اردو ڈائجسٹ کے بانی و مدیراعلیٰ، محترم الطاف حسن قریشی صاحب کا شمار پاکستان کے اُن نابغہ روزگار اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ قومی صحافت کو وقار، سنجیدگی اور فکری گہرائی عطا کی ہے۔ آپ نہ صرف ایک ممتاز کالم نگار اور نڈر صحافی ہیں بلکہ بے باک مصنف اور تاریخِ پاکستان کے ایک چلتے پھرتے انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ان کی تحریریں حق گوئی، دانشوری اور مملکتِ پاکستان کی فکری، اخلاقی اور معاشرتی تعمیر کے لیے ہمیشہ ایک مثبت نقطہ نظر کی عکاس رہی ہیں۔قریشی صاحب کا قلم محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بل کہ حقائق کی روشنی میں کیا جانے والا ایسا باریک بین تجزیہ پیش کرتا ہے جو واقعات کے پس منظر تک اتر کر اُن پرتوں کو روشن کرتا ہے جن پر قومی تاریخ کے دھارے گردش کرتے ہیں۔
انہوں نے تاریخِ پاکستان کو صرف واقعات کی ترتیب سے نہیں دیکھا بل کہ اس کے باطن میں اتر کر اس کے اسباب، نتائج اور پوشیدہ معنویت کو واضح کیا۔ان کی تحریریں محض ایک مستند دستاویزی سرمایہ نہیں بل کہ اس میں وہ گرانقدر فکری اشارے بھی موجود ہیں جو قومی شعور کو بیدار کرتے اور اجتماعی سفر کو ایک واضح سمت عطا کرتے ہیں۔الطاف حسن قریشی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز اُس دور میں کیا جب پاکستان ایک نوخیز ریاست کے طور پر اپنی سمت متعین کر رہا تھا اور صحافت نئی بنیادوں اور نئے اسالیب کی تلاش میں تھی۔
3 مارچ 1932 کو سرسہ، ضلع حصّار میں پیدا ہونے والے قریشی صاحب ہجرت کے بعد لاہور آئے، جہاں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا۔ تعلیم نے ان کی سوچ کو وہ گہرائی، وسعت اور سنجیدگی عطا کی جس نے نوجوانی ہی میں اُن کے اندر لکھنے اور پڑھنے کا شوق ایک باقاعدہ ذوقِ مطالعہ اور فکر کی پختگی میں بدل دیا۔1960ء میں ان کے بڑے بھائی، جناب اعجاز حسن قریشی، نے لاہور میں اردو ڈائجسٹ کی بنیاد رکھی، جس کی ترتیب و تنظیم امریکی میگزین Reader’s Digest سے متاثر تھی۔
الطاف حسن قریشی نے اس کے ادارت کی ذمہ داری سنبھالی اور ان کے تحقیقی وژن، مدیرانہ مہارت اور فکری سلیقے نے چند ہی برسوں میں اس رسالے کو قارئین کی محبوب ترین علمی و ادبی مجلس بنا دیا۔یوں اردو ڈائجسٹ سے وابستگی نے نہ صرف ان کے صحافتی سفر کو سمت دی بلکہ انہیں پاکستان کی فکری، سیاسی اور ادبی تاریخ میں ایک اہم مقام سے روشناس کرایا۔اردو ڈائجسٹ نے پاکستانی معاشرے کو علمی، فکری اور تہذیبی مباحث سے جس پیمانے پر روشناس کرایا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
مغربی جریدوں کی طرز پر معیاری، تحقیق شدہ اور فکر انگیز مواد جب پہلی بار شستہ اردو میں قارئین کے ہاتھوں تک پہنچا، تو یہ رسالہ عوام و خواص دونوں میں یکساں محبوب اور معتبر ٹھہرا۔قریشی صاحب کی جاندار تحریروں، بصیرت افروز اداریوں اور متوازن تجزیوں نے نسل در نسل قارئین کی فکری تربیت کی۔ انہوں نے ایک ایسے صحافتی اسلوب کو رواج دیا جس میں علم بھی تھا، تہذیب بھی، اور حق گوئی کی وہ جرات بھی جس کا چراغ انہوں نے ہمیشہ روشن رکھا۔ان کے صحافتی سفر کی وسعت اور تنوع کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف اردو ڈائجسٹ کی ادارت سنبھالی، بلکہ ہفت روزہ زندگی اور روزنامہ جسارت کی اشاعت و تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ یوں وہ پاکستانی صحافت کی اُن شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف ادارے قائم کیے بلکہ انہیں فکری روایت بھی بخشی۔
