اسلام آباد:سواں گارڈن میں گھریلو ملازمہ 16 سالہ لڑکی کا گینگ ریپ

اسلام آباد(شبیرسہام سے)اسلام آباد میں حواء کی ایک اور بیٹی مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بن گئی۔ 16 سالہ گھریلو ملازمہ کو سواں گارڈن اسلام آباد میں واقع بنگلے کے مالک اور اس کے ساتھی نے پانچ روز تک مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ معاملہ کھلنے کے خوف سے ملزمان نے متاثرہ لڑکی کو اپنے تیسرے ساتھی کے ذریعے شہر بدر کروا دیا۔ متاثرہ لڑکی جب کراچی پہنچی تو وہاں بھی دو ملزمان اسے نوچتے رہے۔ پھر اس کا زبردستی نکاح بھی پڑھوا دیا گیا۔

دوسری طرف اسلام آباد میں بچی کے ورثاء نے بچی کی گمشدگی پر تھانہ لوہی بھیر پولیس کو درخواست دی تو بنگلے کے مالک حارث بن طاہر نے پولیس سے سازباز کرکے تھانہ لوہی بھیر میں ایک مقدمہ نمبر 677/25 درج کرایا۔ یہ مقدمہ متاثرہ بچی کی والدہ شمیم مائی کی مدعیت میں زیر دفعہ 365B کے تحت درج کرایا گیا۔ اس مقدمہ میں بچی سمیہ پر الزام لگایا گیا کہ وہ مالک مکان کا 27 لاکھ روپے مالیتی قیمتی سامان چرا کر گھر سے بھاگ گئی ہے۔ اس ایف آئی آر میں عبدالمنان نامی شخص اور تین نامعلوم افراد کا بھی ذکر کیا گیا۔ لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ بنگلے کے مالک حارث نے پولیس کے ساتھ مل کر درج کرایا۔

تین ماہ بعد لڑکی بازیاب تو ہوگئی لیکن 27 لاکھ مالیت کے سامان چوری کا معاملے پر نہ تو تفتیش ہوسکی اور نہ ہی ریکوری۔ اور نہ ہی بنگلے کے مالک کی جانب سے اتنی بڑی چوری پر واویلا مچایا گیا۔ متاثرہ لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ مجھے مجبور اور ہراساں کیا گیا تھاکہ جب تک ایف آئی آر میں چوری کا ذکر نہیں ہوگا، تمہاری بچی تمہیں نہیں ملے گی۔

بچی کی والدہ کا مزید کہنا ہے کہ بچی کی بازیابی کے بعد حقیقت کھلی کہ بنگلے کا مالک حارث بن طاہر اور اس کا قریبی ساتھی پانچ روز تک بچی کے ساتھ زیادتی کرتا رہا پھر اپنا جرم چھپانے کے لئے بچی کسی اور کے حوالے کرکے اسے کراچی پہنچایا گیا جہاں اس پر مزید ظلم ہوتا رہا۔ اب پولیس ان بااثر ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کو تیار نہیں۔ متاثرہ بچی اور اس کی والدہ نے وزیر داخلہ، آئی جی، ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی ایماندار پولیس آفیسر سے انکوائری کرواکر ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