عدم برداشت کے اثرات و نتائج


تحریر حافظ ظفررشید
دین برحق دین اسلام امن امان سلامتی رحمت اور برکت والا دین ہے اسی لئے دین اسلام نے ہر عنوان پر قدم قدم پر انسان کی راہنمائی کی اس کی اصلاح کی اسے اخوت محبت شفقت صبر وتحمل برداشت جیسی صفات کی تعلیم دی عملی طور پر خود رحمت دوعالمﷺ نے انسانوں کے ساتھ رحم عفو درگزر شفقت اور رحمت والا معاملہ کرکہ اسکی اہمیت اور حسن میں مزید اضافہ کردیا یہی وجہ ہےکہ کسی بھی مہذب معاشرہ میں انسانیت کا ایک مضبوط ناختم ہونے والا رشتہ محبت احترام رواداری احساس ہمدردی حسن سلوک صبر وتحمل عدل وانصاف صداقت شرافت جیسی صفات سے مضبوطی سے جڑا ہوتاہے

یہ وہ صفات ہیں جو اس معاشرے کی ناصرف پہچان کراتے ہیں بلکہ ان صفات سے معاشرہ کی خوبصورتی میں بھی اصافہ ہوتاہے انسان کے اپنے وقار قدرو منزلت میں اضافہ کرتی ہیں اگر انسانی معاشرے میں اختلاف رائے بھی خوشگوار اور پُرسکون ماحول میں چلتے رہیں تو یقینا وہ معاشرہ انسانی ہمدردی امن و سلامتی راحت و سکون کا گہوارا بن جاتاہے دلوں میں محبت شفقت کی جگہ برقرار رہتی ہے ایک دوسرے کے دکھ درد سکھ چین کے لمحات ایک خوبصورت وقت میں قید ہو جاتے ہیں لیکن جب اس معاشرے میں ان صفات کے خلاف دیگر برائیاں جنم لینے لگ جائیں ذہنوں میں وسوسہ اور انتشار پھیلنا عام ہو جائے خاص کر عدم برداشت جیسی بیماری کسی میں سرایت کرجائے تو اس کی تباہی وبربادی یقینی ہے اگر اس سے بڑھ کر اس معاشرہ میں عدم برداشت کی مہلک بیماری پھیل کر عام ہو جائے توپھر یہ بیماری صرف معاشرہ تباہ نہیں کرتی بلکہ اخلاقی جسمانی روحانی ذہنی علاقائی عالمی سیاسی و سماجی حتی کہ ہر طرح سے انسانیت کو انسانی معاشرے کو تباہ کردیتی ہے

یہ ایک ایسی بیماری ہے جو سامنے والے سے اختلاف رائے کا احترام بھول جاتی ہے اسکے طرز زندگی سے اختلاف میں غم وغصہ سیکھاتی ہے جس سے انسان دوسروں کی رائے بھول کر اسکے عقائد نظریات طرز زندگی اور طرز گفتگو کو برداشت کرنےکی صلاحیت سے محروم ہو جاتاہے اسکے بعد وہ انسان بغض حسد کینہ بدلہ انتقام کی آگ میں جلنے لگتا ہے یہ انتہائی اہم عنوان ہے جس پر اسلام نے خصوصی توجہ دلائی ہے

جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے لوگوں سے درگزر کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہےجولوگ آسودگی میں خرچ کرتے ہیں غصہ کو روکتے ہیں اور لوگوں کے قصور کو معاف کرتے ہیں اسی طرح حدیث شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا طاقت ور وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہے غصہ پر قابو پالے ایک دوسرے جگہ ارشاد فرمایا مسلمان وہ ہے جسکے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ابتدائی دور میں کسی سے اختلاف رکھنا نا ہی عیب تھا اور ناہی اسے ذاتی دشمنی کی بنیاد سمجھا جاتا تھا اگر چہ وہ دینی معاملات ہوں یا دینی اس کو بنیاد اور اپنی انا کا مسئلہ بنا کر ناہی کسی کی توہین کی جاتی تھی بلکہ اس دور کے لوگ اصلاح کرنے والےکو اپنے لئے محسن سمجھتے تھے اس کی طرف متوجہ کرنے والے کے شکر گزار ہوتے تھے

