ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں 14 گھنٹے کی طویل نشست جاری رہی۔

اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کا مرکز بن گیا جہاں ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے 14 گھنٹے طویل اور غیر معمولی اہمیت کے حامل مذاکرات کے بعد پیش رفت کے آثار تو سامنے آئے ہیں، تاہم کئی اہم معاملات پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔

مذاکرات پاکستان میں مقامی وقت کے مطابق آج اتوار کی صبح 3 بج کر 12 منٹ پر اختتام پذیر ہوئے۔

سینئر سطح کے ان مذاکرات میں 1979 کے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین نمائندوں کے درمیان براہِ راست ملاقات بھی ہوئی، جسے سفارتی تاریخ میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز سمیت دیگر اہم اسٹریٹجک تنازعات کو حل کرنا تھا، تاہم یہ طویل نشست اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ سکی۔

رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فریقین کسی ممکنہ معاہدے کی سمت عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں، تاہم حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید مشاورت جاری ہے۔

ایرانی حکومت کے آفیشل بیان کے مطابق 14 گھنٹے جاری رہنے والے ان مذاکرات کے بعد دونوں جانب کی تکنیکی ٹیموں نے تحریری مسودوں اور تجاویز کا تبادلہ شروع کر دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ کچھ اختلافات کے باوجود مذاکرات جاری رہیں گے، جس سے محتاط پیش رفت کا عندیہ ملتا ہے۔

امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر شامل تھے، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ اسپیکر باقر قالیباف نے کی، اور وزیر خارجہ بھی وفد کا حصہ تھے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ میزبان پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی صورتحال پر خبر فائل ہونے تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان ثالث کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا۔