آج ان کی مدیرانہ بصیرت اور فکری وسعت نے اردو ڈائجسٹ کو ایک زبردست تعلیمی، ادبی اور فکری پلیٹ فارم بنا دیا ہے، جو ارضِ پاک کے نوجوانوں میں حبُّ الوطنی، مثبت طرزِ فکر اور تعمیرِ وطن کے جذبے کو پوری قوت سے مہمیز دیتا ہے۔قریشی صاحب نے ہمیشہ اپنے قارئین کو جذباتیت کی دھند سے نکال کر حقائق کی روشن زمین پر کھڑا کیا۔ ان کی تحریریں سادہ بیانی نہیں بلکہ متوازن تحقیق، مستند شواہد اور فکری دیانت کا حسین امتزاج ہیں۔وہ ایسی صحافت کے علمبردار رہے جو نہ صرف عوام کی آواز ہو بلکہ اُن کی فکری رہنمائی، اخلاقی تربیت اور قومی شعور کے ارتقا کا ذریعہ بھی بنے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام آج بھی ذمہ دار اور اصولی صحافت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
جنابِ الطاف حسن قریشی کی تصنیفات اور مضامین نے نہ صرف پاکستان کی تاریخ کو محفوظ رکھنے میں گرانقدر کردار ادا کیا ہے بل کہ اسے سمجھنے اور پرکھنے کے لیے نئے زاویے بھی مہیا کیے ہیں۔ ان کی کتابیں طلبہ، محققین اور سنجیدہ قارئین کے لیے معتبر حوالہ اور فکری رہنمائی کا روشن مینار سمجھی جاتی ہیں۔خصوصاً مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے سانحے پر انہوں نے جس عمیق تحقیق، غیر جانب دارانہ تجزیے اور تاریخی شعور کے ساتھ قلم اٹھایا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ قریشی صاحب نے ان اسباب و عوامل کو نہایت سچائی اور بصیرت کے ساتھ آشکار کیا جو اس المیے کے پس منظر میں کارفرما تھے۔
اپنی تحریروں میں انہوں نے ان کمزوریوں اور فیصلوں کی نشان دہی بھی کی جن پر بروقت توجہ دی جاتی تو شاید تاریخ کا دھارا کچھ اور ہوتا۔ ان کا کام محض واقعات کی ترجمانی نہیں، بلکہ قومی فکر کی اصلاح، آئندہ نسلوں کے لیے بصیرت اور اجتماعی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی سنجیدہ دعوت بھی ہے۔1971 کے سقوطِ ڈھاکہ جیسے نازک اور قومی المیے پر جناب الطاف حسن قریشی نے جس بے لاگ جرأت اور تاریخی بصیرت کے ساتھ قلم اٹھایا، وہ ان کی فکری دیانت اور تحقیقی اہلیت کا روشن ثبوت ہے۔ انہوں نے ان محرکات اور عوامل کو کھول کر بیان کیا جو پاکستان کے دو لخت ہونے کا سبب بنے، اور اس سانحے کے سیاسی، سماجی اور فکری پس منظر کو نہایت وضاحت کے ساتھ آشکار کیا۔
قریشی صاحب کی متعدد تحقیقی و علمی تصانیف پاکستان کی سیاسی اور تاریخی حقیقتوں کا مستند حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔ ان کی بیش بہا کتب میں جنگِ ستمبر کی یادیں، مقابل ہے آئینہ، چھ نکات کی سچی تصویرملاقاتیں، مزید ملاقاتیں، ملاقاتیں کیا کیا، قافلے دل کے چلے، نوکِ زبان، میں نے آئین بنتے دیکھا، مشرقی پاکستان اور ٹوٹا ہوا تارا وغیرہ شامل ہیں۔ یہ کتب نہ صرف تحقیق کا اعلیٰ نمونہ ہیں بلکہ ہماری قومی تاریخ کی تہوں تک رسائی کا معتبر ذریعہ بھی ہیں۔پاکستان کی صحافتی اور علمی دنیا میں ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی اعزازات سے نوازا گیا۔
