لاہور(پنڈی پوسٹ نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے ایڈوانس انکریمنٹس کی ریکوری کے خلاف درخواست خارج کرتے ہوئے ایل ایل بی کی بنیاد پر اضافی دو ایڈوانس انکریمنٹس کا دعویٰ مسترد کردیا اور دی گئی رقم کی ریکوری سمیت پنشن سے کٹوتی برقرار رکھی۔جسٹس شیریں عمران نے محمد یاسین کی آئینی درخواست پر 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ 2 دہائیوں تک ملنے والا غیر قانونی مالی فائدہ محض مدت گزرنے سے قانونی حق نہیں بن سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ پہلے ہی ایم اے، ایم ایس سی کی بنیاد پر 2 انکریمنٹس لینے والے ملازم کو ایل ایل بی پر مزید 2 انکریمنٹس نہیں مل سکتیں۔فیصلے کے مطابق ایل ایل بی پر 2 ایڈوانس انکریمنٹس کی سہولت صرف عدالتی امور سے منسلک اداروں کے اہلکاروں کے لیے ہے، جبکہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کے ملازم کی ذمہ داریاں انصاف کی فراہمی کے کام سے براہ راست منسلک ثابت نہیں ہوسکیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ فراڈ یا غلط بیانی نہ ہونے کے باوجود غیر مستحق مالی فائدہ برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ غلطی سے دیا گیا مالی فائدہ طویل عرصے تک ملنے سے مستقل قانونی حق نہیں بن جاتا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ کسی غیر قانونی حکم کی بنیاد پر وقت گزرنے کے ساتھ مستقل حق حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ محکمہ کی جانب سے غلطی سے دیا گیا فائدہ قانون اور پالیسی کے خلاف ہو تو اسے واپس لیا جاسکتا ہے۔
درخواست گزار محمد یاسین نے 2000 میں ایل ایل بی کی بنیاد پر دو ایڈوانس انکریمنٹس حاصل کی تھیں، تاہم بعد میں انکریمنٹس کی مد میں دی گئی رقم کی ریکوری کا حکم جاری کردیا گیا تھا۔یاد رہے کہ درخواست گزار نے 2023 میں ایڈوانس انکریمنٹس کی ریکوری اور پنشن سے کٹوتی کے احکامات لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیے تھے۔جسٹس شیریں عمران نے محمد یاسین کی آئینی درخواست خارج کرتے ہوئے انہیں ایل ایل بی کی بنیاد پر اضافی 2 ایڈوانس انکریمنٹس کا اہل قرار دینے سے انکار کردیا۔