
زمین سورج کے گرد گھومنے والے سیاروں میں سے ایسا واحد سیارہ ہے جس پر زندگی پوری آب و تاب سے موجزن ہے اور انسانی بقاءکے لئے ایک بیش قیمت خزانہ ہے۔ 2025ءکے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت اس سیارے پر موجود انسانی آبادی 8.2 ارب کے لگ بھگ ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم میں شائع ہونے والی نک روئٹلے کی 2023ءکی ریسرچ کے مطابق اس سیارہ کا محض 14.6فیصد حصہ انسانی بود و باش اور تغیر و تبدل کا مسکن بنا ہے۔ قدرت نے اس سیارے کو پانی اور خشکی کے حسین امتزاج سے مزین کیا اور انسانی زندگی کو رونق بخشی۔ ہماری زمین کا 71فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے جبکہ 29فیصد خشکی پر۔ کسی بھی ملک کی ترقی میں اس کی معیشت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ عصر حاضر میں یہ بات عیاں ہے کہ دنیا میں وہی قومیں حکمرانی کرتی ہیں جو معاشی طور پر مضبوط ہوں۔ عالمی قوتیں دنیا کو عسکری لحاظ سے مسخر کرنے کی بجائے معاشی لحاظ سے فتح کرنے کے درپے ہیں۔ جس قدر ایک ملک معاشی طور پر مضبوط ہوگا اسی قدر دنیا میں اس کا اثر و رسوخ بھی اہمیت کا حامل ہوگا۔ کسی بھی ملک کی معشی ترقی کا راز اس کی تجارت پر منحصر ہوتا ہے اور سمندر کو تجارت کے لئے سب سے موزوں اور نمایاں مقام حاصل ہے۔سلطنت عثمانیہ کے ایڈمرل خیر الدین بارباروسا نے کہا تھا جو سمندر کو کنٹرول کرے گا وہی دنیا پر حکمرانی کرے گا۔ اسی طرح نظریئے کو مزید تقویت امریکی تاریخ دان الفریڈ تھائیرماہن نے دی جس نے کہا تھا جو بحر ہند کو کنٹرول کرے گا وہ ایشیا کو کنٹرول کرے گا۔بین الاقوامی تجارت میں سمندر کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے کیونکہ حجم کے لحاظ سے 80 فیصد اور مالیت کے لحاظ سے 70 فیصد بین الاقوامی تجارت سمندر کے ذریعے کی جاتی ہے۔یونائیٹڈ نیشن ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ کی رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ 2023ءمیں سمندر کے ذریعے 2.2ٹریلین یو ایس ڈالر کی بین الاقوامی تجارت کی گئی۔ دنیا میں 600 ملین لوگ اپنے روزگار کے سلسلے میں سمندروں سے وابستہ ہیں۔ یورپین کلسٹر کولیبوریشن پلیٹ فارم کی ریسرچ کے مطابق 2024ءمیں 80 فیصد اشیاءجن کا حجم بلحاظ وزن 12.35ٹن ہے، کی ترسیل بین الاقوامی منڈیوں میں سمندروں کے ذریعے کی گئی۔
سمندر کی نسبت زمینی اور فضائی راستوں سے تجارت تو کی جاتی ہے لیکن اس کیلئے کثیر سرمایہ اور افرادی قوت کے ساتھ ساتھ بہترین انفراسٹرکچر کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو کہ پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگا ترین عمل بھی ہے۔ تجارتی و تزویراتی نقطہ نظر سے سمندر کی اہمیت و افادیت کا یہ ایک مختصر سا تجزیہ تھا۔
سمندر کے ذریعے کی جانے والی تجارت بین الاقوامی سمندروں میں موجود مختلف ا ور نہایت اہم آبی گزرگاہوں سے کی جاتی ہے۔ یہ ایک قسم کی آبی شریانیں جن کی جیوپولیٹیکل و سٹریٹجک اہمیت سے انکار قطعی ممکن نہیں۔ یہ آبی گزرگاہیں سستی، پائیدار اور وسیع پیمانے پر تجارت کو ممکن بناتی ہیں۔ عالمی سمندروں میں موجود آبی گزرگاہوں میں سے وہ گزر گاہیں جو دنیا کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں اور مسلم ممالک سے وابستہ ہیں ان کی اہمیت و حیثیت پر روشنی ڈالیں گے۔ ان میں سے چند آبی گزرگاہوں
کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔آبنائے ہرمز، آبنائے ملاکا، آبنائے باسفورس، باب المندب، آبنائے جبل الطارق اورنہر سوئز۔خلیج فارس اور خلیج عمان کے دریمان ایک تنگ آبی گزرگاہ جہاں سے خلیجی ریاستیں تیل و گیس کے وسیع ذخائر عالمی منڈیوں تک ترسیل کرتی ہیں اس کے شمالی ساحلوں پر ایران اور جنوبی ساحلوں پر متحدہ عرب امارات اور عمان واقع ہیں۔ اس کی گہرائی اتنی ہے کہ یہ بڑے سے بڑے تیل بردار جہاز کے لئے مناسب و موزوں ہے۔یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن 2024ءکی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے روزانہ اوسطاً 20 ملین بیرل تیل کی ترسیل کی گئی جو کہ تیل کی بین الاقوامی ضرورت کا تقریباً 20 فیصد شمار کیا جاتا ہے۔آبنائے ہرمز سے سالانہ تقریباً 30 ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق قر کویت اور ایران جیسے ممالک اپنی تیل کی برآمدات کے لئے اس آبنائے پر انحصار کرتے ہیں۔ دنیا کے تقریباً 61 فیصد خام تیل کی ترسیل بحری راستوں کے ذریعے سے ہی کی جاتی ہے اور آبنائے ہرمز کی اہمیت ان راستوں میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے کیونکہ دنیا کا ایک چوتھائی خام تیل اسی آبنائے سے گزر کر دنیا تک پہنچتا ہے۔ یاد رہے خلیجی ریاست قطر دنیا کے تین بڑے ایل این جی برآمد کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے جو سالانہ دنیا کی 20 فیصد قدرتی گیس کی ضرورت کو پورا کرتا ہے فور ٹریڈ کے مطابق قطر70 فیصد سے زائد ایل این جی ایشین ممالک کو اور25 فیصد یورپین ممالک کو برآمد کرتا ہے۔ قطر 77ملین ٹن ایل این جی سالانہ آبنائے ہرمز کے ذریعے سے دوسرے ممالک کو برآمد کرتا ہے۔
مندرجہ بالا پیرائیوں سے آبنائے ہرمز کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ آبنائے ملاکا۔ یہ آبنائے بحراوقیانوس اور بحرالکاہل کو آپس میں ملاتی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ جزیرہ نما ملائشیا اور انڈونیشیا کے جزیرہ سماٹرا کے درمیان واقع ہے۔ یہ آبی گزرگاہ ایک نہایت ہی اہم اور نمایاں اہمیت کی حامل ہے، دنیا کی تقریباً 25 فیصد بحری تجارت اسی آبنائے کے ذریعے سے کی جاتی ہے۔ آبنائے ملاکا سے تقریباً 94000بحری جہاز سالانہ گزرتے ہیں۔ جیوپولیٹیکل مانیٹر میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق چین اپنا 80 فیصد خام تیل آبنائے ملاکا کے ذریعے سے ہی حاصل کرتا ہے۔ چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی قوت ہے جس کی وجہ سے اس آبنائے کی اہمیت اور بھی دوچند ہوجاتی ہے۔ جارج ٹاﺅن یونیورسٹی کی ایک رپورٹ 90 فیصد تجارت سمندری راستوں کے ذریعے سے کی جاتی ہے جن میں سب سے اہم اور نمایاں آبنائے ملاکا ہے۔ اگر کسی طرح آبنائے ملاکا کو بند کردیا جائے تو یہ صورت حال چین کے لئے انتہائی پریشان کن ثابت ہوسکتی ہے۔2023ءمیں اس آبنائے کے ذریعے 3.5ٹریلین یو ایس ڈالر کی تجارت کی گئی اور23.7 ملین بیرل خام تیل اور پیٹرولیم پراڈکٹس کی روزانہ کی بنیاد پر نقل و حمل کی گئی۔ اسی طرح جاپان کی ٹوٹل 40 فیصد تجارت ملین بیرل خام تیل اور پیٹرولیم پراڈکٹس کی روزانہ کی بنیاد پر نقل و حمل کی گئی۔ اسی طرح جاپان کی ٹوٹل 40 فیصد تجارت اور 80 فیصد خام تیل کی درآمدات اسی آبنائے کے ذریعے سے پوری ہوتی ہیں۔ اس آبنائے سے کئی ایشین ممالک مستفید ہوتے ہیں اور ان کی تجارت کا دار ومدار بھی اسی آبی گزر گاہ سے منسلک ہے جن میں چین، تائیوان، ویت نام، فلپائن، جاپان، جنوبی کوریا، انڈونیشیا، سنگاپور اور ملائشیا جیسے نمایاں اہمیت کے حامل ملک ہیں۔آبنائے باسفورس۔یہ آبنائے بحیرہ اسود (بلیک سی) اور بحیرہ مرمرہ (سی آف مرمرہ) کو آپس میں ملاتی ہے۔ یاد رہے یہ دنیا کی سب سے تنگ آبنائے ہے جو ترکی کے یورپی حصے رومیلیا اور ایشیائی حصے اناطولیہ کو الگ کرکے یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک آڑ قائم کرتی ہے۔ اس آبنائے کو آبنائے استنبول بھی کہا جاتا ہے۔ اس آبنائے سے ایک اندازے کے مطابق ایک گھنٹے میں پانچ بحری جہاز اور ایک دن میں تقریباً 133 بحری جہاز گزرتے ہیں۔ 2024ئ میں آبنائے باسفورس سے 43363 بحری جہاز رواں دواں رہے۔ دنیا کی تین فیصد تجارت آبنائے باسفورس کے ذریعے سے ہی کی جاتی ہے اور اس آبنائے کے ذریعے سے
بقیہ صفحہ 3پر
تین ملین بیرل خام تیل اقوام عالم کو پہنچایا جاتا ہے اس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ دنیا کا 25 فیصد اناج اسی آبنائے کے ذریعے سے برآمد کیا جاتا ہے کیونکہ روس، یورکرین اور قازقستان تین بڑے ممالک جو غلہ برآمد کرتے ہیں وہ یہی بحری راستہ استعمال کرتے ہیں تاہم قازقستان بحراسود کے علاہ اور بھی راستے اناج کی برآمد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ سی آف مرمرہ سے گزر کر بحر اسود کی جانب راہیں نکلتی ہیں اور بحر اسود کے گرد ممالک کی تجارت کے لئے آبنائے باسفورس انتہائی اہم ہے۔ اسی طرح روس کی تجارت بھی بحیرہ اسود سے گزر کر ابنائے باسفورس کے پانیوں کے ذریعے انتہائی اوہیمت کی حامل ہے کیونکہ روس کا شمالی ساحل (بحیرہ منجمد شمالی) سال کے زیادہ تر حصے میں منجمد رہتا ہے۔ بحیرہ اسود کے قریبی ممالک میں بلغاریہ، رومانیہ، جارجیا، یوکرین، روس اور ترکی واقع ہیں۔
نہر سوئز۔
163کلومیٹر طویل اور کم سے کم 300 میٹر چوڑی روئے زمین پر موجود ایک نہایت اہم آبی گزرگاہ جو بحیرہ روم کو بحیرہ قلزم سے ملاتی ہے نہر سوئز کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ نہر مصر میں واقع ہے۔ اس آبی گزرگاہ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ انسانی ہاتھوں سے وجود میں آئی جبکہ دنیا کی اکثر و بیشتر آبی گزرگاہیں قدرت کی طرف سے بنی نو ع انسان کو نعمتوں کی صورت میں ودیعت کی گئی ہیں۔ اس نہر کو دس سال کے طویل عرصہ میں مکمل کیا گیا جس میں 15 لاکھ لوگوں نے محنت و مشقت کو وطیرہ بنایا اور اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے تک دس ہزار کے قریب انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔یہ نہر یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس نہر کی وجہ سے بحری جہاز افریقہ کے گرد گردش کئے بنا یورپ اور ایشیا کے درمیان اشیا کی ترسیل کرسکتے ہیں۔ اقوام عالم کی تجارت کا 12 فیصد حصہ اسی کینال کے مرہون منت ہے۔ عالمی برادری کے 30 فیصد کنٹینر کی آمد و رفت اسی کینال کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ تقریباً سالانہ ایک ٹریلین یو ایس ڈالر کی اشیاءاس انتہائی اہم آبی گزرگاہ کی وجہ سے بین الاقوامی برادری کو ترسیل کی جاتی ہیں۔ تقریباً 50 سے 60 بحری جہاز روزانہ اس کینال سے گزر کر بین الاقوامی منڈیوں میں نوع بشر کی تسکیل کا باعث بننے والی اشیاءکو بہم پہنچاتے ہیں۔