وہ مختلف ادبی و صحافتی تنظیموں کے فعال رکن رہے اور متعدد قومی و بین الاقوامی سیمینارز میں پاکستان کی نمائندگی کر کے ملک کا وقار بڑھاتے رہے۔ قریشی صاحب کی صحافت ہمیشہ نظریاتی بنیادوں پر استوار رہی۔ وہ اسلامی فکر کے سچے علمبردار تھے اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے افکار سے گہرا فکری رشتہ رکھتے تھے۔ اسی فکری استقامت نے انہیں کمیونزم اور سوشلسٹ نظریات کے مقابل بے باک ناقد بنایا، جہاں انہوں نے دلائل، تنقید اور تاریخی حقائق کی روشنی میں اپنا نقط نظر پیش کیا۔وہ سیاسی تحریکوں اور قومی رہنماؤں کا نہایت قریب سے مشاہدہ کرتے رہے۔ ان کی تحریریں اور انٹرویوز محض بیانات کا مجموعہ نہیں، بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے بڑے کرداروں کی حقیقی شخصیت، ذہنی ساخت، ترجیحات اور عملی رویوں کا آئینہ ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو، شیخ مجیب الرحمن، جنرل ضیاء الحق، شاہ فیصل، مولانا مودودی اور دیگر عالمی و قومی شخصیات کے ساتھ قریشی صاحب کی ملاقاتیں، مکالمے اور مشاہدات تاریخ کے ان قیمتی اوراق میں شمار ہوتے ہیں، جن سے نہ صرف سیاسی فضا کی تفہیم میں مدد ملتی ہے بلکہ ایک عہد کی نبض بھی محسوس ہوتی ہے۔ان کی صحافتی خدمات کا اعتراف ریاستی اور ادارتی دونوں سطحوں پر بھرپور انداز میں کیا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں ”ستارہ امتیاز“ کے اعزاز سے نوازا، جبکہ APNS اور CPNE نے بھی ”لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز“ عطا کر کے ان کی ہمہ گیر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ مگر قریشی صاحب کے نزدیک حقیقی انعام وہ محبت، اعتماد اور احترام تھا جو انہیں اپنے قارئین کے دلوں سے ملا—وہ سرمایہ جسے وہ کسی بھی اعزاز سے بڑھ کر سمجھتے تھے۔ان کے زیرِ سایہ ایسی نسل تیار ہوئی جس نے پاکستان کی صحافت کو نئی پہچان دی۔ مجیب الرحمن شامی، ضیا شاہد اور ارشاد عارف جیسے نامور اہلِ قلم ان کی تربیت اور سرپرستی سے فیض یاب ہوئے۔ یہ حقیقت اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ قریشی صاحب نے محض صحافت نہیں کی، بلکہ ایک پوری نسل کو صحافت کا ہنر، دیانت اور سلیقہ سکھایا؛ وہ روایات منتقل کیں جو آج بھی ہمارے صحافتی منظرنامے کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔
الطاف حسن قریشی کا صحافتی سفر پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا درخشاں باب ہے جس کی روشنی کبھی مدھم نہیں پڑتی۔ انہوں نے صحافت کو محض خبر رسانی کے محدود دائرے میں محصور ہونے سے نکال کر ایک فکری تحریک کی صورت دی۔ایسی تحریک جو ذہنوں کو روشنی دیتی ہے، سوچ کو وسعت بخشتی ہے اور قوم کو خود احتسابی کی طرف بلاتی ہے۔ان کے قلم نے کبھی اصولوں سے انحراف کیا، نہ سچ کو وقت کی مصلحتوں کے پردے میں چھپایا۔ وہ ہمیشہ قوم کے سامنے ایک آئینہ رکھتے رہے جس میں حقیقت کی صاف اور واضح تصویر جھلکتی ہے۔
ان کی زندگی اور اسلوب ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ سچا صحافی صرف خبریں لکھنے والا نہیں، بلکہ معاشرے کی فکری بنیادیں استوار کرنے والا معمار بھی ہوتا ہے۔الطاف حسن قریشی بلاشبہ پاکستان کی صحافتی تاریخ کا تابندہ ستارہ ہیں، جس کی روشنی آنے والی نسلوں کو بھی سمت عطا کرتی رہے گی۔ آج بھی ان کا قلم ہمیں یہ صدا دیتا محسوس ہوتا ہے:”سچ لکھو، جرات سے لکھو، اور زمانے کے اندھیروں میں چراغ روشن رکھو۔”یہی ان کی حقیقی میراث ہے اور انہی اوصاف نے ان کی صحافت کو زندہ، مستند اور ناقابلِ فراموش شناخت عطا کی ہے۔
تحریر: ندیم اختر غزالی
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.