لیکن گزرے وقت کے ساتھ اس میں تبدیلی آنے لگی لوگوں کی سوچ وفکر بدلنے لگی اس میں شدت نظر آنے لگی بات کی اہمیت کو نظر انداز کیا جانے لگا متوجہ کرنے والے کو دوست اور خیر خواہ سمجھنے کی بجائے دشمن سمجھا جانے لگا رائے کو بوجھ تصور کیا جانے لگا یوں عدم برداشت رائے کی جگہ لینے لگی اگرچہ غصہ انسان کے مزاج کا حصہ ہے لیکن غصہ میں غلط فیصلہ نقصان دہ ہے اس وقت انسان کو صبر وتحمل درگزر اور برداشت کی سخت ضرورت ہوتی ہے اسکے اظہار کے وقت ایسا قدم ہرگز نہیں اٹھانا چاہیے جس میں بعد میں سوائے پریشانی ندامت اور پچھتاوے کے کچھ حاصل ناہو غصہ اور عدم برداشت سے معاشرہ ٹوٹ جاتاہے انسان بکھر جاتا ہے خون کے رشتوں کا تقدس پامال ہوتاہے خاندان تباہ ہو جاتے ہیں

غصہ میں قتل وغارت گری تک کی نوبت آجاتی ہے میاں بیوی میں جدائی ہو جاتی ہے بھائی بھائی کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتاہے والدین اور اولاد کے رشتہ کا تقدس پامال ہو جاتاہے دوست دشمن بن جاتے ہیں اپنے پرائے ہو جاتے ہیں جان نچھاور کرنے والے جان کے دشمن بن جاتے ہیں غصہ اور عدم برداشت کی ابتداء حماقت سے اور اختتام ندامت اور شرمندگی پر ہوتاہے اسی وجہ سے تو اسلام نے درگزر کا معاملہ کرنے کی ترغیب دی غصہ پی جانے کی فضیلت بیان کی حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی مجھے نصیحت کیجئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا غصہ نا کیا کر بار بار سوال کرنے پر یہی جواب دیا گیا دوسری جگہ حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمایا پہلوان وہ نہیں جو سامنے والے کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے قرآن مجید میں بھی ارشاد باری تعالیٰ ہے انہیں چاہیے معافی اور درگزر سے کام لیں

قرآن مجید اور حدیث رسول نے اس عنوان پر واضح الفاظ میں انسانوں کی راہنمائی کی اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیاجائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہےکہ اسلام سے راہنمائی کی جائے تو مسلمان کی زندگی میں نکھار پیدا ہوتاہے اسکے اخلاق کو سنوارتا ہے اسکی عملی زندگی میں توازن برقرار رہتا ہے اعتدال سے چلنا سیکھاتا ہے اگر انسانی معاشرے کی اصلاح کی بات کی جائے تو امن وامان میں صداقت سخاوت الفت محبت شفقت خیر خواہی کا بہت بڑا کردار ہے امن وسکون والی زندگی میں صبر وتحمل برداشت کا گہرا اثر ہوتاہے دین اسلام کی خوبصورتی دیکھئے کہ اسلام نے امن کا پیغام دیا صبر کی تعلیم دی کیونکہ اگر ہر شخص بدلہ لینے پر آجائےتو یہ دنیا انسانیت کے لئے جہنم بن جائے لیکن آج موجودہ دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ان مسائل میں صورتحال انتہائی تشویش ناک حالت اختیار کرچکی ہے

ذرا سی بات ہے کسی بھی ناپسندیدہ بات پر لڑائی جھگڑا عام ہے حتی کہ بعض اوقات معمولی تلخ کلامی پر بھی انسان کا قتل کردیا جاتاہے جسکے متعلق قرآن نے کہا جس نے ایک قتل کیا اس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کردیا معاشرے کہ ان تلخ حقائق نے اس بات کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ دن رات ہم بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں اسکی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں اسکے انعامات پر ناشکری کرتے ہیں لیکن وہ خالق و مالک دو جہاں ہمارے اوپر فوری عذاب نازل نہیں کرتا نا کی اسی وقت ہمیں پکڑتا ہے نا ہی بداعمالیوں کی وجہ سے گرفت کرتا ہے بلکہ وہ مہلت دیتا ہے کہ یہ بندہ کسی وقت بھی لوٹ کہ آجائے میں اسکو معاف کردوں

ارشاد باری تعالی ہے انہیں چاہیے معافی اور درگزر سے کام لیں لہذا رواداری فرخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اخلاص محبت شفقت ایثار قربانی درگزر جیسی صفات اپنانے کی اہم ضرورت ہے کیونکہ یہ صفات صرف انسان کی ذات تک محدود نہیں بلکہ معاشرہ کے حسن اور اسکی خوبصورت میں اضافہ کرنے میں بھی اہم ثابت ہوں گی جس سے معاشرے میں امن و امان کی فضاء برقرار رہے گی