تحریر:ڈاکٹر صباء فردوس ستی
مینٹل ہیلتھ سے مراد دماغ کی صلاحیت ہے کہ وہ کس حد تک ڈپریشن و ذہنی تناؤ کو برداشت کر سکتا ہے ذہنی تندرستی نارمل زندگی بسر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے آج کل کے ماحول میں جہاں پریشانیوں کے ہزاروں سامان موجود ہیں اپنی ذہنی صحت کو بہتر رکھنا انتہائی ضروری ہے گھریلو پریشانیاں‘ مالی حالات کی تنگی‘ خاندانی فکریں ذہنی صحت پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہیں ذہنی توازن کو بہتر رکھنے کے اقدامات‘بنیادی لیول پر گورئمنٹ کی جانب سے اور گھریلو لیول پر ہمارے اردگرد موجود لوگوں کی جانب سے ضروری ہیں ذہنی صحت کا جسمانی صحت سے بہت گہرا تعلق ہے جسمانی کمزوری انسان میں محرومی کے تناظر کو جنم دیتی ہے تو ذہنی و جسمانی صحت دونوں کو بہتر رکھنے کیلئے انتہائی ضروری ہے کے انسان روزانہ کی بنیاد پر ورزش کرے،اپنی خوراک اور کھانے پینے کا خاص خیال رکھے۔خود کو اُن تمام چیزوں اور انسانوں سے دور رکھیں جو آپکے لیے ذہنی پریشانی کا باعث بنتے ہیں اور اُن تمام لوگوں کے ساتھ ذیادہ سے ذیادہ وقت گزارنے کی کوشش کریں جنکی کمپنی آپکو سکون دیتی ہے اور اسلامی نقطہ نظر سے بات کروں تو ہر پریشانی اور ڈپریشن کا بنیادی حل نماز میں ہے جب بھی پریشانی محسوس کریں دو رکعات نماز نفل ادا کر کے اپنے تمام معاملات اپنے رب سے ڈسکس کریں اور سب سے بڑھ کر آج کل کے دور میں ڈپریشن کی بنیادی وجہ خود کا دوسروں سے موازنہ کرنا ہے جب کبھی لگے کے آپکے پاس کسی چیز کی کمی ہے تو گھر سے نکل کر باہر فٹ پاتھ پر سونے والے لوگوں پر ایک نظر کریں یقین مانیں آپکو اپنے حالات ایک دنیا سے بہتر لگیں گے مینٹل ہیلتھ کو بہتر کرنے کے لیے سب سے اہم بات کے آپکے پاس جو ہے،اپ جہاں ہیں وہاں خوش اور مطمئن رہنے کی کوشش کریں کیونکہ موازنہ ذہنی تناؤ کو جنم دیتا ہے اور ذہنی تناؤ اپنے آپ میں ہی بہت سی بیماریوں کی جڑ ہے۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.