ضلع اٹک میں جشنِ آزادی کی سرکاری تقریبات روایتی جوش و جذبے کے ساتھ “معرکہ بنیان المرصوص اور پاک فوج” کے عنوان سے منعقد ہوئیں، تاہم شہری اور صحافتی حلقوں کے مطابق تقریبات کے مختلف مقامات بشمول اسٹیج، ہالز اور داخلی دروازوں پر بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کی تصاویر جان بوجھ کر آویزاں نہیں کی گئیں۔ شرکاء نے اس عمل کو قومی روایات اور تقریبات کے وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری نوٹس لینے، ضلعی انتظامیہ میں ملوث افسران کی نشاندہی کرنے اور شفاف انکوائری کے بعد قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی صحافتی اداروں اور شہری نمائندوں کا کہنا ہے کہ جب ملک بھر میں یومِ آزادی کی تقریبات میں قومی رہنماؤں کو نمایاں کیا جا رہا ہے تو اٹک کی سرکاری تقریبات میں ان کی تصویری نمائندگی کا غائب ہونا ناقابلِ قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ تمام سرکاری تقریبات میں قائداعظم اور علامہ اقبال کی نمایاں جگہ پر تصاویر اور اقتباسات لازماً نصب کیے جائیں تاکہ نوجوان نسل کو قومی تاریخ سے جوڑا جا سکے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید حساس ہوگیا جب قومی سطح پر یومِ آزادی کے ایک سرکاری اشتہار میں بھی قائداعظم اور اقبال کی تصاویر نہ دکھانے پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی۔ مبصرین کے مطابق اس پس منظر میں اٹک کی صورتحال مزید تشویشناک ہے اور انتظامی احتساب ناگزیر ہو چکا ہے۔
شہری و صحافتی تنظیموں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ میں ذمہ دار اہلکاروں کی واضح نشاندہی کی جائے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس کے ساتھ آئندہ تمام سرکاری تقریبات کے لیے ایسے تحریری ایس او پیز جاری کیے جائیں جن میں قائداعظم اور اقبال کی لازمی بصری نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔




