اسلام آباد میں گیبیکا کیپسول کا منشیات کے طور پر استعمال

اسلام آباد میں “گیبیکا” کیپسول کا خطرناک استعمال، نوجوانوں میں منشیات کے طور پر رواج، گردوں کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ


سہالہ(حماد چوہدری)اسلام آباد میں “گیبیکا” نامی کیپسول، جو مبینہ طور پر اعصابی امراض کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے، آج کل نوجوانوں میں خطرناک حد تک منشیات کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بچے اور نوجوان اس کیپسول کو انرجی ڈرنکس (اسٹنگ وغیرہ) میں ملا کر پی رہے ہیں، جس کے باعث ان میں گردوں کے شدید امراض پیدا ہو رہے ہیں۔طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نشے کے مسلسل استعمال سے متعدد نوجوانوں کے گردے ناکارہ ہو چکے ہیں اور کئی متاثرہ افراد اسپتالوں میں آخری اسٹیج پر زیرِ علاج ہیں، جو کہ ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ “گیبیکا” سمیت اس نوعیت کی ادویات کی کھلے عام فروخت پر فوری پابندی عائد کی جائے، اور فارمیسی مالکان کو سختی سے پابند کیا جائے کہ یہ کیپسول صرف مستند ڈاکٹر کی تحریری پرچی پر ہی فراہم کیے جائیں۔مزید برآں ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن فیز 4 میں واقع ریلائنس اسپتال کی ایک فارمیسی مبینہ طور پر یہ کیپسول کھلے عام فروخت کر رہی ہے، جس پر فوری نوٹس لینے اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔شہریوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کیے جائی۔