آبنائے جل الطارق۔
سپین اور مراکش کے درمیان ایک انتہائی اہم آبی راستہ جو آبنائے جبل الطارق کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ بحیرہ روم اور بحیرہ اوقیانوس کو آپس میں ملاتا ہے۔ بریٹانیکا کے اعداد و شمار کے مطابق اس آبی گزرگاہ کی لمبائی 5 کلومیٹر اور چوڑائی 1.2کلومیٹر ہے۔ یہ دنیا کے سب سے قریب ترین مقامات میں سے ایک ہے جہاں دو براعظم (افریقہ و یورپ) ایک دوسرے کے انتہائی قریب ہیں۔ اس کا انگریزی نام جبرالٹر ہے جبکہ جبل الطارق عربی نام ہے جو بنو امیہ کے عظیم جرنیل طارق بن زیاد کے نام سے جبل الطارق کہلایا۔ جبل الطارق وہ مقام ہے جہاں طارق بن زیاد نے اپنے لشکر کی کشتیاں جلا دی تھیں اس خیال سے کہ اس کے سپاہیوں کے دل میں واپس جانے کا خیال نہ پنپ سکے اور وہ دیدہ دلیری سے لڑیں۔
جبل الطارق جدید دنیا کی تجارتی ضروریات کا سالانہ دس فیصد سے زیادہ حصہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے(Sam Algeciras) اور تقریباً ہر سال اوسطاً ایک لاکھ سے زیادہ بحری جہاز اس آبنائے سے گزرتے ہیں۔ یہ آبنائے افریقہ، ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان تجارت کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم آبی راستہ ہے۔
باب المندب
یہ آبی گزرگاہوں میں سے ایک انتہائی اہم اور مصروف ترین بندرگاہ ہے جس کے ایک طرف جبوتی تو دوسری طرف یمن واقع ہے یہ ایشیا کو براعظم افریقہ سے جدا کرتی ہے اور بحر ہند کو خلیج عدن سے جوڑتے ہوئے بحر احمر سے ملاتی ہے۔ مزید یہ بحرہند کو سوئز کینال کے ذریعہ سے بحر روم سے ملاتی ہے۔ تزویراتی لحاظ سے یہ نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
باب المندب عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے آنسوﺅں کا دروازہ۔ بحرہند سے آنے والے تیل کے ٹینکرز اور مال بردار بحری جہاز بحیرہ احمر اور پھر نہر سوئز تک پہنچنے کے لئے اسی آبی گزرگاہ سے گزرتے ہیں جہاں سے وہ یورپ اور امریکہ جانے کے لئے بحیرہ روم میں داخل ہوتے ہیں۔ باب المندب جدید دنیا کی وہ آبی شریان ہے جو دنیا کی 10 سے 12 فیصد تجارت کی ضامن ہے۔ دنیا کا 30 فیصد تیل بھی باب المندب اور نہر سوئز سے ہو کر عالمی تجارت کا حصہ بن جاتا ہے۔ 30 فیصد کنٹینر ٹریفک اسی آبی شہ رگ سے ہو کر انسانی حیات کو مستفید کرتی ہے۔ مزید براںٓ سمندر سے نکالے جانے والا 10 فیصد تیل بھی باب المندب سے ہوکر بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
وطن عزیز کی تقریباً 95 فیصد تجارت بھی سمندروں کے ذریعے سے ہی کی جاتی ہے۔ اس تناظر میں اگر پاکستان نیوی کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو یہ ہمہ تن اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے میں مگن ہے اور سمندر کے ذریعے وطن عزیز کے لئے کی جانے وعالی تجارت کو ہمیشہ سے چیلنج سمجھ کر اس کے لئے متعین راستوں کو محفوظ بناتی چلی آئی ہے۔ آبنائے ہرمز ہو یا آبنائے ملاکا یا پھر نہر سوئز ہو یا باب المندب غرض پاکستان نیوی ایسی تمام آبی گزرگاہوں میں کسی نہ کسی طرح ہمیشہ اپنے وطن کے مفادات کی خاطر موجود رہتی ہے۔