈاکٹروں نے 25 مرتبہ چیک اپ کیا، سپریم کورٹ میں ان کی پٹیشن پر فرینڈ آف کورٹ مقرر کیا گیا، سپریم کورٹ میں انہوں نے کہا ہے انہیں کسی اور ڈاکٹر سے چیک اپ کیا جائے، حکومت نے سپریم کورٹ کو کہا ہے کہ کوئی اور ڈاکٹر کہیں گے تو ہم ان سے چیک اپ کروائیں گے، سپریم کورٹ سے جو بھی حکم ہوگا حکومت اس پر عمل کرے گی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کے حوالے سے 4 ماہ کی غفلت والی کوئی بات نہیں لہٰذا ان کی صحت پر سیاست نہ کی جائے، یہ کہنا غلط ہے کہ 4 ماہ سے شکایت کی جا رہی تھی، جب بھی عمران خان نے شکایت کی ان کا چیک اپ ہوا اس لیے 4 ماہ کی غفلت والی کوئی بات نہیں۔

صرف سیاستدان جیل جاتے ہیں، کسی جرنیل یا جج کو نہیں دیکھا، راجہ ناصر عباس

اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آنکھ کی بینائی ایک دم سے ختم نہیں ہوسکتی، رانا ثناء اللہ کو جو لکھ کر دیا گیا انہوں نے وہ پڑھ کر سنا دیا، بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے لاپرواہی ہوئی ہے، جن ڈاکٹروں سے چیک اپ کروایا گیا وہ اس کے ماہر ہی نہیں تھے، ان کے وکلاء اور اہلخانہ کو کیوں مطلع نہیں کیا گیا؟۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ کسی جرنیل، بیوروکریٹ یا جج کو جیل میں نہیں دیکھا، صرف سیاستدان جیلوں میں ہوتے ہیں، ہمیں کہیں سے تو واپس جانا پڑے گا، بیرسٹر سلمان کی رپورٹ میں جو لکھا ہے ان کی صحت کے حوالے سے وہ پڑھیں، تسلیم کریں کہ غلطی ہوئی ہے۔

بانی پی ٹی آئی کو فوری شفاء آئی اسپتال داخل کروایا جائے، سینیٹر فیصل جاوید

سینیٹر فیصل جاوید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2025 میں بانی پی ٹی آئی کی بینائی بلکل ٹھیک تھی، پھر اچانک بانی پی ٹی آئی کی نظر چلی گئی، یہ وہ شخص ہے جس کا علاج نہیں کروایا جارہا جس نے غریبوں کیلئے کینسر اسپتال بنایا۔

سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ بار بار ہم آواز اٹھاتے رہے ان کے ذاتی معالجین کو رسائی دی جائے، دو سال سے ہماری ملاقاتیں بند ہیں، ہم بار بار کہہ رہے تھے سیاست دانوں کو چھوڑیں ان کے ڈاکٹروں کو تو ان سے ملنے دیں، بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر شفاء آئی ہسپتال داخل کروایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے معالجین سے ملوایا جائے، نوازشریف کی بیماری پر بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا ان کو تمام طبی سہولیات دی جائیں، بانی پی ٹی آئی نے صرف اعلان نہیں کیا بلکہ نوازشریف کو جیل میں تمام سہولیات بھی دلوائیں۔

قیدی کی بیماری پر سیاست کریں گے تو قیدی کو نقصان ہوگا، پرویز رشید

سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحتیابی کیلئے دعا گو ہوں، قید میں شخص انسان کو علاج معالجے کی سہولتیں ملنی چاہئیں، یہ استدلال بنایا جارہا ہے کہ بیمار شخص بہت مشہور و معروف ہے، لہٰذا اس مبالغے میں ایک کردار تخلیق کرلیا جاتا ہے اور افسانے گھڑے جاتے ہیں، وہ ایک سزایافتہ مجرم ہے جس کو بددیانتی اور خیانت کے جرم میں عدالتوں سے سزا ہوچکی ہے۔

سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ میرا لیڈر جب علاج کیلئے باہر گیا تو یہ اس کو عدالتی مفرور کہا کرتے تھے، ایسی ہی تکلیف ہمیں بھی ہوتی تھی، اڈیالہ جیل کے ریکارڈ کو چیک کیا جائے، کیا نواز شریف کو 6 کمروں کی سہولت تھی؟، یہاں پر بیڈروم الگ، کچن الگ، ڈرائنگ روم الگ ملا ہوا ہے۔

پرویز رشید نے کہا کہ اگر قیدی کی بیماری پر یہ سیاست کریں گے تو پھر قیدی کو نقصان ہوگا، اس کی صحت کو نقصان ہوگا، نہ ہم لاشوں کی سیاست ہونے دیں گے نہ بیماری پر سیاست ہونے دیں گے۔

سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ 2 ماہ پہلے انہوں نے خبریں پھیلائیں کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے، انتقال کی خبریں انہوں نے پھیلائی تھیں، ان کی پھیلائی خبریں غلط ثابت ہوئیں، ان کا وکیل کہہ رہا ہے ان کی بینائی ختم ہوگئی ہے، کسی ڈاکٹر نے نہیں کہا، ایک وکیل کی بات انہوں نے پکڑ لی ہے۔ پرویز رشید کی تقریر پر پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج شروع کردیا۔

روایات کیخلاف جانا بانی پی ٹی آئی کا سب سے بڑا جرم ہے، جے یو آئی سینیٹر

جے یو آئی کے سینیٹر عبدالشکور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی روایات کیخلاف گیا ہے یہ اس کا سب سے بڑا جرم ہے، بلوچستان اسمبلی کے 90فیصد لوگ فارم 47 سے آئے ہوئے ہیں، بلوچستان کے 75 فیصد لوگوں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔

سینیٹر عبدالشکور نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے نام پر 18 سال سے کم عمر کی بچیوں کے نکاح پر پابندی لگادی گئی، مولانا فضل الرحمان نے کہا میں اس قانون کو نہیں مانتا، جس جگہ یہ قانون پاس ہوا وہیں کھڑے ہوکر ہم نے اعلان کیا کہ ہم اس قانون کو نہیں مانتے، دین کے نام پر صرف جے یو آئی کے لوگ کھڑے ہوتے ہیں، کیا صرف جے یو آئی کے لوگ مسلمان ہیں؟۔

سینیٹ اجلاس میں مختلف قوانین کی بھی منظوری

سینیٹ اجلاس میں مختلف قوانین کی بھی منظوری دی گئی، وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بھنگ کنٹرول اتھارٹی ترمیمی بل 2026 پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔

سینیٹ نے نیا پاکستان ہاوسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 2020 میں ترمیم کا بل اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بزرگ شہری ایکٹ 2021 میں ترمیم کے بلز کی بھی منظوری دے دی۔

اے پی پی آرڈیننس 2002میں ترمیم کا بل بھی ایوان سے منظور کرلیا گیا، بل وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی جانب سے طارق فضل چوہدری نے پیش کیا۔